203

پاکپتن: چوتھی جماعت کے بچے سے اجتماعی زیادتی اور ویڈیو بنا کر بلیک میل کرنے والوں کی پشت پناہ پولیس بن گئی، متاثرین کا پریس کلب کے باہر احتجاج

پاکپتن (ڈاکٹر امین سے) قبولہ میں اجتماعی بدفعلی اور ویڈیو بنانے کا معاملہ پولیس ملزمان کے ساتھ ساز باز ہونے پر مدعی فریق کا پریس کلب پاکپتن کے سامنے شدید احتجاج پولیس ملزمان کو بے گناہ کرنا چاہتی ہے، ایک ماہ گزر گیا انصاف نہیں مل سکا مدعی فریق کا الزام تفصیلات کے مطابق پاکپتن کے علاقہ قبولہ محلہ حسین آبا دمیں ملزمان کلیم، سلیمان، نے معصوم بچے چوتھی جماعت کا طالب علم کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا اور موبائل سے ویڈیو بھی بنائی ملزمان بعد ازاں معصوم بچے کو ویڈیو دیکھا کر بلیک میل بھی کرتے رہے. مدعی فریق بچے کے والد منظور احمد و دیگر نے کا پریس کلب کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ تھانہ قبولہ کے ایس ایچ او نثا ر بھٹی اور تفتیشی اللہ وسایا ملزمان سے ساز باز ہوگئے ہیں اور ملزمان کو بے گناہ کرنا چاہتے ہیں تین ملزمان چالان ہو گئے جب کہ ایک ملزم نے مبینہ طور پر بھاری رشوت دے دی ہے انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان، وزیر اعلیٰ پنجاب آئی جی پنجاب و دیگر متعلقہ حکام سے اپیل کی ہے کہ ایسے گھناؤنے فعل کے مرتکب مجرمان کو سر عام پھانسی دی جائے اور ملزمان کے ساتھ ساز ہونے پر پولیس کے خلاف بھی کاروائی کی جائے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں