327

دیکھو ذرا…(افسانہ)….(رانا اسامہ)..قسط دوم

تحریر: رانا اسامہ

(قسط دوم)

اس افسانہ کی قسط اول پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

سکندر حیات کی دو اولادیں تھیں۔ سعدیہ حیات اور زعیم حیات۔
سعدیہ جماععت نہم کی طالب علم اور چھوٹا بھائی زعیم ابھی ساتویں جماعت میں تھا۔ حیات احمد کی وفات کے بعد سکندر حیات تب تک ہی اپنے گاؤں میں قیام پذیر رہ سکے جب تک سعدیہ نے پرائمری پاس نہ کر لی اور جب اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے شہر کا رخ کرنا چاہا تو ہر طرف سے طعن زنی ہونے لگی۔۔۔
لو اب یہ بیٹی کو آگے پڑھائیں گے۔۔۔۔۔
لو اب یہ بیٹی کو پڑھانے کے لیے اپنا گھر بار چھوڑ دیں گے۔۔۔

اور یہ عین ممکن بھی تھا کہ سکندر حیات سعدیہ کو آگے پڑھانے کا اِرادہ ترک کر دیتے لیکن فریحہ سکندر کو یہ قطعی منظور نہ تھا کہ اُن کی بیٹی چند مجبوریوں کے باعث پڑھائی چھوڑ دے۔
اور پھر آخرِ کار سکندر حیات اپنے آبائی گاؤں کو چھوڑ کر شہر کے ایک پوش علاقے میں شفٹ ہو گئے۔۔۔
“بیٹا یہ جو بیٹیاں ہوتی ہیں نا یہ گھر میں بیٹھی ہی اچھی لگتی ہیں، اور پھر تم سعدیہ جیسی بچی کو آگے پڑھا کر کیا کرو گے۔۔۔۔۔”
“سعدیہ جیسی بچی۔۔۔” کیا مطلب ہے آپکا حاجن بی۔۔۔ کیا کمی ہے میری بچی میں۔۔۔؟؟؟
حاجن بی جو اپنے تیئں بہت سمجھداری سے سکندر حیات کو سمجھا رہی تھیں، سکندر حیات کے اس رد عمل پر بھونچکا کر رہ گئیں۔۔۔ وہ یقیناً ایسے کسی رد عمل کی توقع نہیں کر رہی تھیں۔۔۔
بعد میں انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا یا نہیں ، بظاہر وہ یہی جتا رہی تھیں کہ وہ اپنے الفاظ پر شرمندہ تھیں۔۔۔۔

لان میں بیٹھے سکندر حیات ماضی کی انہیں نیم زندہ یادوں میں کھوئے ہوئے تھے کہ اچانک ایک مٹھاس بھری مانوس آواز نے ان کے تخیالات کو توڑا۔۔۔
اور یہ سعدیہ کے علاوہ اور کس کی آواز ہو سکتی تھی ۔۔۔
ابو۔۔۔! کہاں کھو گئے آپ۔۔۔؟
میں آپکو اپنا خواب سنا رہی ہوں اور آپ ہیں کہ پتا نہیں کہاں گم ہیں۔۔۔
سعدیہ نے پر شکوہ انداز میں جتایا۔۔۔ یوں جیسے سکندر حیات اس کی انتہائی قیمتی گفتگو کو نظرانداز کر کے فضول سوچوں میں گم ہو گئے۔۔۔
ہاں۔۔۔۔! شائد اس کے خواب اتنے ہی انمول تھے۔۔۔۔۔
نہیں۔۔۔! نہیں! بیٹا میں سن رہا ہوں۔۔۔ آپ بولو۔۔۔!
اور ایک پر سکون سانس لے کر آرام کرسی پر ٹیک لگائی۔۔۔
“کاش۔۔۔! حاجن بی آپ یہاں ہوتیں تو میں آپکو اپنی بیٹی کے خواب سناتا۔۔۔”
سکندر حیات نے اچانک ماضی کے ایک گم گشتہ کردار کو حال کے نقشے میں لانے کی خواہش کی تھی۔۔۔۔۔

بحثیت اشرف المخلوقات ہم سے یہ امید کی جاتی ہے کہ ہم اپنے مقصد میں ثابت قدم رہیں۔ خواہ ہم کسی بھی محاذ پر ہوں۔۔۔ ہمت نہ ہاریں۔۔۔ اور کسی بھی مقصد کو چننے کے لیے کسی بھی انسان کے اندر ثابت قدمی جیسا بنیادی عنصر ہونا لازمی ہے۔ ہمیں اس چیز سے قطعی اغماض نہیں برتنا چاہیئے کہ ناکامی کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ آج تک کسی بھی مجاہد کو کامیابی پہلے قدم پر نہیں ملی۔ انسان کے اختیار۔۔۔۔۔”

میڈم حنا کی یہ گفتگو اسے ایک بار پھر کھینچ کر اپنے خیالوں کی دنیا میں لے گئی۔۔۔
اور اسکے خیالات کا تسلسل تب ٹوٹا جب پیریڈ ختم ہونے کی گھنٹی بجی۔۔۔۔۔
(جاری ہے….. )

اس افسانہ کی قسط سوم پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

دیکھو ذرا…(افسانہ)….(رانا اسامہ)..قسط دوم” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں