260

اگر میں وزیراعظم ہوتا ….. (کالم نگار: راؤ کامران علی)

تحریر: کالم نگار: راؤ کامران علی، ایم ڈی

دنیا میں ہر انسان زندگی میں ایک بار تو بادشاہ یا صدر یا وزیراعظم بننے کا سوچتا ہے اور عموماً اسکی وجہ طاقت اور لامحدود اختیارات کا مالک بن کر کچھ تبدیلیاں لانا ہوتا ہے۔ کچھ کے نزدیک یہ تبدیلیاں ذاتی آسائش، عیش و عشرت اور طاؤس و رباب کے لئے ہوتی ہیں اور کچھ ملک یا عوام میں تبدیلی کے خواہاں ہوتے ہیں۔ اکثر راقم کے دل میں بھی یہ تمنا پیدا ہوتی ہے کہ اگر وہ وزیراعظم ہوتا تو کیسی تبدیلی چاہتا؟

سب سے اہم ہے تعلیمی نظام کی بہتری۔
ہر شہر کے بیوروکریٹ اور سیاستدان کا بچہ سرکاری اسکول میں پڑھنے کا پابند ہو۔ ٹیوشن پر سختی سے پابندی ہو۔ جو بچے کمزور ہوں وہ اسکول کے بعد ایکسٹرا کلاسز اسکول میں ہی لے سکیں۔ اگر کسی بیوروکریٹ کے بیوی بچے ملک سے باہر ہوں تو اسے آپریشنل ذمہ داری نہ دی جائے کیونکہ اسے مسائل کا ادراک ہی نہیں ہوگا بلکہ کوئی ڈیسک جاب دی جائے۔ کسی سیاستدان کے نابالغ بچے ملک سے باہر ہوں تو وہ الیکشن لڑنے کے لئے نااہل ہو۔بالغ کے اوپر مرضی نہیں چلائی جاسکتی۔

پرائیویٹ میڈیکل کالج یا کسی بھی کالج کی فیس کا ستر فیصد حکومت پاکستان کو جائے۔ اس سے ہوشربا منافع میں کمی ہوگی اور زیادہ رجحان سرکاری اسکولوں اور کالجوں کی طرف ہوگا۔ یاد رہے اب یہ سرکاری اسکول وہی ہوں گے جہاں سیاستدان اور ڈپٹی کمشنر کے بچے پڑھ رہے ہیں تو انھیں تو بہتر ہونا ہی ہوگا۔

اسکے بعد آتا ہے عدل اور انصاف کا نظام۔
کوئی بھی جج بغیر امتحان کے نہ لگے، کسی بھی وکیل کو ڈائریکٹ ہائی کورٹ جج لگا دینے کی ممانعت ہو بلکہ میرٹ سے اوپر آئے۔ ججوں کے بچوں پر بھی سرکاری اسکولوں میں پڑھنے کا وہی قانون لاگو ہو جو اوپر بتایا گیا ہے۔ سوائے قتل اور ریپ کے، ہر کیس تیس دن کے اندر حل ہو۔ اگر کوئی جان بوجھ کر جھوٹا کیس کرے تو اسے دس ہزار روپے فی گھنٹہ کے حساب سے جرمانہ یا اسی حساب سے جیل ہو۔

بڑے بڑے سرکاری گھروں کی بجائے ایک ہی بلڈنگ میں تحصیلدار سے لیکر ڈپٹی کمشنر اور سول جج سے لیکر ڈی ایس پی رہے! جج ارشد ملک جیسی پارٹیاں پھر نہیں ہو سکیں گی۔

کسی بھی پلاٹ یا مکان کی خریدو فروخت علاقہ مجسٹریٹ اور سول جج کے دستخط سے ہو۔ اسکے بعد قبضہ ہوجائے تو بہتر گھنٹوں کے اندر حقدار کو مکان یا پلاٹ دلوانا مجسٹریٹ اور سول جج کی ذمہ داری ہو ورنہ انھیں مجرمان کا ساتھی سمجھا جائے۔ پراپرٹی پر اسٹے آرڈر ایک ہفتے سے زیادہ نہ ہو اور اگر ناجائز اسٹے ہو تو پراپرٹی کی قیمت کا بیس فیصد، اسٹے لینے والے کو بطور جرمانہ دینا پڑے یا کم از کم دو سال کی سزا

بیرون ملک پاکستانیوں کا ایک ایک پیسہ حکومت پاکستان سے انشورڈ ہو۔ کوئی فراڈ ہو تو انویسٹر کو پیسے حکومت واپس کرے اور پھر فراڈئیے سے سود سمیت خود واپس لے!

کسی شریف مرد یا عورت پر آزادی اظہار کے نام ہر بہتان لگانے والے کو وہ بہتان/الزام ایک مہینے کے اندر ثابت کرنا پڑے ورنہ اسکے شناختی کارڈ پر جھوٹا/جھوٹی درج کردیا جائے اور کسی بھی عدالت یا جائداد کے مسئلے میں اسکی گواہی قبول نہ ہو۔ ایک سال کے بعد یہ شناختی کارڈ سے ختم کردیا جائے اور اگر مجرم دوبارہ یہی جرم کرے تو پھر یہ کلنک تاحیات شناختی کارڈ پر رہے۔

سرکاری افسر اور سیاستدان پر ایک سال میں بیس ہزار روپے سے زیادہ کا تحفہ لینے پر پابندی ہو۔ اس طرح ملک ریاض سیاستدانوں میں بلٹ پروف لینڈ کروزر نہیں بانٹ سکے گا۔ اس قانون کا سرکاری افسر اور سیاستدان کے بہن بھائیوں پر بھی اطلاق ہو۔ بیوی اور بچے اس سے مبرا ہوں بشر طیکہ وہ ٹیکس دیتے ہوں۔

لین دین اور تجارت میں کیش کا استعمال کم سے کم ہو۔ کیش کی صورت میں ادائیگی ایک ہزار روزانہ سے زیادہ نہ ہو وہ بھی ریڑھی والوں کے لئے۔ ہر وہ دوکاندار جس کی دوکان ہے، وہ سودا ڈیبٹ کارڈ پر دے۔ ساری ادائیگی ڈیبٹ کارڈ کی صورت میں ہو تاکہ ٹیکس کی صحیح مانیٹرنگ ہوسکے۔

قانونی رو سے کوئی بہن اپنے بھائی کے لئے جائیداد سے دستبردار نہ ہوسکے۔ اگر بہن کو نہیں چاہئیے جائیداد تو یہ قومی خزانے میں جمع ہو۔ چھپ کر جائیداد یا دولت بھائی کو دینے پر، لینے والے بھائی کو فی لاکھ ایک سال کی قید ہو۔ ماں باپ اپنی زندگی میں زیادہ سے زیادہ پچاس فیصد جائیداد اولاد کے نام ٹرانسفر کرسکیں اور باقی مرنے کے بعد وصیت میں ملے۔ اس سے ماں باپ پر ظلم اور جذباتی بلیک میلنگ سے چھٹکارا ملے گا۔

اگر ایک ڈاکٹر، انجنئیر یا آئی ٹی اسپیشلسٹ، ملک سے باہر جائے تو اس پر مادر وطن کا قرضہ,سیٹل ہونے والے ملک میں تعلیمی خرچے کے برابر سمجھا جائے۔ مثلاً اگر ایک ڈاکٹر پاکستان سے ایم بی بی ایس کرکے امریکہ آتا ہے تو امریکہ میں ڈاکٹر بننے کا خرچہ کم ازکم تین لاکھ ڈالر ہے۔ اگلے پندرہ سال میں اس ڈاکٹر نے پاکستان کو تین لاکھ ڈالر واپس کرنے ہیں۔ اگر وہ نہیں کرتا تو حکومت اس کے کاغذات اور ڈگری کی اٹیسٹیشن پر پابندی لگا دے۔ اگر میڈیکل کالج میں مناسب کنٹریکٹ پر اسٹوڈنٹ کے دستخط کروائے جائیں تو بیرون ملک وکیل کے ذریعے بھی یہ رقم نکلوائی جاسکتی ہے۔ اگر ایسا قانون پاس ہوا تو راقم سب سے پہلے یہ ادائیگی کرے گا۔

ڈاکٹرز، انجنئیرز، آئی ٹی اسپیشلسٹس اور سائنسدانوں کو یہ بانڈ بھرنا پڑے کہ پوری زندگی میں وہ جو بھی ایجاد کریں گے، پیٹنٹ (patent) لکھیں گے، اس میں سے ان کے حصے کا انچاس فیصد گورنمنٹ آف پاکستان کو جائے گا۔ اگر وہ سائن نہیں کرتے تو سرکاری کالجز اور یونیورسٹی میں داخلہ نہ دیا جائے۔

خواہشوں کی فہرست بہت طویل ہے لیکن ابھی اتنا ہی کافی ہے !

دنیا میں تبدیلی اتنا آسان کام نہیں کہ عطا الّلہ عیسی خیلوی کے گانوں پر دھرنے میں ناچ کر لائی جاسکے۔ یہ وہ چکی جس میں پہلے خود کو پیسنا پڑتا ہے۔ قانون کا اطلاق کرنا پڑتا ہے اور پھر اس کے مطابق زندگی گزارنی ہوتی ہے۔ یہی ترقی کا راستہ ہے باقی سب خواب ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں