212

“قوم یوتھ” کے کارنامے ۔۔۔۔۔ (صابر بخاری)

تحریر: صابر بخاری

بچپن سے ہی مزاج اور نظریات اینٹی ن لیگ تھے۔ کئی وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ن لیگ نے جنوبی پنجاب کیساتھ جو مظالم روا رکھے اس کی جھلک وسیب کے ہر شخص (جاگیرداروں کے علاوہ) میں کم یا زیادہ مقدار میں ضرور نظر آتی ہے۔ وسیب کی پسماندگی میں بڑا عمل دخل ن لیگ کا ہے۔ طریقہ واردات سب کا ایک جیسا ہی رہا چاہے پیپلزپارٹی ہویا ن لیگ، ق لیگ ہو یا پی ٹی آئی، سب نے وسیب کی پسماندگی میں اپنا کردار ادا کیا۔ ق لیگ کے دور میں کچھ کام جنوبی پنجاب میں ہوئے، جس کو خوب سراہا بھی جاتا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ جنوبی پنجاب کے لوگوں کی حساسیت کی وجہ انکی تنگ نظری نہیں بلکہ انکے حقوق پر ڈاکے ڈالے گئے جس کی وجہ سے ان کے مزاج میں غصہ، چڑ چڑا پن یااپنے حقوق کیلئے جدوجہد در آئی ہے تو یہ ایک فطری عمل ہے۔ جہاں حقوق سلب کیے جائیں، عوام پر جاگیرداروں، پولیس، بیوروکریسی کے ذریعے ظلم روا رکھا جائے وہاں پر جیت تو آپکا مقدر بن جاتی ہے مگر آپ لوگوں کے دل نہیں جیت سکتے۔ نا انصافی کایہ خنجرمیرے جسم و روح کو بھی بچپن سے چرکے لگاتا رہا ہے۔ وسیب کے لوگ جتنا مرضی پڑھ جائیں پھر بھی انہیں ٹیوشن پڑھا کرہی گزارا کرنا پڑتا ہے یاپھر چھوٹی موٹی ملازمت ہی انکا مقدر ٹھہرتی ہے۔ زیادہ تر لوگ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں جانوروں کی طرح زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ جو چند اچھی اور بڑی سیٹیں ملتی ہیں وہ جنوبی پنجاب کے وڈیرے، سیاستدان اپنے رشتہ داروں میں بانٹ لیتے ہیں یا بیچ دیتے ہیں۔ اس طرح جنوبی پنجاب کا عام شہری برسوں سے بدتر زندگی گزارتا آیا ہے اور ایک خاص طبقہ سارے وسائل پر قابض رہاہے۔ جنوبی پنجاب کے سیاستدان کس طرح واردات ڈالتے ہیں اس کا اندازا اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ چند دن پہلے مظفرگڑھ کے ایم پی اے علمدار قریشی نے اپنے رشتہ دار کو چیئرمین کمپلینٹ سیل مظفرگڑھ تعینات کرا دیا۔ تعیناتی کا میرٹ موصوف ایم پی اے کی ”وسیم اکرم پلس“ کی حد سے زیادہ چاپلوسی تھا۔ اس طرح کی وارداتیں جنوبی پنجاب کے سیاستدان بڑے دھڑلے سے ڈالتے ہیں اور پھربیوروکریسی سمیت سب ادارے بھنگ پی کر سو رہے ہیں اور عوام کو صرف ذلت و رسوائی اور جانوروں سے بدترزندگی حصے میں آتی ہے۔

جب سے ہوش سنبھالا جنوبی پنجاب کی پسماندگی پر دل کڑھتارہا۔ ہمیشہ اپنے علاقے کی محرومی کی آواز اٹھانے کا سوچا مگر طاقتور جاگیرداروں کے سامنے یہ کوئی آسان کام نہ تھا۔ میڈیا کی ڈگری بھی اس لیے حاصل کی تاکہ ملک خاص طور پر وسیب کے عوام کی صحیح معنوں میں ترجمانی کر سکوں۔ ان سب وجوہات کی بنا پرن لیگ سے شروع سے ہی نفرت رہی، جیسے جیسے آگے بڑھتے گئے اس نفرت میں اضافہ ہوتا گیا۔ میڈیا کے ادارے کو جوائن کیا تو جہاں وسیب اور محروم طبقات کیلئے آواز بلند کی وہیں ن لیگ کیخلاف بھی کھل کر لکھا اور بات کی۔ سابقہ ادارے نوائے وقت کے بارے میں لوگوں کا تاثر تھا کہ یہ ن لیگ کا ترجمان ادارہ ہے۔ کچھ لوگ اسے” نوائے نواز “بھی کہتے تھے۔ میرے پاس سیاسی اور کرائم ایڈیشن کی ذمہ داریاں تھیں۔ اس کیساتھ ساتھ سیاست، کرائم اور دوسرے ایشوز پر آرٹیکل بھی لکھتا۔ اپنی تحریروں میں کھل کر ن لیگ پر تنقید کرتا۔ صرف ایک بار ہمارے ایڈیٹر صاحب نے شوکاز نوٹس دیا کہ آپ اپنی تحریروں میں ن لیگ کیخلاف زیادہ سخت الفاط استعمال کر رہے ہیں۔ زعیم قادری ایک بار نوائے وقت کے دفتر تشریف لائے اور چیف رپورٹر خواجہ فرخ میراتعارف کروانے لگے تو زعیم قادری نے کہا جی میں بخاری صاحب کو جانتا ہوں یہ اور بات ہے کہ ہمارے خلاف لکھتے ہیں (یہ بھی واضح رہے کہ یہ میری خوش قسمتی رہی کہ میں ن لیگ کے شر سے ابھی تک محفوظ رہا ورنہ ن لیگ کا اس حوالے سے ٹریک ریکارڈ بھیانک ہے کہ وہ اپنے مخالف صحافیوں پر ظلم وستم کے پہاڑ گرا دیتی ہے، کئی ہمارے صحافی دوست ن لیگی مظالم کا شکار ہوئے )۔ قارئین کی طرف سے جو فیڈ بیک ملتا بس یہی کہا جاتا کہ آپ ن لیگ کے بہت زیادہ خلاف ہیں۔ سوشل میڈیا پر چونکہ ذاتی تاثرات بھی شامل ہو جاتے ہیں، اس لیے اکثر فیس بک اکھاڑے کا منظر پیش کرتی رہتی ہے۔ وہاں پر بھی ن لیگ کے حامیوں سے دو ہاتھ ہوتے مگرسب کچھ اخلاقیات کے دائرے میں رہ کر ہی سر انجام پاتا رہا۔

پیپلزپارٹی اور ن لیگ کا توڑ چونکہ تحریک انصاف تھی اور اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں تھا ا س لیے ہماری تمام تر ہمدردیاں پی ٹی آئی کیساتھ رہیں۔ اب چونکہ پی ٹی آئی حکومت میں ہے اس لیے ایک صحافی کا یہ فرض ہے کہ حکومت کی غلطیاں، خامیاں بھی اجاگر کرے۔ عمران خان صاحب کے ارادوں پر کوئی شک و شبہ نہیں۔ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ مہنگائی نے آج غریب عوام کی کمر توڑ کے رکھ دی ہے۔ عید سے چند دن پہلے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے اضافے سے مہنگائی کا طوفان آگیا جس پر بطور صحافی قلم اٹھایا۔ یہ پی ٹی آئی کیخلاف پہلی باضابطہ تحریر تھی۔ بس پھر کیا تھا۔ ایک طوفان بد تمیزی پی ٹی آئی کی ”قوم یوتھ “ نے برپا کر دیا۔ برے القابات سے لیکر ننگی گالیوں تک کونسے مغلظات نہ تھے جو نہ بولے گئے۔ فیس بک، واٹس اپ، ای میل پر طنز، غصہ اور گالیوں کے خوب نشتر چلائے گئے اور جہاں تک ہماری یہ تحریر پہنچی اس ”قوم یوتھ “ کے ہونہاروں نے جو دل میں آیا اس کی خوب بھڑاس نکالی۔ میں تب سے حیران پریشان ہوں کہ یہ کیسی ریاست مدینہ ہے کہ جس کے لیڈر کے پیروکار اخلاقیات اور تمیز سے عاری ہیں۔ مدینہ کی ریاست میں آقائے دوجہاں حضرت محمد نے اپنے آفاقی حسن اخلاق سے اسلام کا پیغام پھیلایا اور انقلاب برپا کر دیا۔ خمینی کا انقلاب دیکھ لیں جو اخلاقیات کا اعلیٰ نمونہ پیش کر رہا ہے۔ چین کا انقلاب دیکھیں کیا اس کی قوم یوتھ ایسی تھی؟ جو لیڈر اپنے پیروکاروں کو اخلاقیات کا درس نہیں دے سکا، کیسے ممکن ہے کہ وہ ملک کو مدینہ کی ریاست بناپائے گا؟

دوسری طرف قوم ”پٹوار“ کا اخلاقیات بھی ملاحظہ کریں کہ میرا قلم دھڑا دھڑ سوشل میڈیا اور واٹس اپ پر شیئر کیا گیا، مگر اس آرٹیکل میں سے راقم کا نام نکال دیا گیا۔ یہ واردات تب آشکار ہوئی جب میں نے کئی واٹس اپ گروپس میں اپنا کالم بغیر نام کے دیکھا۔ میری خان صاحب سے استدعا ہے کہ وہ پہلے قوم کو کم از کم اپنی ”یوتھ“ کو اخلاقیات تو سکھا دیں، مدینہ ریاست یہ خود بخود بن جائے گی۔ وما علینا الا البلاغ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں