430

زخمی کشمیری بچے کی مسکراہٹ بھارت کے منہ پر تھپڑ

مرسلہ: ایم ندیم جھرڈ

———————————————————————————
نوٹ: ماہنامہ “بریلینٹ” میں تحریر جذبہ امن ومحبت کے تحت شائع کی جا رہی ہے اور تمام اہل محبت سے درخواست ہے کہ اس تحریر کو اپنے تمام دوستوں، رشتہ داروں، جاننے والوں کے ساتھ شٸیرکریں۔ واٹس ایپ فیس بک ہر سوشل میڈیا میں پھیلا ئیں۔ بھارت کے ہر سکول ہر معلم ہر فوجی ہر ڈاکٹر ہر صحافی کے موباٸل میں یہ تحریر اور تصویر پہنچے اور ایک دفعہ سوچیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ اگر ضمیر اجازت دے تو اسے پڑھ کر شٸیر ضرور کریں۔ تاکہ جو چیز بھارتی میڈیا نہیں دیکھا رہاہم انہیں وہ اصل دیکھاٸیں۔ کشمیر کے ہر گھر تک یہ پیغام پہنچے۔ شکریہ
———————————————————————————

,A nation will not be judged
by the color of their skin
.but by the content of their characte

کسی قوم کی فتح کے لیے میدان جنگ میں بھی اس کے اصول دیکھے جاتے ہیں۔
چند دنوں سے چند تصاویر گردش میں ہیں جو آپ نے سوشل میڈیا پر دیکھی ہوں گی یہ تصویر کہانی سچی ہے اور بزدل بھارت کی بزدلی اور کشمیر کے زندہ دل فزاخ حوصلہ کی نمایاں ثبوت ہے۔ بھارت والو تم خود کو انسان کہنا چھوڑ دو۔
حیرت کی بات ننھے بچوں کے گریبان پکڑ کرتم خود کو بہادر کہتے ہو۔

دیکھو دیکھو اس بچے کی مسکراہٹ

دیکھو دیکھو اس ننھے بچے کی مسکراہٹ تمھارے منہ پر زور دار تھپڑ ہے۔ تمھاری ماوں نے تمھیں پیدا تو کر دیا مگر حوصلہ اور غیرت نہیں دی۔ تمھارے فوجی بوڑھوں پر لاٹھی برسا کر سمجھتے ہیں انہوں نے اپنی آرمی کی دی ٹرینگ کا حق ادا کر دیا ۔ تم پر تو جوانی بھی شرمندہ ہے تم نے بھارت آرمی جاٸن کی۔ گھر جا کر ماں کوکیا بتاتے ہو اماں میں نے چھ بچوں کو تھپڑ مارا……ابا دیکھ تیرا جوان بیٹا کٸی عورتوں کوڈنڈے سے پیٹھ کر آیا ہے……بہن دیکھ ۔شاباش دے تیرا بھاٸی کٸی دوشیزاوں کے کپڑے پھاڑ کر آیا ہے……کاش کاش کاش!!!

*مھارے بھارت کا کوٸی ادیب تمھیں بتاتا کہ براۓ مہربانی تم کسی بھی ملک کی آرمی کے نام پر ایسا داغ ہو جو دو بار نہیں سہہ بار بھی دھویا جائے نہیں صاف ہو گا اس لیے میرا بیٹا تم آرمی چھوڑو دوبارہ سے ماوں کی گود کو جاٸن کرو۔ کچھ غیرت کا دودھ پیو۔ کچھ حیا کی گڑھتی۔ کچھ انسانیت کی لوری۔ کچھ عزت کے معنی۔ کچھ حقیقی بہادری اور ہمت کی لوریاں لو۔ میں تو حیران ہوں اس بھارت کے ادیبوں صحافیوں پر کیا ان کے ہاں کوٸی حرمت قلم کا پاسبان پیدا نہیں ہوا۔ جو حقیقت حال پر روشنی ڈالے اور ظلم کا معنی سمجھے۔

سوال صرف ایک آرمی پر نہیں سکولوں میں دی جانےوالی شکشہ تعلیم پر بھی اٹھتا ہے کیا بھارت کے نصاب میں انسانیت امن سلامتی انصاف والے سب سبق ختم کر دٸیے گٸے ہیں۔ سوال معلمین کی تدریس پر بھی اٹھتا ہے کیا ان کے ہاں بہادری کی یہ ہی تعریف ہے کیا محبت کا درس پڑھانے والے معلمین ماوں نے پیدا کرنا چھوڑ دیے ہیں۔ یہ ڈاکٹر محمد اعظم رضا تبسم کے نہیں اس تصویر میں نظر آنے والے اس خون آلود بچے کی طنز بھری مسکراہٹ کے ہیں یار شرم سے مر جانا چاہیے۔ حیران ہوں میں۔ کہ اس قدر بے حسی اور ہاں امن کے علم بردار سیاست دانوں کی سیاست کب تمھیں سمجھ آئے گی۔ کب پتہ چلے گا کہ پاکستان کے نام پر دشمن دشمن کہہ کرسیاست کرنے والے کس طرح اپنے ہی ملک کی بیٹیوں کی آبرو ریزی کرتے ہیں، کس طرح عیش کی زندگی بسر کرتے ہیں۔ میں آج بھی بھارت کے ان زندہ ضمی صحافیوں۔ اساتذہ اور جرنیلوں کوسیلوٹ کرتا ہوں جو انسان ہیں انسانیت جانتے ہیں حق بولتے ہیں اگرچہ وہ آ ٹے میں نمک کے برابر ہیں۔

یہ بچہ سوال کررہا ہے کیا تمھارے گھر کے آنگن میں کوئی ننھا پھول نہیں؟ ارے انسان تو جانوروں کے بچوں کا خون بھی دیکھ کر تڑپ اٹھتا ہے۔ مگر تم اپنی ماوں سے پوچھو تمھیں کیا کھا کرپیدا کیا ہے جو تمھارا قلم فلم کہانی لکھنے میں۔ عریاں بیٹیاں دیکھانے والے سین لکھنے میں تو مہارت تامہ رکھتا ہے مگر 47 سے لے کر اب تک کشمیر فتح نہ کر سکنے والے نامردوں کی اصل داستان نہیں لکھتا۔ تمھارا شاعر لب و رخسار کی فکر سے کب باہر نکلے گا۔ تمھارے صحافی کب آواز اٹھاٸیں گے۔ کہ جو ہمارا تھا ہی نہیں نہ ہے اس پر زبردستی کرنے میں وساٸل کی تباہی کیوں کی جا رہی ہے، کشمیر پاکستان ہے اور پاکستان ہی بنے گا۔ باقی اتنا بڑا بھارت ہے اس میں انسانیت کے حقوق ادا ہو نہیں رہے معیار زندگی بد تر ہے تم اور زمین کی لالچ میں مصروف عمل ہو۔ کب تمھارے ہاں فیض احمد فیض اور حبیب جالب پیدا ہوں گے؟ کب تمھارے ہاں ترقی پسند نثر نگار سچ لکھیں گے؟ کب تمھارے ہاں پنڈت بھگوان کی اصل دوستی کا راستہ بتائے گا؟ جن قوموں کی خوشیاں ظلم کرنا اور ہر وقت جنگ و جدل تباہی و بربادی سے منسلک ہوں ان کی نسلیں اعلی افکار سے بانجھ پیدا ہوتی ہیں۔ اگر ڈاکٹر تبسم کایہ لکھا سمجھ آئے تو اسے اپنے ایوانوں میں پہنچاو کہ “ایک تین سال کے کشمیری بچے کی مسکراہٹ تم پر یہ یہ طنز کررہی ہے سوچنے کی بات ہے۔

نوٹ: ماہنامہ “بریلینٹ” میں تحریر جذبہ امن ومحبت کے تحت شائع کی جا رہی ہے اور تمام اہل محبت سے درخواست ہے کہ اس تحریر کو اپنے تمام دوستوں، رشتہ داروں، جاننے والوں کے ساتھ شٸیرکریں۔ واٹس ایپ فیس بک ہر سوشل میڈیا میں پھیلا ئیں۔ بھارت کے ہر سکول ہر معلم ہر فوجی ہر ڈاکٹر ہر صحافی کے موباٸل میں یہ تحریر اور تصویر پہنچے اور ایک دفعہ سوچیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ اگر ضمیر اجازت دے تو اسے پڑھ کر شٸیر ضرور کریں۔ تاکہ جو چیز بھارتی میڈیا نہیں دیکھا رہاہم انہیں وہ اصل دیکھاٸیں۔ کشمیر کے ہر گھر تک یہ پیغام پہنچے۔ شکریہ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

زخمی کشمیری بچے کی مسکراہٹ بھارت کے منہ پر تھپڑ” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں