296

درگاہ عالیہ، نور پور شریف، لاڑکانہ۔

تحریر: محمد طارق شاد (بیوروچیف کے پی کے)

گذشتہ روز حضرت خواجہ حضور احمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ سجادہ نشین درگاہ عالیہ نور پور شریف لاڑکانہ تحصیل گمبٹ ضلع خیر پور سندھ حکیم فقیر میاں امتیاز علی کی دعوت پر مانسہرہ تشریف لائے۔ اس موقع پر دعوت فکر ذکرعظیم الشان روحانی نورانی اور وجدانی محفل کا انعقاد کیا گیا۔ پروگرام بمقام جامع غوثیہ مسجد غازی کوٹ میں منعقد کیا گیا جس میں لوگوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی لنگر کا انتظام بھی کیا گیا۔

حکیم میاں امتاز علی۔ مانسہرہ

درگاہ عالیہ نور پور شریف اللہ والوں کا شہر ہے یہاں تزکیہ نفس اور تصفیہ قلب و بیداری روح کی باطنی تعلیم مل رہی ہے جس میں تقریبا” ایک سو پچاس سے دو سو گھر آباد ہیں۔ یہاں پر رہنے والے عاشقان رسول اپنے دل کے اخلاص عشق و محبت سے پر امن.

شریعت محمدی کی پوری پوری تابعداری کرتے ہیں دس سال کا بچہ بھی بے نمازی نہیں ۔ نور پور کے لوگ عورتوں کے پردے کے سخت حامی ہیں یہاں دس سال کی عمر سے لڑکیوں کا پردہ لازم ہے ۔ چار پانچ سال کا بچہ بھی بغیر عمامہ شریف ننگہ سر نظر نیں آتا گردو نواح کے لوگ نور پور کے لوگوں کو عرف عام میں فقیر کہہ کر پکارتے ہیں ۔ تمام خواتین و جضرات تجہد گزار ہیں یہاں کے رہنے والوں کے لئے بازار سے اشاء خریدنے اور استمال کرنے پر پابندی ہے ۔ مثلا” مشروبات، سوفٹ ڈرنکس وغیرہ بیکری کا سامان دودھ گوشت ڈالڈا وغیرہ نور پور میں اپنا گھی اور تیل خود تیار کرتے ہیں کیونکہ ان کی سوچ کے مطابق بازاری اشیاء ناپاک اور بے وضو ہاتوں سے ہوتی ہوئ ان کے پاس پہنچتی ہیں۔ اس لئے یہ لوگ دھوبی سے کپڑا نیں دھلاتے ان کے نزریک دھوبی کپڑا صاف تو کر دیتا ہے مگر پاک نیں کرتا ۔ ان سے اجتناب کا واحد ذریعہ ان کے مطابق احتیاط ہے۔

یہاں کسی سے چندہ مانگنا اور سوال کرنا سخت منع ہے نہ ہی دگاہ عالیہ کی جماعت چندہ کا طمع رکھتی ہے جو اس جماعت میں دین کے کاموں میں طمع دنیا رکھے چندہ وغیرہ مانگے وہ جماعت سے خارج کر دیا جاتا ہے۔ یہ لوگ سارا دن اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں یہاں ہر طرف “اللہ ھو “کی صدائیں گونجتی سنائ دیتی ہیں یہاں گھروں میں کتے رکھنے پر پابندی ہے یہاں کے تمام لوگ سر پر عمامہ شریف باندھتے ہیں بغیر مسواک وضو نہیں کرتے نماز تہجد کے علاہ پانچ وقت نماز ادا کرنے کے پابند ہیں یہاں کے لوگ اکثر اوقات باوضو رہتے ہیں یہاں ریڈیو ٹیلی ویژن تصویر الناس سگریٹ پان نسوار اور کوئی بدعت خلاف سنت کوئی رسم رواج نہیں ۔ شادی ہو یا غمی زندگی کے تمام معمولات قران و سنت کے عین مطابق ہیں یہاں دیور بھابی کا بھی پردہ ہے درگاہ عالیہ پر کوئی فرقہ ورانہ تعصب بازی نہیں یہ ہر دور کے بادشاہ وقت کے لئے دعا گو رہتے ہیں اور محض رضائے الہی کی خاطر تبلیغ کا پیغام پنچاتے ہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں