292

غزل ۔۔۔۔ (شگفتہ یاسمین، چیچہ وطنی)

(شاعرہ: شگفتہ یاسمین، چیچہ وطنی)

بس تقدیر نے مجھ کو گھیرا ہے اور تو کچھ نہیں ہے
سب آزمائش کا ہرسو ڈیرا ہے اور تو کچھ نہیں ہے

ہار جائے جو نصیب اپنا تو کسی اور پہ کیا دوش
بُرے حالات کاہی گھمن گھیرا ہے اور تو کچھ نہیں ہے

ملتی ہیں چاہتیں یہاں مل کر بھی نہیں رہتی قدر اکثر
صرف نہ ملنے کا ہی دکھ بتہیرا ہے اور تو کچھ نہیں ہے

اُس کی صفت تھی عشقِ زن بدلنا روز و شب
اُسکی اسی عادت نے مجھے بکھیرا ہے اور تو کچھ نہیں ہے

کاش کہ اک چاہت پہ ٹھہر جائے اُسکی جوانی کی طغیانی
نفس اُسکے پر صرف ہوس کا بسیرا ہے اور تو کچھ نہیں ہے

میری چاہت کو سمجھا ہے اُس نے رعایا کی عزت کی مانند
لاکھ چاہتیں سما کے دل میں وہ انا کاوڈیرا ہے اور تو کچھ نہیں ہے

بچھنا ہر زن کے آگے تو اُس کی عادت تھی پُشتی سی
میں نے سمجھا تھا کہ وہ بس میرا ہے اور تو کچھ نہیں ہے

جائے گا خالی ہاتھ وہ کرکے رائیگاں جسم و روح اپنا
رہا جو اس جہاں میں دلوں کا لُٹیرا ہے اور تو کچھ نہیں ہے

دنیا سمیٹ لینے کی آماہ جگہ سمجھے ہے ہر نفس یہاں
ہر شخص کہتا پھرتا، میرا میرا ہے اور تو کچھ نہیں ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں