305

ایک قوم جس کا نام ……….. پاکستانی ہے…. (میاں عمردرازہانس)

تحریر میاں عمردرازہانس

ہم رشوت کو چائے پانی کہتے ہیں، مردار گدھوں اور کتوں کا گوشت کئی ہوٹلوں اور قصابوں سے پکڑا گیا ہے، سیوریج کے پانی سے سبزیاں اگائی جارہی ہیں.

ڈاکٹرزاب گردے نکال کر بیچ دیتے ہیں، ماؤں نے نارمل طریقے سے بچے جننے چھوڑ دیئے ہیں کیونکہ ڈاکٹرز کے پیٹ نہیں بھرتے.

شہد کے نام پر چینی، شکر اور گُڑ کا شیرہ ملتا ہے، سنتالیس لوگ طیارہ حادثے میں قتل کردیئے گئے اور ایم ڈی پی آئی اے فرمارہے ہیں کہ امید تھی کہ طیارہ ایک انجن سے لینڈ کرلے گا.

بلوچستان جہاں جانور اور انسان ایک ہی گھاٹ سے پانی پیتے ہیں (اگرمیلوں سفر کے بعد کوئی گھاٹ مل جائے) اور اسی بلوچستان کے ایک بائیس گریڈ کے افسر کے گھر سے ایک ارب روپے کے قریب کیش برآمد ہوا اور اس افسر کے صرف ڈیفنس کراچی میں اب تک آٹھ بنگلے دریافت ہوچکے ہیں.

عوام علاج کے لیے سرکاری ہسپتالوں سے دو دو سال بعد کا ٹائم ملتا ہے اور حکمرانِ وقت دنیا کے بہترین ہسپتالوں اور ڈاکٹروں سے علاج کروانے ملک سے باہر جاتے هیں، پیچھے سے یہی عوام ان کی صحتیابی کی دعائیں کرتے ہیں
اور ان کے علاج پر کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔

اس ملک میں بھتہ نه ملنے پر تین سو انسانوں کو زندہ جلادیا جاتا هے، لیکن لوگ اب بھی اس پارٹی کو ووٹ دیتے ہیں بے انتہا کرپشن کرکے ایک پارٹی نے پورا سندھ برباد کردیا پھر بھی لوگ اس پارٹی کو ووٹ دیتے ہیں، اس ملک کے سب سے بڑے صوبے کا تیسری مرتبہ کا وزیرِ اعلٰی انتخابات سے پہلے بڑے بڑے وعدے کرتا ہے اور انتخابات کے بعد اسے جوشِ خطابت قرار دے دیا جاتا ہے، اس ملک کے سب سے بڑے صوبے کا ساٹھ فیصد بجٹ میں سے 10 فیصد بجٹ صرف ایک شہر پر لگا دیا جاتا ہے اور باقی نو کروڑ لوگ اپنے حقوق کے لیے چُوں تک نہیں کرتے، بلكه وہ اپنے علاقے سے ہزار کلومیٹر دور صوبائی دارلحکومت میں کسی سڑک کے بننے پر خوشيان منا تے ہیں جبکہ ان کے اپنے شہر کھنڈر کا منظر پیش کررہے ہوتے ہیں.

قائدِاعظم کے مزار کی دیکھ بھال پر موجود عملہ مزار کے نیچے موجود کمروں کو ”جوڑوں” کو کرائےپردیتا تها، بچوں سے جنسی زیادتی کے ہوشربا اور ہولناک سکینڈلز سامنے آتے ہیں، کہا جاتا ہے کہ تین کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں اور آدھی سے زیادہ آبادی کے ليے پوری خوراک بهى نهيں-

دنیا بھر میں رواج ہے کہ کوئی مجرم عدالت جاتے یا آتے وقت احساسِ ندامت سے اپنا چہرہ چھپاتے ہیں لیکن ہمارے ملک میں بڑے بڑے مجرم حتٰی کے قاتل بھی عدالتوں کے باہر وکٹری سائن بناتے نظر آتے ہیں۔

اس ملک میں آپ اپنا جائز سے جائز کام بھی خوار ہوئے اور رشوت دیئے بغیر نہیں کرواسکتے، لوگ اپنی محافظ پولیس سے دامن بچا کر دور دور سے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں، عدالتیں کسی ملک کا وقار ہوتی ہیں اور عوام کا آسرا ان کے بارے میں مساجد میں دعائیں کی جاتی ہیں کہ اللہ ہمیں کورٹ کچہری سے بچائے.

اپنے ملک کا حشر نشر ہو چکا ہے، پورا ملک لوٹ کر عوام کا خزانہ بیرون ملک منتقل کردیا گیا ہے لیکن عوام کو اس بات میں زیادہ دل چسپی ہے کہ سعودی عرب کے بادشاہ نے امریکی صدر کو کیا تحفہ دیا۔۔۔۔

مورخ جب اس انوکھی قوم کی تاریخ لکھے گا تو اپنا سر پیٹ کر رہ جائے گا ۔۔۔۔

اس قوم کی تفریح فیس بک اور واٹس پر اپنے مخالفین کو لعن طعن کرنے کی حد تک رہ گئی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور بھی بے شمار چیزیں ہیں لیکن پڑھے گا کون؟ سمجھے گا کون ؟ ہم تو بس ایک اندھیر نگری چوپٹ راج کی جیتی جاگتی تصویر بنے ہوئے ہیں۔

افسوس صد افسوس ۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں