184

اسلام آباد: کفایت شعاری پالیسی ہوا ہو گئی، صدر مملکت کا گفٹ، انٹر ٹینمنٹ اورصوابدیدی فنڈ پر پابندی سے استثنیٰ کا مطالبہ

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) عمران خان نے اپنی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے کے بعد کفایت شعاری کی پالیسی اپنانے کا اعلان کیا تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ کفایت شعاری پالیسی ہوا ہونے لگی۔ تفصیلات کے مطابق صدرمملکت عارف علوی نے وفاقی حکومت کے کفایت شعاری پروگرام کے تحت گفٹ اینڈ انٹر ٹینمنٹ اور صوابدیدی فنڈز پر عائد پابندی سے استثنیٰ طلب کر لیا ہے، یہی نہیں بلکہ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ایوان صدر کیلئے خصوصی فنڈز مختص کرنے کا مطالبہ بھی کردیا۔ وفاقی حکومت کی جانب سے وزیراعظم آفس، کابینہ ڈویژن اور وزارت خارجہ کو گفٹ اینڈ انٹر ٹینمنٹ اور صوابدیدی فنڈزاستعمال کرنے کی اجازت دینے کا انکشاف بھی ہوا۔

قومی اخبارات میں شائع رپورٹ کے مطابق گفٹ اینڈ انٹر ٹینمنٹ فنڈز پر پابندی کے باوجود گذشتہ مالی سال کے دوران 51 کروڑ 60 لاکھ روپے خرچ کردئیے گئے۔ وفاقی کابینہ نے ستمبر 2018ء میں کفایت شعاری مہم کے تحت وزارتوں کا گفٹ اینڈ انٹر ٹینمنٹ فنڈ ختم کرنے کی منظوری دی تھی جس کے بعد فنانس ڈویژن ایوان صدر اور وزارتوں اور ڈویژنز کو انٹر ٹینمنٹ اینڈ گفٹس کے تحت ادائیگیاں روک دی تھیں۔ وفاقی کابینہ ایوان صدر کو گفٹ اینڈ انٹر ٹینمنٹ اور صوابدیدی فنڈز کے استعمال پر عائد پابندی ختم کرنے سے متعلق حتمی فیصلہ آج کرے گی۔ رپورت کے مطابق وزیر خارجہ پی ایم آفس، وزارت خارجہ اور کابینہ ڈویژن کو اس حوالے سے خصوصی رعایات دی جا چکی ہیں۔ صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی کے سیکرٹریٹ کی جانب سے مطلع کیا گیا کہ آئین پاکستان کے آرٹیکل 41 کی شق 1 کے تحت صدر مملکت وطن عزیزپاکستان کے سربراہ ہیں اور مملکت کے اتحاد کی نمائندگی کرتے ہیں۔ آئین کے آرٹیکل 50 کے تحت صدر پارلیمنٹ کا حصہ ہیں۔ صدر پاکستان کے سیکرٹریٹ کی رولز آف بزنس 1973ء کے شیڈول ون (وزارتوں اور ڈویژن کی فہرست) اور شیڈول II (وزارتوں میں کام کی تقسیم) میں عکاسی نہیں ہوتی۔ اس آفس کے خاص اسٹیٹ میں مخصوص اور حساس کام شامل ہیں۔ صدر کے پروگرامز، میٹنگ، فنکشنز، کو حتمی شکل دینے سے لے کر خاتمے تک متعلقہ وزارتوں، ڈویژن کے ساتھ مختلف پروگرامز منعقد کیے گئے ۔

ایوان صد ر میں مقامی اور غیرملکی وفود اور مہمانوں کا استقبال کرنا، قومی دنوں اور یوم دفاع کے حوالے سے فنکشن کے انتظامات کرنا، وزارتوں اور اداروں کے ساتھ رابطے میں رہنا جہاں صدر پاکستان کو بطور مہمان خصوصی مدعو کیا گیا ہو اور معمول کی پروٹوکول کی ذمہ داریاں ایوان صدر کی ذمہ داریوں میں شامل ہیں۔ فنانس ڈویژن نے وفاقی کابینہ کو آگاہ کیا کہ ایوان صدر نے وفاقی کابینہ کی جانب سے 7 مئی 2019ء کے اجلاس میں پی ایم آفس، وزارت خارجہ اور کابینہ ڈویژن کو خصوصی رعایت دینے کا معاملہ بھی اُٹھایا اور اسی رعایت کے تحت ایوان صدر نے صوابدیدی فنڈز کے استعمال پر عائد پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ایوان صدر نے کابینہ ڈویژن کو لکھے گئے مراسلے میں سفارش کی کہ انٹر ٹینمنٹ اینڈ گفٹ کے حوالے سے بجٹ مختص کیا جائے اور ایوان صدر کو اس حوالے سے مستثنیٰ قرار دیا جائے ۔ وزیراعظم کے مشیر برائے فنانس، ریونیو اور معاشی امورڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے بھی ایوان صدر کے مطالبے کی حمایت کی ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں