178

پاکپتن: نیا پاکستان بنانے کیلئے تبدیلیاں ناگزیر ہیں نوجوانوں کو قومی دھارے میں لانا ہوگا، حکیم لطف اللہ.

پاکپتن (محمد امین سے) نیا پاکستان بنانے کیلئے تبدیلیاں ناگزیر ہیں نوجوانوں کو قومی دھارے میں لانا ہوگا، نوجوانوں کو گاؤں اور یونین کونسل کی سطح پر منظم کیا جائے اور عہدوں کی بندر بانٹ کی بجائے زہین نوجوانوں کو آگے لایا جائے ان خِیالات کااِظہار حکیم لطف اللہ سیکرٹری جنرل پاکستان سوشل ایسوسی ایشن نے کیا اُنہوں نے کہا کہ گزشتہ 72 سالوں سے عُہدوں کے شوقین لوگوں نے ملک کا بیڑا غرق کیا ہوا ہے، یُوتھ کونسل میں نوجوان لڑکیوں اور لڑکوں کے لئے الگ الگ وِنگ بنائے جائیں، ان کو مُعاشرتی ٹاسک، اِنسداد منشیات، کرائم سٹاپرز، کھیل و ثقافت، فروغِ تعلیم اور فروغِ ادب کے ٹاسک دِیئے جائیں، ہائی سکول سے کالج اور یُونِیورسٹی تک تعلیمی ِاداروں میں اِنسداد مُنشیات اور دِیگر اِصلاحی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں، ڈِسٹرکٹ سپورٹس، محکمہ تعلیم، محکمہ سوشل ویلفیئر، محکمہ صحت، محکمہ پولِیس کی مشترکہ ٹاسک فورس بنائی جائے جو نوجوانوں کے امور کی نِگرانی کریں نوجوانوں کو قومی دھارے میں لانے کیلئے اور جذبہ حُبّ الوطنی اور وطن پر مرمِٹنے کیلئے اور دھرتی ماں کا قرض اُتارنے کیلئے کالج اور یُونیورسٹی کی سطح پرNCC کی تربیت کا دوبارہ اِجراء کیا جائے، نوجوانوں کو صحت مند بنانے کیلئے کھیل کے میدان آباد کئے جائیں، ملکی تاریخ کی پہلی یُوتھ کونسل قائم کر دی گئی ہے جو کہ ایک احسن اقدام ہے، اس طرح قومی فیصلہ سازی میں نوجوانوں کو شامل کردیاگیا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوانوں کومُلک دشمن عناصر اور ان کے آلہ کاروں کے ہتھے چڑھنے سے بچایا جائے، ذمہ دار لوگوں کو آگے لایا جائے، ریٹائرڈ ماہرین جنہوں نے اپنے شعبہ زندگی میں نمایاں خدمات سرانجام دیں ہیں ان سے خدمات لے کر نوجوانوں کی تربیت کی جائے۔ اس یُوتھ کونسل کو ایسا منظّم کیا جائے کہ وطن کے %63 نوجوان جو مُلک کی رِیڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں ان کو کارآمد بناسکیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں