182

کیا فلاحی اسلامی ریاست کا خواب شرمندہ تعبیر ہوپائیگا؟

جب سے عمران خان اور تحریک انصاف نے پاکستان کو ’’ ریاست مدینہ ‘‘ بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

ضیاء الحق کے ’’دور خلافت‘‘ اور پرویز مشرف کے’’ نظریہ سوفٹ امیج‘‘ کی ڈسی ہوئی قوم خوفزدہ اور سہمی ہوئی ہے کہ اب کیا ظہور پذیر ہونے والا ہے کیونکہ اس صدی میں عالم اسلام اور مسلمانوں کی سرفرازی و سربلندی کیلئے کام کرنے والے راہنما ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف الیکشن دھاندلی کی تحریک چلائی گئی جو بعد میں نفاذ نظام مصطفیٰ ؐمیں تبدیل ہوگئی۔

اس تحریک کے نتیجے میں جنرل ضیاء الحق نے حکومت پر قبضہ کیا ملک میں مارشل لاء لگا دیا، تحریک میں حصہ لینے والی دینی جماعتوں کو بھی وزارتوں سے نواز کر ان کی ’’خدمات‘‘ کا اعتراف کیا گیا، پھر جنرل ضیاء الحق نے عوام کو یقین دلایا کہ اب ملک میں اسلامی نظام کا نفاذ ہونے والا ہے، ٹی وی میں آنے والی اناونسروں کو دوپٹے اوڑھا دیئے گئے۔ اچھرہ میں زیادتی کے بعد قتل ہونے والے 8 سالہ ( پیو) بچے کے تین قاتلوں کوگرفتار کر کے کیمپ جیل کے باہر سر عام پھانسی پر لٹکا دیا گیا، گویا یہ اسلامی نظام کے نفاذ کی جانب پہلا قدم تھا۔ لوگوں کے دلوں میں مارشل لاء کی ہیبت چھا گئی۔ جمہوریت کی اہمیت مدہم پڑگئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں