259

تحریک انصاف یا تحریک منافقت …… (ایک پاکستانی کا خط)

معزز قارئین! مجھے ایک مراسلہ موصول ہوا ہے جس میں موجودہ حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے ماضی اور حال کے بارے میں تبصرہ کیا گیا ہے، یہ مراسلہ من و عن نذر قارئین ہے. مراسلہ کے اقتباسات سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں.(شاہد چشتی)

مراسلہ ملاحظہ ہو:

جناب چیف ایڈیٹر صاحب ماہنامہ بریلینٹ
اسلام علیکم!

میں آپ کے توسط سے اپنے اہلیان وطن سے کچھ باتیں کرنا چا ہوں گا.

پیارے پاکستانیوں!!!

منافق کی تین نشانیاں بتائی جاتی ھیں.
1۔ جب بات کرے جھوٹ بولے
2۔ جب وعدہ کرے وعدہ خلافی کرے
3۔ اور امانت میں خیانت کرے۔

آئیے اب عمران خان کی چوبیس سالہ سیاسی جدوجہد پر نظر ڈالیں۔ عمران خان کے عوام سے کیے گئے جھوٹ اس تیزی سے بے نقاب ھو رھے ھیں کہ عوام نے اب اس کا نوٹس تک لینا چھوڑ دیا ھے۔ مثلاً میں نوے دن میں کرپشن ختم کر دونگا اور عدالت سے سزا یافتہ جہانگیرترین اسکی بغل میں کھڑا عوام کا منہ چڑا رھا ھے؟ اربوں ڈالر جمع کر دونگا۔ مہنگائی ختم کردونگا۔ کشکول توڑ دونگا۔ وغیرہ وغیرہ اور وغیرہ؟؟؟

یہی حال اس کے وعدوں کا بھی ھے۔ پچاس لاکھ گھر اور کروڑ نوکریاں؟؟؟ لگتا ھے بات سمجھ آگئی ھوگی آپ کو؟؟؟
اور آخر میں امانت میں خیانت۔ جو شخص پارٹی فنڈز تک ڈکار جاۓ اور سیلاب زدگان کا پیسہ تک پی جائے اسکی خیانت گھٹیا ترین درجے کی خیانت ھے کہ یہ عوام کے ٹرسٹ کا پیسہ ھے جو اس پر اعتماد کر کے اسے عوام نے دیا؟؟؟
اب جس پارٹی کے لیڈر کا یہ حال ھو وہ خود کیسے اس خرابی میں پیچھے رہ سکتی ھے؟؟؟

پچھلے سات سالوں سے پی ٹی آئی میں پارٹی الیکشن کے نام پر منافقت کا بازار گرم ھے اور اسے اس فراڈیے عمران خان کی پوری حمایت حاصل ھے۔ سن دو ھزار تیرہ میں یہ منافق کہتا تھا کہ پارٹی میں الیکشن ضروری ھے۔ کیونکہ سیلیکٹڈ عہدیدار تو غلام ھوتا ھے۔ آج خود سیلیکٹڈ ھے اور غلام ھے۔ لیکن دو ھزار تیرہ کے الیکشن میں اسکے چہیتوں نے خوب دھاندھلی کا بازار گرم رکھا اور جہانگیر ترین، علیم خان اور پرویز خٹک کا ٹولہ پیسے اور دھونس زبردستی سے الیکشن ”جیت“ گیا۔ بعد میں جب ورکرز نے بہت شور ڈالا تو عمران خان نے جسٹس وجیہ الدین کی سر براھی میں ایک پارٹی الیکشن ٹریبونل بنا دیا کہ اس دھاندھلی کی تحقیق کرے۔ چھ مہینے لگا کر اس ٹریبونل نے فیصلہ سنایا کہ ثبوتوں اور شواھد کے مطابق پرویز خٹک، جانگیر ترین، علیم خان اور نادر لغاری نے پارٹی الیکشن میں دھاندھلی کی ھے اور انھیں پارٹی سے باھر نکالا جاۓ۔ آپ سوچ رھے ھونگے یہ تو کمال ھوگیا۔ کیا اصول کی بات ھے۔ لیکن آپ تحمل سے پوری بات تو سنیں۔

اب جناب عمران خان نے بحثیت پارٹی چئیرمین اس ٹریبونل کی رپورٹ اور شواھد کو ردی کی ٹوکری میں پھینکا اور یہیں پر بس نہیں کیا بلکہ الٹا جسٹس وجیہ الدین کی پارٹی رکنیت معطل کر دی؟؟؟ یہ تو حال ھے اس تبدیلی کےفراڈیے کا!!!

یوں اس منافق اور فراڈیے نے پارٹی کو چوروں اور پیسے والوں کے ھاتھ بیچ دیا۔ اب اگلا پارٹی الیکشن آیا سن دو ھزار اٹھارہ میں۔ اس دفعہ ورکرز تیار تھے کہ جہانگیر ترین اور علیم خان جیسوں کا حشر نشر کر دینگے۔ لیکن عمران خان صاحب ایک بار پھر ان چوروں کی مدد کو آ پہنچے۔ اس نے پہلے تو پارٹی کے چیف الیکشن کمیشنر تسنیم نورانی پر دباؤ ڈالا کہ پارٹی الیکشن کا ضابطۂ اخلاق اس کی اپنی مرضی کا ھو۔ یہاں تک کہ تسنیم نورانی صاحب کو اس فراڈیے کے دباؤ پر استعفی دینا پڑا۔ پھر اس نے جھرلو الیکشن کمیشن کھڑا کرے ان سب چوروں کو اپے پینل پر کھڑا کر کے پارٹی الیکشن کے نام پر ایک مذاق کیا اور یوں تقریباً بلا مقابلہ الیکشن جیت لیا۔ یعنی ورکرز کا عمران خان کو دیا جانے والا ووٹ اسکے پینل پر موجود ھر لوٹے اور لٹیرے کی حمایت میں بھی گنا گیا اور یہ پورا پینل الیکشن جیت گیا۔

اور اب جب کہ پی ٹی آئی حکومت میں ھے۔ ایک بار پھر پارٹی الیکشن کے نام پر نامزدگیوں کا سلسلہ جاری ھے۔ اس منافق پارٹی کی تنظیم نو ایک بار پھر سیف اللہ نیازی جیسے چوراور کرپٹ انسان کے ھاتھوں کی جا رھی ھے جو خود پہلے بھی پارٹی فنڈز کی چوری میں ملوث رھا اور خاص طور پر پی ٹی آئی کے دھرنے کے دنوں میں پارٹی کے کروڑں روپے ڈکار گیا۔ لیکن یہ گماشتہ اب ایک بار پھر عمران فراڈیے نے چیف آرگنائیزر کے عہدے پر تعینات کیا ھے اور یہ ملک بھر میں نامزدگیاں کرتا پھر رھا ھے!!!

اب جو پارٹی تبدیلی کے نام پر وجود میں آئی وھاں پارٹی الیکشن کے نام پر ان نامزدگیوں کا ھونا جمہوریت کے منہ پر زناٹے دار تھپڑ تو ھے ھی لیکن ساتھ ساتھ یہ اس پارٹی کی منافقت اور اسکے ورکرز کی لا چارگی کو بھی ظاھر کرتا ھے۔

پی ٹی آئی ان حرامزدگیوں معاف کیجیئے گا نامزدگیوں کی بدولت ایک ایسا پارٹی کلچر متعارف کروا رھی جو پی پی پی اور نون لیگ جیسی پارٹیوں کا خاصہ ھے کہ یہ پارٹیاں اپنے لیڈر کے جوتے کی نوک پر ھیں۔ جو لیڈر کےتلوے چاٹے گا وہ نامزد ھوگا اور جو اصول اور نظریے کی بات کریگا وہ اگلے دن اپنے عہدے سے سبکدوش کردیا جائیگا۔ یہ ھے وہ تبدیلی جس کیلئے پی ٹی آئی نے چوبیس سال منافقت میرا مطلب محنت کی؟؟؟

یہ تحریر اس نظریے سے لکھی گئی کہ عمران خان کے اندھے تقلیدی شاید اپنی آنکھیں کھول سکیں اور اس منفاقت کو سمجھ سکیں۔ پی ٹی آئی اسی کرپٹ روایتی سیاست کا تسلسل ھے جو پچھلے سترسال سے ھمارے ملک کا خون نچوڑ رھی ھے اور شاید پی ٹی آئی اپنی منافقت میں دوسری جماعتوں سے دو ھاتھ آگے بھی ھے کہ یہ اپنی منافقت کو ایاک نعبد وایاک نستعین اور مدینہ کی ریاست جیسے کلمات تلے چھپاتی ھے؟؟؟

یوں اس عمران خان کی حکومت سے خیر کی کوئی توقع نہیں ھے اور آم کے پیڑ سے ناریل مانگنے والی بچکانہ سوچ ھے۔ فی الحال تو آپ اپنے ٹیکس کے پیسے سے سینٹ میں پی ٹی آئی کا ارکان کی خریداری کا مزہ لوٹیں اور حاصل بزنجو کی بات پر کان نہ دھریں کہ اس خریداری کے پیچھے وردی ھے۔ حاصل بزنجو صاحب کو غط فہمی ھوئی ھے۔ ان کو معاف کر دیں۔ ھماری فوج تو بلوچستان میں عوام کی محرومیاں دور کرنے کیلئے ھمہ وقت اپنا تن، من اور دھن وار رھی ھے اوہ معاف کیجئیے گا دھن کا لفظ آپ سنسر کر دیں۔ باقی رھے نام اللہ کا!!!
والسلام
محبوب اسلم
ایک عام پاکستانی شہری

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں