180

پاکپتن: بیوی پر بری نظر رکھنے سے منع کرنے پر پولیس اہلکار کا پیٹی بند بھائیوں سے مل کر گھر پر دھاوا، منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج، اہل خانہ کی پریس کلب پاکپتن میں دہائی.

پاکپتن (محمد امین سے) بیوی پر بری نظر رکھنے سے منع کرنے پر پولیس اہلکار کا پیٹی بند بھائیوں کے ساتھ مل کر گھر پر دھاوا، منشیات کو جھوٹا مقدمہ درج کر کے نجمہ بی بی کو ہتھکڑیوں میں جکڑ کر حوالات بھیج دیا، متاثرہ خاتون کی خاوند کے ہمراہ پریس کانفرنس وزیر اعلی پنجاب اور آئی جی پنجاب سے نوٹس لینے کا مطالبہ محلہ عید گاہ عارفوالا کی رہائشی نجمہ بی بی اور اسکے خاوند محمد اسلم نے پولیس سٹی عارفوالا کے خلاف پریس پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ ہیڈ کانسٹیبل نواب علی اس کی بیوی نجمہ بی بی پر بری نظر رکھتا تھا اور اکثر اوقات اسے اپنی خواہش پوری نہ ہونے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتا تھا. جسے منع کرنے پر ہیڈ کانسٹیبل نواب علی نے مورخہ 28 جون کو ایس ایچ او سٹی خضر حیات سمیت اپنے دیگر پیٹی بند بھائیوں کے ہمراہ رات کے وقت دھاوا بول کر اہلخانہ سے بد تمیزی کی اور گھر سے ایک موٹر سائیکل اور نجمہ بی بی کو ہتھکڑیاں لگا کرساتھ تھانہ لے گئے اور منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا، جب کہ گھر سے منشیات سمیت دیگر کوئی چیز بھی برآمد نہ ہوئی تھی، جس کی کیمرے کی ویڈیو بطورثبوت موجود ہے اور مقدمہ جھوٹا گھر سے کہیں اور جگہ کا فرضی بنا کر ہمارے ساتھ ظلم کی انتہا کی گئی ہے متاثرہ نجمہ بی بی اور اس کے خاوند محمد اسلم نے پولیس اہلکاروں کے خلاف کاروائی کے لئے وزیر اعلی پنجاب اور آئی جی پنجاب سے نوٹس لینے کی اپیل کی ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں