254

زندگی بھی دوبارہ ٹیلی کاسٹ ہوتی ہے ۔۔۔۔ (ظہور اعوان)

تحریر: ظہور اعوان۔

جیسا کہ کچھ دوستوں کے علم میں ھے کہ میں (ظہور اعوان) جو آج کل محکمانہ کورس کے سلسلے میں ضلع ساہیوال سے پولیس ٹریننگ سکول سرگودھا ہوں اور یہاں سکول کا لفظ بڑے دلچسپ معنی بیان کر رہا ہے۔ کیونکہ اول کلاس سے لیکر دہم تک کی جو عمر ہوتی وہ تقریبا” اک بے لگام گھوڑے کی سی مانند ہوتی ہے اور والدین اس عمر میں بچے کو سدھارنے اور اسکو دین و دنیا سے روشناس کروانے میں جس ادارے کی مدد حاصل کرتے ہیں اس کو سکول کہا جاتا ہے۔اس کے بعد ہر انسان اپنی عقل شعور قابلیت کے مطابق کالجز یونیورسٹیز تک جاتا ہے پھر عملی زندگی شروع ہو جاتی۔

شادی بچے نوکریاں کاروبار مطلب دنیا داری میں انسان ایسا مگن ہوتا کہ بچپن لڑکپن اور سکول کی زندگی اک خواب لگتی اور بہت کم لوگوں کے خواب شرمندہ تعبیر ہوتے ہیں اور ان خوش قسمت لوگوں میں ہم بھی شامل ہوگئے کیونکہ اس تصویر میں ہم قانون کی کتابیں پڑھنے کیلیے تیار ہیں۔

سب سے پہلے ہم تیار ہوتے ہیں پھر یونیفارم پہن کر کتابیں ہاتھ میں تھامے لائن بنا کر سکول پہنچتے ہیں جہاں باقائدہ گھنٹی (ٹلی) سنائی دیتی ہے پھر اسمبلی ہوتی جس میں آغاز اللہ تبارک و تعالی کے پاک نام سے ہوتا ہے پھر آقا دو جہاںؐ کی شان بیان کی جاتی پھر جنرل موضوع پر باری باری سب کو لب کشائی کرنے کا موقع ملتا ہے اس کے بعد اردو اور انگریزی خبریں پھر اسمبلی اختتام کو پہنچتی ہے۔ ہم لوگ لائن بنا کر کلاس میں پہنچتے ہیں جہاں پہلا پریڈ انتہائی شفیق اور قابل آفیسر انسپکڑ عمردراز گلوتر صاحب کا ہوتا جو حاضری لیتے اور ڈانٹ کر پیچھے بیٹھنے والوں کو اگلی نشتیں پوری کرنے کو کہتے ہیں۔ بغیر ٹائم ضائع کیے اوووو۔۔ بچو کتابیں نکالو نوٹ بکس نکالو پھر جاوید آف راجن پور (محبتوں کا سفیر) جو کہ ہمارا کلاس فیلو ہے جس کو سبق پڑھنے کو کہا جاتا ہے جو میٹھے سرائیکی لہجے میں اردو کمال پڑھتا ہے اس دوران اکثر دوست وہ بچپن والی شرارتیں کرتے نظر آتےہیں اور انسپکڑ صاحب کا ڈانٹنا اور اور ڈانٹ میں چھپی محبت اور شفقت واضع جھلکتی ہے۔ اور جاوید کی پڑھائی کے دوران اک دم گلوتر صاحب بولتے ہیں خاموش بچے ۔۔۔۔۔ پھر ان کتابی الفاظ کی آسان الفاظ میں تشریح اور پیار سے نوٹ کروانا گلو تر صاحب کا اپنا انداز ہے۔

اس کے بعد اگلا پریڈ اسد بخاری صاحب جو اپنے نام کی طرح لاثانی ہیں جن کا شفقت محبت درد دل اور مٹھاس سے پھرپور لیکچر دل و دماغ تک سرائیت کر تا ہے۔ خیر پھر تفریح چھٹی سب ماضی بعید جو کہ آنکھوں کے سامنے سے گزرتا ہوا ماضی قریب کا حصہ بنتا چلا جاتا ہے اور میں خود کو خوش قسمت سمجھتا ہوں جس کو بچپن اور سکول کی زندگی کی جھلک دوبارہ دکھائی دی۔ اس طرح زندگی دوبارہ ٹیلی کاسٹ بھی ہو جاتی ہے کبھی کبھی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں