300

قادیانیت کا فتنہ، اورہم جزباتی مسلمان …. (عاصم نیاز)

تحریر: عاصم نیاز

قادیانیت ایک فتنہ ہے، اس میں کوئی دوسری رائے نہیں، اور قادیانیت کا پیروکار، مسلمان نہیں ہو سکتا، یہ بھی ایک اٹل حقیقت ہے۔ آج کے اس سائینسی دور میں اس بات کی ضرورت اوربھی بڑھ گئی ہے کہ سادہ لوح اور عام فہم مسلمانوں کو قادیانیت سے محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ اس فتنہ کا سد باب کیا جائے؟ اس سوال کا جواب علماء تو دے ہی رہے تھے مگر اب سوشل میڈیا کے عام ہو جانے سے ہر مسلمان اس سوال پر اپنی سوچ اور فکر کے مطابق حل پیش کر رہا ہے۔ اگر صرف حل ہی پیش کیا جاتا تو یہ اسلام کی بہت بڑی خدمت ہوتی، لیکن جزبات کے دھارے میں بہے بیشتر مسلمان بھائیوں کی سوشل میڈیا پر کی گئی پوسٹیں الٹا ہی کام کر رہی ہیں۔

سارے کا سارا سوشل میڈیا گالیوں سے بھرا پڑا ہے، کوئی کہتا ہے کہ قادیانی سے ملنے والا بھی کافر، تو کسی نے یہ لکھ رکھا ہے کہ جیسے کتے کو ساتھ بٹھانے سے لباس پر اس کی ناپاک رال لگ جاتی ہے، ویسے ہی قادیانی کے ساتھ بھی نہیں بیٹھا جا سکتا۔

یہاں ایک سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر قادیانی سے ملاقات نہیں کریں گے، پاس نہیں بیٹھیں گے، اخلاق سے پیش نہیں آئیں گے تو قادیانی کو دعوت اسلام کس طرح پہنچائی جا سکے گی؟ ہمارے جزباتی مسلمان بھائیوں کی بات اس قادیانی پر تو لاگو کی جا سکتی ہے کہ جو مسلمان سے قادیانی ہو گیا ہو اور پھر اپنی ہٹ دھرمی پر ڈٹ چکا ہو۔ مگر یہ لاجک پیدائشی قادیانیوں پر لگانا سراسر نا انصافی ہو گی۔

قیامت کے دن وہ خدا سے سوال کر سکتے ہیں کہ ہم نے تو ساری عمر اپنی دینی کتابیں پڑھیں اور قادیانیت کو ہی حقیقت مان کر زندگی گزاری، مسلمان تو ہمارے پاس آئے ہی نہیں، اگر کوئی آیا بھی تو اسنے گالم گلوچ سے ہی کام چلایا، سچے اسلام کی حقانیت کی دعوت ہم تک نہیں پہنچائی۔

مجھے تو یہ سوچ کر ڈر لگتا ہے کہ کہیں ہم مسلمان ہی تو ان قادیانیوں کو انکے کفر پر مزید پکا تو نہیں کر رہے؟ کہیں ہم ہی تو ان کو اسلام کی سچائی سے متنفر کرنے کا سبب نہیں؟

ہمارے نبیﷺ اخلاق کی اعلیٰ مثال تھے، مگر ہم کس طرف جا رہے ہیں؟ زیاہ تر مسلمان، قادیانیوں کو گالیاں دینے کے سوا اور کچھ نہیں کر رہے- قادیانیوں کو اسلام کی دعوت پہنچانے کا عملی کام بالکل نہ ہونے کے برابر ہے اور اگر ہے بھی تو وہ بالکل اسی سطح کا کہ جیسا فرقہ وارانہ جماعتیں دوسرے فرقے کے لوگوں کو اپنے فرقے میں لانے کی کوشش کرتی ہیں، یا پھر بالکل اس طرح کے جیسے لاحاصل مناظرے چلتے رہتے ہیں۔ قادیانیوں کو مسلمان کرنے کی طرف کوئی توجہ ہی نہیں دے رہا۔

ہم سب نے کئی سچے قصے سن رکھے ہیں کہ جن میں مسلمانوں نے دس دس سال ایک ہی غیر مسلم پر محنت کی اور اپنے دین اور اخلاق سے متاثر کر کے انکو مسلمان کیا۔ کیا اسی طرح ہم مسلمان، قادیانیوں پر محنت نہیں کر سکتے؟ زیادہ تر ہر کوئی جذباتیت کے گھوڑے پر سوار ہو کر بدزبانی کے نشتر چلا رہا ہے، جس کا اسلام کو رتی برابر بھی فائدہ نہیں۔ اخلاق اور حکمت کی کوئی بات نہیں کرتا! اسلام کا معنی ہی امن اور سلامتی ہے جو کہ حکمت و اخلاق کے بنا کبھی قائم نہیں ہوتا۔
اب اس بات کا فیصلہ ہم مسلمانوں نے خود کرنا ہے کہ قادیانیت کا ناسور صحیح معنوں میں ختم کرنا ہے یا قادیانیوں کو ان کے کفر پر مزید پکا کرنا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں