336

سائنسی تعلیم، اصطلاحات، انگریزی اور اردو…. (میاں عمردرازہانس)

انتخاب: میاں عمردرازہانس

سائنسی تعلیم میں اصلاحات بیان کی جاتی ہیں۔ پھر ان کی تعریف، توضیح اور تشریح کی جاتی ہے۔ نکتے پر نکتہ بیان کیا جاتا ہے اور اس طرح نئے نئے تصورات و خیالات طالب علموں کے اذہان میں منتقل کئے جاتے ہیں۔

جہاں تک اصطلاحات کی بات ہے یہ جامد الفاظ ہوتے ہیں اور اپنی تعریف و توضیح کے محتاج ہوتے ہیں۔ معاملہ اصطلاحات کا نہیں ہوتا ان کی تعریف و توضیح و تشریح کا ہوتا ہے۔ بیشتر سائنسی اصطلاحات یونانی، لاطینی، فرانسیسی اور عربی سے لی گئی ہیں اور زیادہ تر جوں کی توں لے لی گئی ہیں۔ جب ان کی تعریف و توضیح و تشریح کا وقت آتا ہے تو اپنی اپنی زبان کا سہارا لیا جاتا ہے۔ ساری دنیا میں اسی اصول پر عمل کیا جاتا ہے۔

پاکستان کا باوا آدم ہی نرالا ہے۔ یہاں پر اصطلاحات کے ساتھ ساتھ ان کی تعریف و توضیح بھی غیر ملکی زبان میں کی جاتی ہے، یہی خرابی کی جڑ اور سائنسی علوم تک طالب علموں کی رسائی اور فہم میں رکاوٹ ہے۔ اصطلاحات کا تو مسئلہ ہی نہیں ہے۔ ہاں ان کی تعریف و توضیح اور تشریح اردو میں کر دی جائے ہمارے تمام علمی مسائل حل ہو جائیں گے۔ مگر کیا کسی کو اس بات کی چاہت بھی ہے؟

خیال رہے، طب، قانون، ریاضی، جیومیٹری، علوم حیاتیات، ارضیات، فلکیات، طبیعی و کیمائی علوم کی اصطلاحات میں شاید ہی کوئی انگریزی سے لی گئی ہو۔ یہ ہمارے کلی جاہل اور تعلیم و تدریس سے یکسر نابلد خود ساختہ ماہرین کا خیال ہے کہ ان علوم کی تعلیم صرف انگریزی میں دی جا سکتی ہے۔ بالخصوص ریاضی کی تعلیم انگریزی میں دے کر جس طرح اس علم کی جڑ کاٹی جا رہی ہے اس سفاکی کا تصور کر کے ہی روح کانپ اٹھتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں