183

پاکپتن: دریائے ستلج پر10 قبل پل تو بن گیا مگر رابطہ سڑکیں ٹوٹی پھوٹی ہونے کی وجہ سے افادیت کھو رہا ہے، میاں عبدالرحمن وٹو

پاکپتن (محمد نصراللہ سے) دریائے ستلج پر ایک ارب روپے کی لاگت سے بنائے گئے بابا فرید برج کی رابطہ سڑکیں 10 سال بعد بھی نہ سکیں ٹوٹی سڑکیں پاکپتن اور بہاولنگر کے مکینوں کے درد سر بن گئیں ان خیالات کا اظہار انجمن آڑھتیاں غلہ منڈی کے سابق صدرکسان اتحاد کے جنرل سیکرٹری میاں عبدالرحمن وٹو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ پاکپتن اور بہاولنگر کے مکینوں کو منڈیوں تک رسائی کے لئے 10 سال قبل دریائے ستلج پر ایک ارب روپے کی لاگت سے بابا فرید برج تعمیر کیا گیا دو اضلاع کے درمیان معاشی حب کی حیثیت رکھنے والا برج رابطہ سڑکیں نہ ہونے سے اپنی افادعیت کھونے لگا۔ ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کے باعث کسانوں کو بھی اپنی اجناس منڈیوں تک پہنچانے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسانوں کے مسائل کم کرنے کیلئے بنے برج کی ٹوٹی سڑکیں کسانوں کو اجناس منڈیوں تک پہنچانے میں شدید پریشان کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بابا فرید برج کی رابطہ سڑکیں بننے سے جہاں پاکپتن اور بہاولنگر کے مکین خوشحال ہوں گے وہیں کسان کی پریشانی بھی کم ہو گی انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری برج کے لنک روڈ کی تعمیر کا آغاز کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں