217

پاکپتن: ملازمت کاجھانسہ دےکر مبنہ طور پر اغوا کے بعد 13 سالہ لڑکی کے ساتھ اجتماعی زیادتی، مقدمہ درج نا ہوسکا.

پاکپتن (افتخار بھٹی سے) اوباشں نوجوانوں نے مبینہ طور گھریلو ملازمت کا جھانسہ دے کر13سالہ یتیم بچی کو اغواء کر کے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا.

تفصیلات کے مطابق نئی آبادی ملک پور کی رہائشی نسرین اختر دختر محمد یٰسین وٹو نے بتایا کہ ہ یتیم ہیں اور لوگوں کے گھروں میں کام کاج اور محنت مزدوری کر کے گزر بسر کرتے ہیں، وقوعہ کے روزچک نمبر 12 رینالہ خورد کے رہائشی ملزمان محمد شوکت ارائیں اور عرفان بھٹی تین کس جو میرے جاننے والے تھے میرے گھر آئے اور میری ہمشیرہ سونیا بی بی کو گھریلو ملازمہ کی نوکری دینے کی بات کی میں نے ضمانت کی شرط رکھی اور مشروب لینے چلی گئی، اسی دوران ملزمان نے میری ہمشیرہ سونیا بی بی کو رومال کے زریعے بے ہوش کر دیا اور گاڑی میں اغواء کر کے اوکاڑہ کے علاقہ رینالہ خورد لے گئے اور 13سالہ معصوم نابالغ بچی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، ملزمان بچی کے ہاتھ پاؤں باندھ کر پاکپتن آرہے تھے کہ تھانہ فرید نگر پولیس نے ملزمان کو پکڑ لیا کار سمیت تھانے میں بند کر دیا اور زیادتی کا شکار 13 سالہ سونیا بی بی کو ورثاء کے حوالے کر دیا نسرین اختر نے بتایا کہ ہم نے میڈکولیگل حاصل کر لیا ہے تاہم ابھی تک مقدمہ درج نہیں ہوا، نسرین اخترنے چیف جسٹس آف پاکستان وزیر اعلیٰ پنجاب آئی جی پنجاب آر پی او ساہیوال ڈی پی او پاکپتن سے مطالبہ کیا ہے کہ مقدمہ درج کر کے ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں