304

نعت شریف: ارادہ تھا پس پردہ تری عالی قیادت کا …. (احمد سعید سدھو)

شاعر: احمد سعید سدھو

ارادہ تھا پس پردہ تری عالی قیادت کا
بتایا تھا فرشتوں کو بھی آدم کی خلافت کا

کوئی ثانی ہوا اب تک نہیں ماہ رسالت کا
احاطہ کیا کرے کوئی نبی کی بادشاہت کا

بنایا تھا ترا پیکر نہیں جس کا کوئی سایہ
یہی پہلو رہا خفیہ زمانے سے لطافت کا

تری ہستی ازل سے ہے جمال مزرع ہستی
کہ شیدائی خدا خود ہے تری شان صباحت کا

یہی ہے نشان سناعی عجب یہ راز ہے اس میں
مکان و لا مکاں میں تذ کرہ تیری نجابت کا

فقیروں کا جہاں بھر میں نہیں ملجا نہیں ماوٰی
فقیروں کا سہارا ہے ترے دامان رحمت کا

سر محشر عجب ہوگا نصیبہ غم کے ماروں کا
وہاں بھی آسرا ہو گا ترے حسن شفاعت کا

ہیں القاب علو منزل ملے یٰسین طٰہٰ کے
جہاں میں بول بالا ہی رہا ان کی وجاہت کا

بھروسہ کیا حیاتی کا بہت لاچار ہے سدھو
عطا کیجئے اسے موقع مدینے کی زیارت کا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں