311

افسانہ۔۔ دیکھو ذرا۔۔۔ (رانا اسامہ) ۔۔۔ قسط سوم

تحریر: رانا اسامہ علی۔

(قسط سوم)

اس افسانہ کی قسط دوم پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

وہ شام کے وقت لان میں بیٹھی اپنا ہوم ورک کر رہی تھی۔ اس کے ساتھ ہی زعیم بھی بیٹھا اپنا سکول کا کام کرنے میں مگن تھا۔ زعیم کے گرد کتابوں اور کاپیوں کا بکھراؤ دیکھ کر یوں لگتا تھا کہ یہ حضرت آج علوم شرقی و غربی کی جمعیت کے بعد ہی اٹھیں گے۔ ۔ ۔ اس کے برعکس سعدیہ کے ارد گرد سواۓ ایک کاپی کے کچھ نہ تھا۔ ۔ ۔ وہ ایسی ہی تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اپنے سےمنسلک چیزوں کو بہت سنبھال کر رکھنے والی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خواہ وہ کتابیں ہوں یا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خواب۔ ۔ ۔
اپنے خوابوں کو بھی شاید اس نے ایک وقت کے لیۓ سنبھال رکھا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
چند ہی لمحے گزرے تھے کہ ایک زوردار چیخ سعدیہ کے کانوں میں پڑی۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔I’ve done ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

وہ جو ریاضی کے کسی سوال کو حل کرنے کی الجھن میں بیٹھی تھی اچاک سہم گئی تھی۔ مگر اگلے ہی لمحے اس نے اتنی خونخوار نظروں سے زعیم کو دیکھا کہ بیچارے کا جوش جھاگ کی طرح بیٹھ گیا۔ ۔ ۔
وہ شاید کام ختم کر کے کھیلنے کی خوشی میں یہ تک بھول گیا تھا کہ وہ ابھی تک اسی دنیا کا حصہ ہے اور اس کے آس پاس اور بھی لوگ بستے ہیں۔ ۔ ۔

٭٭٭ ________________***

سکندر حیات بنیادی طور پر بزنس کلاس سے تعلق رکھتے تھے۔ آج انکے ایک بزنس پارٹنر کے بیٹے کا ولیمہ تھا اور وہ بمعہ فیملی مدعو تھے۔ گھر کے سب افراد تیار ہو رہے تھے لیکن ایک فرد ایسا تھا جو نہ جانے پر بضد تھا ۔ ۔ ۔ اور وہ تھی سعدیہ۔ ۔ ۔
اور صرف آج ہی نہیں، وہ پہلے بھی کئی دفعہ ایسا کر چکی تھی۔ کسی بھی فیملی ڈنر یا ریسپشن پر جانا ہوتا تو وہ منع کر دیتی۔ ۔ ۔
وہ ہمیشہ سے ایسی نہیں تھی ۔ ۔ ۔ اسے پارٹیز اور گیدرنگ بہت پسند تھی، لیکن چند ایک مہینوں سے وہ مجمع والی جگہوں میں جانے سے کترانے لگی تھی۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور گھر پر رہنے کو زیادہ ترجیح دیتی اور وجہ یہ بتاتی کہ اس کا دل نہیں چاہ رہا۔ ۔ ۔ اور سکندر بھی اس کی اس وضاحت کو مان لیتے سوائے چند ایک موقعوں کے جب انہیں گاؤں جانا ہوتا، یا دور کسی ایسے فنکشن میں جانا ہوتا جہاں انکا قیام لمبا ہو سکتا تھا۔ ۔ ۔
یہ فنکشن چونکہ اندرون شہر تھا سو سعدیہ کی بات مان لی گئی اور ملازمہ کو سعدیہ کے متعلق چند اہم ہدایات دے کر وہ لوگ رخصت ہو گئے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
کوئی اور ہوتا تو سعدیہ کے نہ جانے کی جھٹ سے وجہ بتا دیتا لیکن ۔ ۔ ۔ ۔ وہ سکندر حیات تھے۔ وہ اس وجہ کو ماننے پر قطعا تیار نہیں تھے۔ ۔ ۔ کہیں نہ کہیں دل کے ایک خانے میں انہیں ایک موہوم سی امید تھی کہ کاش! وہ وجہ نہ ہی ہو جو بظاہر نظر آرہی ہے۔ ۔ ۔ ۔ انہیں شائد سعدیہ کی غیر معمولی تربیت پر کی گئی اپنی محنت پر اندھا اعتماد تھا۔ ۔ ۔
لیکن ان کی زدگی میں بہت سے “کاش” شائد پورے نہ ہونے کے لیئے آئے تھے۔ ۔ ۔ ۔
شائد یہ اعتماد بہت جلد ریزہ ریزہ ہونے والا تھا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
(جاری ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ )

اس افسانہ کی قسط چہارم پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

2 تبصرے “افسانہ۔۔ دیکھو ذرا۔۔۔ (رانا اسامہ) ۔۔۔ قسط سوم

اپنا تبصرہ بھیجیں