236

عبدالستار ایدھی “بابائے انسانیت” ……. (حافظ احمد ہاشمی)

تحریر: حافظ احمد ھاشمی

انسانیت کے لیے اپنی زندگی وقف کرنے والے عبدالستار ایدھی کی تیسری برسی آج 8 جولائی کو منائی جارہی ہے۔

عبدالستار ایدھی 28 فروری 1928ء میں بھارت کی ریاست گجرات کے شہر بانٹوا میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے صرف 5 ہزار روپے سے اپنے پہلے فلاحی مرکز ایدھی فاؤنڈیشن کی بنیاد ڈالی۔ ایدھی فاؤنڈیشن انٹرنیشنل کے بانی عبدالستارایدھی کو بچپن سے انسانیت کی خدمت کا شوق تھا جب ان کی عمر محض 11 سال تھی ان کی والدہ کو فالج ہوگیا۔ عبدالستار ایدھی نے اپنی والد کی خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی اوران کے علاج معالجے سمیت ان کی تمام ضروریات کوپورا کیا اس طرح سے ان میں انسانی خدمت کا جذبہ پیدا ہوتا چلاگیا، ان کی والدہ کی بیماری عبدالستار ایدھی کی زندگی کا اہم موڑ ثابت ہوئی۔

عبدالستار ایدھی اپنی والدہ کی خدمت میں مصروف رہتے تھے اوراسی وجہ سے وہ اپنی ہائی اسکول لیول کی تعلیم بھی جاری نہ رکھ سکے، عبدالستار ایدھی کی والدہ کا جب انتقال ہوا اس وقت عبدالستار ایدھی کی عمر محض 19 سال تھی ماں کی طویل بیماری سے عبدالستار ایدھی یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ دنیا میں ایسی لاکھوں کروڑوں مائیں ہوں گی جو ان کی والدہ کی طرح بیماری میں مبتلا ہوں گی اور ان میں سے کتنوں کی تیمارداری کرنے والا بھی کوئی نہیں ہوگا۔

پھر عبد الستار ایدھی نے اپنی زندگی میں تقریباََ 2 ہزار سے زائد تعفن زدہ لاشیں اپنے ہاتھوں سے اٹھائیں اور ان کی تدفین مکمل طریقے سے کرتے رہے۔ عبد الستار ایدھی ساری زندگی کے کپڑے کا لباس پہنتے رہے۔ عبد الستار ایدھی جوتے بھی مُردوں کے استعمال کرتے تھے۔

عبد الستار ایدھی نے ہمیشہ ملیشیا کا سوٹ پہنا جو کہ ایک مردے کے تقسیم شدہ سامان میں سے ملنے والے کپڑے کے تھان سے سِلتا تھا۔ عام طور پر مرنے والے شخص کی چیزیں لواحقین استعمال نہیں کرتے تھے لیکن عبد الستار ایدھی وہ واحد شخص تھے جنہوں نے اس روایت کو توڑ دیا کہ مرنے والے کی اشیاء استعمال کرنا نحوست کا سبب ہے۔

عبدالستارایدھی نے سوچاکہ انھیں بے بس لوگوں کی مدد کرنی چاہیے۔ ان کے ذہن میں تھا کہ انھیں بے بس اوربے سہارالوگوں کے لیے ویلفیئرسینٹرزاوراسپتال قائم کرنے چاہئیں جہاں بے سہارا اورغریب لوگوں کو رکھا جا سکے اور ان کاعلاج ہوسکے ان کے ذہن میں معذور لوگوں کی مدد کرنے کا آئیڈیا بھی تھا جس کیلئے انھوں نے بھرپور کام کیا۔

اس وقت ملک بھر میں ایدھی فاؤنڈیشن کی1200 ایمبولینس کام کر رہی ہیں جن میں سے 300 کراچی میں ہیں، اس کے علاوہ ایدھی فاؤنڈیشن کے پاس 2 طیارے، ایک ہیلی کاپٹر، اسپیڈ بوٹ اور ربربوٹ بھی موجود ہیں مزید 3 ایئرایمبولینس ایک ماہ میں اس بیڑے میں شامل ہوجائیں گی۔ ایدھی فاؤنڈیشن کا نیٹ ورک ملک کے100 سے زائدشہروں میں موجود ہے، ملک بھرمیں ایدھی فاؤنڈیشن کے 300 چھوٹے بڑے مراکزموجود ہیں، صرف کراچی میں ایدھی فاؤنڈیشن کے 8 اسپتال موجود ہیں جن میں ایک کینسراسپتال بھی ہے جہاں غریبوں کامفت علاج کیاجاتاہے۔

ایدھی فاؤنڈیشن کے زیرانتظام ’اپنا گھر‘ کے نام سے مختلف مقامات پر 15عمارتیں موجود ہیں، جہاں نفسیاتی مریض، لاوارث افراد جن میں بچے بھی شامل ہیں اور ضعیف العمر افراد مقیم ہیں۔

ایدھی فاؤنڈیشن امریکا، برطانیہ، آسٹریلیا، بنگلہ دیش، افغانستان، عراق، چیچنیا، سوڈان، ایتھوپیا سمیت مختلف ممالک میں کام کررہی ہے۔ عبدالستار ایدھی 1962 میں ’’بی ڈی‘‘ ممبر منتخب ہوئے۔

معروف سماجی رہنما عبدالستارایدھی نے1962 میں سیاست میں قدم رکھااور بنیادی جمہوریت کے انتخابات میں BD ممبرکی حیثیت سے بلامقابلہ کامیابی حاصل کی۔

1964 میں انھوں نے ایوب خان کے خلاف محترمہ فاطمہ جناح کا ساتھ دیا۔ عبدالستار ایدھی کو بعد میں سیاسی مہم جوئی ایک غلطی محسوس ہوئی جس کے بعدانھوں نے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرلی اور دوبارہ سماجی خدمت کے کاموں میں مصروف ہوگئے۔

1970میں عبدالستارایدھی نے ایک بار پھر سیاست میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا مگر قومی و صوبائی اسمبلی دونوں کی نشستوں پر انھیں شکست اٹھانی پڑی، یہ الیکشن انھوں نے آزادحیثیت میں لڑا تھااور ان کا انتخابی نشان بوتل تھا۔

1982 میں جنرل ضیاالحق نے بے حد اصرار کرکے انھیں مجلس شوری کی رکنیت دی مگر سادہ زندگی گزارنے والے عبدالستارایدھی اس پوزیشن سے خوش نہ ہو سکے جب وہ مجلس شوریٰ کے پہلے اجلاس میں شرکت کیلیے اپنے خرچ پرراولپنڈی پہنچے تو تیسرے درجے کے ہوٹل میں قیام کیا، فٹ پاتھ پربیٹھ کر کھانا کھایا اور بذریعہ بس اسلام آباد پہنچ گئے جب وہ پارلیمنٹ کے مرکزی دروازے پرپہنچے تو افسران دوڑے چلے آئے اور کہا کہ آپ کہاں تھے ہم نے آپ کے قیام اورطعام کا بندوبست کر رکھا تھا لیکن انھوں نے عاجزی سے کہا کہ میں ساری زندگی عیش و عشرت سے دور رہاہوں اسی مزاج کی وجہ سے وہ بہت کم اجلاسوں میں شرکت کرسکے اور بتدریج حکومت سے دوری اختیارکرلی۔

معروف سماجی رہنما عبدالستار ایدھی کو 1986میں فلپائن نے ملک کا سب سے بڑا اعزاز دیا 1988 میں انھیں لینن پیس پرائز سے نوازا گیا متحدہ عرت امارات میں ہمدان اعزاز برائے عمومی طبی خدمات اور اطالیہ میں خدمت برائے انسانیت امن و بھائی چارہ کا ایوارڈ دیا گیا۔ 1992 میں پال ہیرس فیلو روٹری انٹرنیشنل فاؤنڈیشن جبکہ 2009 میں انھوں نے یونیسکو کا ایوارڈ بھی اپنے نام کیا اس کے علاوہ انھیں پاکستان میں کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز کی طرف سے سلور جوبلی شیلڈ اور حکومت سندھ کی جانب سے سماجی خدمت گزار برائے برصغیر پاکستان کا نشان امتیاز دیا گیا عبدالستار ایدھی کو محکمہ صحت اور سماجی بہبود کی جانب سے بہترین خدمات کا اعزاز بھی دیا گیا۔

عبدالستار ایدھی کو پاکستان اکیڈمی آف میڈیکل سائنسز کا اعزاز خدمت، پاکستان سوک اعزاز، پاکستان انسانی حقوق معاشرہ کی طرف سے انسانی حقوق اعزاز اور عالمی میمن تنظیم نے بھی انھیں لائف ٹائم ایوارڈ دیا ہے۔

ڈاکٹر عبد الستار ایدھی نے آج سے تقریباً 35 سال قبل1985 میں مواچھ گوٹھ میں ایدھی قبرستان قائم کیا جہاں لاوارث افراد کو سپرد خاک کیا جاتا تھا جب کہ ایسے مفلس اور غریب لوگ جن کے پاس اپنے پیاروں کی تدفین پر آنے والے اخراجات نہیں ہوتے تھے۔ ان کے تدفین بھی ایدھی فاؤنڈیشن کے تحت بغیر کسی معاوضے کے کی جاتی ہے، دوسری جانب عبد الستار ایدھی نے سب سے پہلے کھارادر میں ایدھی غسل خانہ قائم کیا جہاں میتوں کو غسل دیا جاتا ہے بعد ازاں انہوں نے سہراب گوٹھ کے قریب ایدھی میت سرد خانہ اور غسل خانہ قائم کیا، ایدھی ذرائع نے بتایا کہ ایدھی سرد خانے میں ایک وقت میں 150 سے زائد میتوں کو رکھا جا سکتا ہے۔

عبدالستار ایدھی نے ایک بے سہارا بھارتی لڑکی گیتاکو بھی ایدھی ہوم میں پناہ دی مذکورہ لڑکی اپنے والدین کے ساتھ کئی برس قبل پاکستان آئی تھی اور وہ ان سے بچھڑ گئی تھی اور یہ لڑکی گونگی تھی۔ پھر ایدھی فاؤنڈیشن نے طویل جدوجہد کے بعد اس کے وارثوں کا سراغ لگایا اور ایدھی کی اہلیہ بلقیس ایدھی اس لڑکی کو چھوڑنے کے لیے خود بھارت گئیں جہاں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے عبدالستار ایدھی کا شکریہ ادا کیا تھا اور ایدھی فاؤنڈیشن کیلیے ایک کروڑ روپے امداد کا اعلان کیا تھا جو انھوں نے شکریہ کے ساتھ لینے سے انکارکردیا تھا۔

عبدالستار ایدھی 8 جولائی 2016ء میں گردوں کے عارضے میں مبتلا ہو کر 88 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ انا للہ وإنا إلیہ راجعون.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں