290

ہومیو پیتھک ڈاکٹرز اور تشخیصی آلات کی ضرورت ….. (ہومیوپیتھک ڈاکٹر خالد محمود ہادی)

تحریر: ہومیو پیتھک ڈاکٹر خالد محمود ہادی

پاکستان ترقی پزیر ملک ہے۔ یہاں دوسرے مسائل کے ساتھ صحت کا مسئلہ بھی بہت بڑا ہے۔ عوام کو صحت کی سہولیات مہیا کرنا حکومتوں کا کام ہے۔ ہر دور میں حکومتیں زیادہ سے زیاد ہ سہولتیں عوام تک پہنچانے کیلئے اقدامات کرتی ہیں۔ صحت کا مسئلہ واحد مسئلہ ہے جسے حکومت مکمل طور پر عوام کو Faclitate نہیں کررہی۔ شعبہ صحت میں کام کرنے والوں کو حکومت ملازمتیں بھی نہیں دے سکتی وسائل کی کمی کی وجہ سے 100% لوگوں کو ملازمت دینا ناممکن ہے اس لئے پوری دنیا میں ہیلتھ سروس پرووائیڈرز کو پرائیویٹ سیکٹر میں زیادہ سے زیادہ سہولیات مہیا کر کے حکومت پر تنخواہوں / پینشن کا لوڈ کم رکھا جاتا ہے اور عوام کو سستی اور معیاری طبی سہولتیں میسر آئیں۔

پاکستان میں چار شعبے ہیں جن کو حکومت ہیلتھ سروس پرووائیڈرزکے طور پر تسلیم کرتی ہے ان کو مزیدمنظم کرنے کے لئے صوبوں نے ہیلتھ کیئر کمیشن بنائے جن کا کام صوبے میں بسنے والے عوام کو مہیا سہولتوں کو ریگولیٹ کرنا اور عوام میں عطائیت کا خاتمہ کرنا ہے، شعبہ صحت میں قانونی حیثیت کے اندر رہتے ہوئے چار طریقے درج ذیل ہیں جو کہ پاکستان میں کلینک / دوا خانہ بنا کر صوبے کے ہیلتھ کیئر کمیشن میں رجسٹرڈ ہو سکتے ہیں:

1۔ MBBS ایلوپیتھک ڈاکٹرز، 2 ۔ DHMS ہومیو پیتھک ڈاکٹر، 3۔ حکماء اور 4۔ نرسز ہیں۔ یہ بطور ہیلتھ سروس پروائیڈر خود کو صوبے کے ہیلتھ کیئر کمیشن میں رجسٹرکروا کر صحت کے شعبہ میں عوام کی خدمت کر سکتے ہیں۔ انکے لئے ہر طریقہ علاج کی ضرورت کے مطابق سہولت دینے کے لئے ایک معیار مقرر کیا گیا ہے جس کی پابندی کر نا کمیشن اور طبیب دونوں کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ مریض چاہتا ہے کہ مجھے زیادہ سے زیادہ سہولت ایک ہی جگہ پر مل سکیں اور طبیب / ڈاکٹر بھی چاہتا ہے کہ مریض کے علاج و تشخیص کے لئے زیادہ سروس مہیا ہو۔ تا کہ مریض کا علاج شروع کر نے میں کوئی دیر نہ ہو اور اس کا علاج تشخیص کے فوراًبعد شروع ہوسکے اور وہ امراض / تکلیف سے جلد نجات حاصل کر سکے۔ مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ حکومت (ھیلتھ کیئر کمیشنز) نے ہر طریقہ علاج کیلئے علیحدہ علیحدہ معیار بنا کر مریض اور ڈاکٹر ز میں فاصلہ پیدا کیا ہوا ہے جس سے مریض کا وقت / پیسہ ضائع ہوتا ہے اور مرض میں اضافے کا بہت زیادہ امکان ہوتا ہے۔ کچھ تشخیصی آلات مثلاً تھرما میٹر، بی پی اپریٹس، ویٹ مشین اور الٹرا ساؤ نڈ مشین وغیرہ ابتدائی تشخیص کیلئے بہت اہم ہوتے ہیں۔

درجہ بالا ٹولز کم سے کم معیار پر رجسٹرڈ کلینک کی ضرورت ہوتے ہیں، مگر بد قسمتی سے یہاں دوہرا معیار قانون ہونے کی وجہ سے جہاں عوام جدید طریقہ تشخیص سے محروم ہوتی جا رہی ہے۔ وہاں ڈاکٹر ز اور حکماء اس جدید سائنسی افادیت سے محروم ہیں۔

2014ء میں درجہ بالا پریشانی کو ایڈریس کرنے کے لیے پنجاب کی ایک ہومیو پیتھک ڈاکٹرز کی تنظیم کی درخواست پر صوبائی محتسب اعلیٰ پنجاب نے سیکرٹری ہیلتھ اور ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ پنجاب کو اس حوالہ سے ایک واضع حکم جاری کیا تھا، مگر نیشنل کونسل برائے ہومیوپیتھک پاکستان نے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش میں ہومیو پیتھک کمیونٹی کا بہت بڑا نقصان کیا اور کونسل کا یہ عمل کمیونٹی کی جگ ہنسائی کا باعث بنا۔ تنظیمی ساتھی لائن سے دور ہو گئے اور محنت ضائع ہوئی کامیابی حاصل ہوئی لیکن اس کا درست فائدہ نہ مل سکا اور ہم کونسل کے ہاتھوں استعمال ہو کر مقصد سے دور ہو گئے۔

کونسل کا ایک اختیار ہے وہ صرف DHMS کو RHMP یعنی، رجسٹر ہومیو پیتھ میڈیکل پریکٹسیز ز سرٹیفیکیٹ جاری کر نا ہے۔ وہ کوئی اور سرٹیفیکیٹ یا سند وغیرہ جاری نہیں کر سکتی یہاں تک کہ امتحانی کمیٹی وزارت صحت کے ماتحت ہوتی ہے۔ صوبائی محتسب اعلیٰ کے حکم نامے پر D.G.Health Punjab نے عمل کرنے کے لئے لیٹرنمبری 1094-1174L.C مورخہ 12-10-2014 جاری کردیا تھا۔ 2015ء سے PHC نے 2010ء سے منظور پنجاب اسمبلی سے پنجاب ہیلتھ کیئرکمیشن ایکٹ کے تحت کا م کرنا شروع کر دیا۔ PHCکے فنگشنل ہونے کے بعد FTJ ،DHMS ،BBS اور نرسز کے PHC سے رجسٹرڈ ہونے کے بعد پنجاب میں بطور ہیلتھ سروس Provider رجسٹر ہونا ضروری ہوگیا۔

یہاں میں PHC کے ذمہ دار ان سے گزارش کرتے ہوئے کہتا ہوں کہ کوئی تشخیصی آلات میڈیسن نہیں ہوتی۔ ECG اور الٹرا ساؤنڈ Diagnostic Instruments ہر کلینک کی اشد ضرورت ہے اور بہت سے ڈاکٹرز اس سہولت کو A ford بھی کرتے ہیں اور وہ اپنے کلینک کواپ گریڈ کرنا چاہتے ہیں، عوام کو زیادہ سے زیادہ طبی سہولتیں ایک جگہ مہیا کرنے کا عزم رکھتے ہیں، جس کو عملی جامہ پہنانے کے لئے جدو جہد کر رہے ہیں۔ اس سلسلہ میں PHC کوئی معیار تعلیم مقرر کرنا چاہتی ہے تو ضرور اس کا اعلان کرے اور اگر قانونی طور پر کوئی رکاوٹ نہ ہے تو تفصیلی طور پر PHC ہیلتھ سروس Provider کو تحریری آگاہ کرے۔ یقینا PHC کے اقدام سے ہومیو ڈاکٹرز میں جو کوئی تعلیمی یا قانونی رکاوٹ ہے اُسے دور کرنے کی کوشش کرے جس سے ہومیو ڈاکٹرز اور مریض دونو ں کا فائدہ ہو جبکہ عام فہم میں ان تشخیصی آلات کو استعمال کرنے میں کوئی قانونی پیچیدگی ہرگز نہیں، صرف انتظامی رکاوٹیں ہیں جن کو ایک طبقہ نے ذاتی مسئلہ بنا کر اپنی جاگیر بنا رکھا ہے جو کسی طور قابل قبول نہیں ہو سکتی، ہومیو پیتھک ڈاکٹرز اپنے حقوق کے لئے ہر جگہ پر جدو جہد کرتے رہیں گے اور انشااللہ کامیاب ہوں گے۔ اس مسئلے کے لئے پنجاب بھر کے ہومیو ڈاکٹرز متحد ہیں اور رہیں گے۔

ہومیو پیتھک کا لج مافیا جو ایک عرصے سے نیشنل کونسل فار ہومیو پیتھی پاکستان پر قابض ہیں جنہوں نے ہومیو پیتھی کو نقصان پہنچایا اور اسکی ترقی میں رکاوٹیں پیدا کی۔ ہومیو ڈاکٹرز کی پریشانی اور مسائل میں اضافہ کیا اور ان کے جائز مسائل کو سیاست کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔گزشتہ دس پندرہ سالوں سے مسائل میں کوئی کمی نہیں ہوئی بلکہ اضافہ ہو ا ہے۔ ہومیوپیتھک پریکٹیشنرز نیشنل کونسل کی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرکے اپنے مسائل کو حل کر سکتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں