207

مسئلہ کشمیر کا بس یہی حل ہے ۔۔۔۔۔ (صابر بخاری)

تحریر: صابر بخاری

غزوہ بدر مسلمانوں کی زندگیوں میں انقلاب برپا کرنے کیلئے مشعل راہ ہے۔ صرف 313 مجاہد ین ، 70 اونٹ اور 2 گھوڑے اور مقابلے پر تین گنا سے زیادہ لشکر جوآہنی لباس میں ملبوس اور انتہائی بدمست۔ جدید ہتھیاروں سے لیس۔مستیاں کرتا اور مسلمانوں کو ترانوالہ سمجھتے ہوئے پل بھر میں زیر کرنے کا زعم مگر جب مسلمانوں کا وسیلہ صرف اور صرف خدا و برتر کی ذات ہو تو دنیا کی کوئی طاقت انکو کامیابی و کامرانی سے نہیں روک سکتی۔ غزوہ بدرمسلمانوں کو دشمن کی ظاہری طاقت اور جاہ جلال سے خوفزدہ یا مر عوب ہونے کے بجائے صرف خدا کی نصرت پر امید رکھنے کا درس دیتا ہے۔ جن مسلمانوں نے غزوہ بدر کے سبق کو زندگی کا حصہ بنایا پھر دنیا نے دیکھا کہ کس طرح خدا کے ان شیدائیوں نے طاقت، غرور، تکبر اور گھمنڈ میں مبتلا کئی طاقتوروں کے تخت و تاج اڑا کر رکھ دیے۔

تاریخ کے اوراق پلٹیے، زیادہ دور نہ جائیے اور افغانستان پر توجہ مرکوز کیجیے، روس جو دنیا کا بے تاج بادشاہ تھا۔ خزانہ، اسلحہ، طاقت کیا کچھ نہیں تھا روس کے پاس؟ روس سے ایک بہت بڑی غلطی ہوئی کہ اس نے غزوہ بدر کے پیروکاروں کو چھیڑ دیا۔ روس افغانستان میں آگھسا اور خوب درگت بنوانے اور ملک کے حصے بخرے کروا نے کے بعدابھی تک ورطہ حیرت میں مبتلا ہے کہ ان مٹھی بھر مجاہدین نے اسکا کیسے یہ حال کر دیا؟۔

پھر وقت بدلا اور سپرپاور امریکہ غزوہ بدر کے پیروکاروں کے ساتھ پنجے آزمانے لگا۔ سوچ اس کی یہ تھی کہ ان مٹھی بھر مجاہدین کو پل بھر میں نیست و نابود کردے گا۔ اسے اپنی طاقت، جدید اسلحہ پر ناز تھا۔ جب کہ دوسری طرف ان مٹھی بھر مجاہدین کو خدا کی نصرت پر کامل یقین تھا۔ غزوہ بدر ان کی زندگی کا مشن تھا۔ آج دنیا دیکھ رہی ہے کہ کیسے وقت کا بے تاج بادشاہ آج مذاکرات کیلئے کبھی طالبان اور کبھی پاکستان کے پاوں پڑتا ہے۔

ایران، شاہ کے دور میں امریکہ کا سب سے بڑا ایجنٹ تھا۔ خدا پر توکل بھی زوال پذیر تھا۔ خوددار قوم، خودادری سے نا آشنا بنا دی گئی تھی۔ پھر خمینی انقلاب آتا ہے جو ایران کے درو دیوار کو خودی اور خود داری کے دیے سے منور کردیتا ہے۔ عالمی طاقتوں کے سامنے منمناتا ایران اور غیور ایرانی قوم کی ہیئت ہی بدل گئی اور انہوں نے خودی اور خود داری پر کوئی سمجھوتہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ عالمی سامراج بھلا ایک مسلمان ملک کو اپنے سامنے سیسہ پلائی دیوار بنتا کیسے دیکھ سکتا تھا ؟ ایران کے خلاف دنیا کی عالمی طاقتیں اکٹھی ہوگئیں مگر غزوہ بدر کی پیروکار ایرانی حکومت اور عوام نے دشمن کی تمام چالوں کو ناکام بنا دیا۔ ایک وقت آیاکہ جب ایران پرمعاشی پابندیوں کی بھرمار کر دی گئی۔ مگر پھر بھی ایرانی حکومت اور قوم کے پائے استقامت میں ذرا بھی جنبش نہ آئی۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ ایران اپنے بل پوتے پر عالمی سامراج کو للکار رہا ہے۔ جیسا عالمی طاقتیں ایران کیساتھ رویہ رکھتی ہیں ایران اس کا ترکی بہ ترکی جواب دیتا ہے۔ مگر اپنی خودی اور خود داری کا سودا کسی قیمت پر کرنے کیلئے تیار نہیں۔

حیران کن امر یہ ہے کہ دنیا میں جتنی بھی اسلامی مزاحمتی تحریکیں ہیں بدقسمتی سے وہ حکومت میں نہیں مگر امریکہ سمیت سب سامراجی قوتیں ان سے خوفزدہ ہیں۔ دوسری طرف 57 اسلامی ممالک ان طاقتوں کے سامنے بھیگی بلی بنے نظر آتے ہیں۔ یہ اپنی خودی اور خود داری کا سودا کر بیٹھے ہیں۔ ان پٹھو حکمرانوں نے غزوہ بدر کے اصولوں کوپس پشت ڈال دیا ہے۔ المی طاقتیں کسی بھی مسلمان ملک میں غزوہ بدر کے اصولوں پر کاربند کسی حکمران کو سامنے آنے ہی نہیں دیتی۔

اب بات کریں پاکستان کی تو یہاں بھی ہمیشہ عالمی طاقتوں کی پٹھو اور غلام اشرافیہ عوام پرمسلط کی جاتی رہی ہے۔ عالمی سامراج سے وجود میں آنے والی حکومتیں غزوہ بدر کے اصولوں پر کاربند نہ رہیں۔ خطے میں عالمی سامراج کا مہرہ بھارت غنڈہ گردی پر اتر آیا۔ بھارت کی بد معاشیاں زور و شور سے جاری رہیں اور ہم ہر ایشو کے بعد ایک ہی گردان الاپتے نظر آتے کہ عالمی طاقتیں نوٹس لیں۔ عالمی برادری معاملہ کو دیکھے۔ ہر تھپڑ کھانے کے بعد ہم اقوام عالم کا ضمیر جگانے کی کوشش کرتے مگر عالمی سامراج کا بے حس اور سویا ہوا ضمیر کب جاگا ؟ بھارت نے ہم سے آدھا پاکستان چھین لیا؟ کشمیر میں ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑ ڈالے، بھارت میں بسنے والے مسلمانوں کی زندگی اجیرن بنا دی گئی۔ ہم بس عالمی برادری کو نوٹس لینے کا مطالبہ ہی کرتے رہے۔

نادان حکمرانو، پالیسی سازو کیا تم گونگے بہرے ہو؟ کیا آپ کو اس کا ادراک نہیں؟ عالمی طاقتیں آپکی مدد کو کیوں آئیں گی؟ جب تک آپ ڈرے سہمے رہیں گے کوئی بھی آپکی مدد کو نہیں آئے گا۔ جب تک آپ غزوہ بدر کامشن فراموش کردیں گے، دنیا آپکو گھاس تک نہیں ڈالے گی۔ دنیا ہمیشہ خود دار قوم کی عزت کرتی ہے۔ ایران اور طالبان کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ عالمی طاقتوں نے ان مجاہدین کا کیا بگاڑ لیا؟ بلکہ الٹا پاوں پکڑ کر جان چھڑوانے کی تگ و دو میں ہیں۔

بھارت کو بھی اس لیے ہلہ شیری ملتی ہے کہ اس کو معلوم ہے کہ پاکستانی حکمرانوں میں اتنا دم خم نہیں کہ وہ بھارتی بربریت کا منہ توڑ جواب دے سکیں۔ بھارت کو معلوم ہے پاکستانی حکمران ہر موقع پر عالمی برادری کو گھسیٹنے کی کوشش کرتے ہیں (عالمی طاقتیں بھارت کی مٹھی میں ہیں)، اس لیے ہی اس نے کشمیر میں بدمعاشی اور غنڈہ گردی کا کھیل کھیلا۔ اس کا اندازا درست ثابت ہوا، حسب معمول اس بار بھی ہم عالمی دنیا کی طرف دیکھنے لگ گئے۔ مگر اس سے نکلنے والا کچھ نہیں، ہاں ہم بھارتی ناپاک عزائم کا بروقت جواب دیتے تو عالمی طاقتیں بھی مسئلہ کو حل کروانے کیلئے میدان میں کودتیں۔ کاش کوئی پاکستانی حکمرانوں کو یہ بات باور کرا دے کہ پہلا پتھر خود ہی اٹھانا پڑتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں