280

لالچ بری بلا ہے …. (ڈاکٹر فیاض احمد)

تحریر: ڈاکٹر فیاض احمد

پرانے زمانے کی بات ہے کہ ایک بادشاہ تھا جو اپنے لوگوں کو دربار میں بلا کر سوالات کرتا اوردرست جواب پر ان کو مختلف انعامات دیتا تھا، ایک دفعہ بہت ہی مختلف ہوا بادشاہ کے دربار میں اس دفعہ وزیر کی باری تھی جب بادشاہ نے سوال کیا وزیر نے فوراً جواب دے دیا جس پر بادشاہ نے خوش ہو کر وزیر کو انعام میں کہا کہ صبح سے شام تک جتنا گول دائرہ زمین کا ڈال لو گے اتنی زمین تمھاری ہوگی وزیر یہ سن کر خوش ہوا.

اگلے روزوزیر طلوع آفتاب کے ساتھ ہی گھر سے نکلا اور زمین کا گول دائرہ لگانے لگا وزیر چلتا گیا اور دل میں سوچتا گیا کہ ابھی واپسی کا راستہ لے لوں لیکن پھر سوچتا کہ ابھی دن کافی با قی ہے تھوڑا اور تھوڑا اور اسی کشمکش میں وہ بہت دور نکل گیا اور جب سورج ڈھلنے لگا تو وہ واپسی کا راستہ طے کرنے لگا لیکن سورج کی رفتار اس کی رفتار سے تیز ہوتی گی وہ دوڑنے لگا تو سورج ایسے لگا کہ جیسے بھا گنے لگاہے اس کے چہرے پر پر یشانی اور پشیمانی تھی کہ وہ اپنا دائرہ مکمل کر پائے گایا نہیں اور اگر نہ کر پایا تو اس زمین سے محروم ہو جائے گا، تو اس نے تیزی سے دوڑنا شروع کا مگر سورج کے غروب ہونے کی رفتار کا مقابلہ کرنا اس کے بس میں نہ تھا، یہاں تک کہ سورج غروب ہونے کے قریب آگیا اور اس نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر دوڑ نے میں کسر نہ چھوڑی حتیٰ کہ سورج غروب ہوگیا اور اس وقت وزیر بے ہوشی کے عالم گر گیا تو اسکی ٹانگیں اختتام نقطہ پر اور اس کے ہاتھ شروع والے نقطے پر تھی یعنی وزیر کے لالچ کی یہ انتہا اور اختتام دیکھ کر لوگ حیران ہوئے دیکھنے پر پتہ چلا کہ وزیر کی جان اس کے جسم سے پر واز کر چکی تھی

اس کی قبر اسی جگہ بنائی گئی جہاں وہ گرا تھا اس بات سے ثابت ہوتا ہے کہ زندگی کا بھروسہ نہیں ہے لیکن ہم میں لالچ کی انتہا اتنی بھرپور ہے کہ آئے دن ہم اور زیادہ حاصل کرنے کی جستجو میں مصروف عمل رہتے ہیں جب کہ ہمیں اپنی زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں، ہم زندگی کی جستجو میں دور نکل جاتے ہیں کہ ہمیں اپنی واپسی کا پتہ نہیں چلتا کہ ہم کہاں پہنچ گئے ہیں اور اس وقت ہمارے پاس واپسی کا راستہ نہیں ہوتا.

یہ دنیا ایک کار خانہ ہے اور ہم اس کے مزدور ہمیں اس کارخانے کا مالک بننے کی ضرورت نہیں، تا ہم، ہم مالک بننے کی جستجو میں مزدور ہی ریٹائرڈ ہو جاتے ہیں اور خواہشات ختم نہیں ہوتیں اور زندگی ختم ہو جاتی ہے لہذا ہمیں چاہیئے کہ ہم زندگی کو خوبصورت بنائیں اور لالچ کی زندگی سے اجتناب کریں.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں