184

رحیم یار خان: شک کی دلدل معصوم جانوں کو نگل گئی۔

رحیم یار خان (محمد لطیف سے) اللہ کے دین اور ان کے پیارے رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے بعد اولاد ہی ایک ایسی نعمت ہے، جسے ماں باپ اپنی جان سے بھی زیادہ پیار کرتے ہیں، اولاد کو کانٹا بھی چبھ جائے تو ماں باپ تڑپ اٹھتے ہیں، انہیں دنیاوی دکھ، دھوپ اور دکھوں سے بچانے کے لئے اپنی تمام تر خوشیاں تک نچھاور کر دیتے ہیں اور اپنے منہ کا نوالہ تک اولاد کے منہ میں ڈالتے ہیں۔ پھر ایسا کیسے ممکن ہے کہ ایک باپ اپنے ہاتھوں اپنے جگر گوشوں اور جان سے پیاری اولاد کو جان سے مار دیتا ہے؟۔

رحیم یارخان کی تحصیل خان پور میں ایسا ہی ایک افسوسناک اور درد ناک واقعہ پیش آیا، جس نے ہر آنکھ کو اشک بار اور سنگدل سے سنگدل انسان اور والدین کو تڑپا کر رکھ دیا۔ تنگدستی تھی یا غربت یا پھر بیوی کے کردار پر شک؟ ایک باپ نے اپنے ہی دو کم سن بیٹوں کو نہ صرف قتل کر دیا بلکہ اپنے ہی ہاتھوں سے ان کی گردنیں کاٹ کر نعشیں مٹی میں دباتے ہوئے جوان اور حاملہ بیوی کو تڑپتا، روتا اور سسکتا چھوڑ کر روپوش ہو گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں