232

عمران کا دورہ امریکہ، سادگی کیوں اختیار کی؟ ۔۔۔۔۔ (صابر بخاری)

تحریر: صابر بخاری۔

وزیر اعظم عمران خان، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ امریکہ کے دورے پر ہیں۔ یہ دورہ کیوں کیا گیا؟ آرمی چیف وزیر اعظم کے ہمراہ کیوں گئے؟ اور اس کے اثرات کیا مرتب ہوں گے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ دورہ سادگی کا مظہر کیوں رہا؟ اس حوالے سے کافی باتیں کی جا رہی ہیں۔ بغور جائزہ لیں تو یہ دورہ پاکستان اور امریکہ کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ پاکستان معاشی لحاظ سے انتہائی مشکل دور سے گزر رہا ہے۔ امریکہ سے خراب تعلقات کی بدولت ہماری معاشی مشکلات میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ چین نے ہماری کچھ مدد کی مگر اب بھی دنیا کی بڑی کمپنیاں، مالیاتی ادارے اور سرمایہ دار امریکہ کی مٹھی میں ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ چین اس وقت امریکہ کے ہم پلہ آچکا ہے مگر ابھی بھی امریکہ کے سامنے کھڑے ہونے اور امریکہ کا متبادل بننے میں چین کو کافی عرصہ درکار ہے۔ ان حالات میں پاکستان سارا دارومدار چین پر نہیں کر سکتا۔ امریکہ سے دوری سے ہمیں معاشی مشکلات کا تو سامنا کرنا پڑا مگر ہم اپنے ملک میں پرو پیپلز سوچ کی قیادت لانے میں کامیاب ہوگئے جو پہلے عالمی طاقتوں خاص طور پر امریکہ کی خوشنودی سے معرض وجود میں آتی تھیں۔

پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو کریڈٹ جاتا ہے کہ اس نے امریکہ کے دباو کو برداشت کیا اور پاکستان کو اپنے پاوں پر کھڑا کرنے کا تہیہ کیا۔ اس دوران پاکستان کو کافی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ بھارت کا افغانستان میں اثرو رسوخ بڑھا دیا گیا۔ بھارت کو بھاری اسلحہ بھی فراہم کیا گیا۔ عالمی سطح پر پاکستان کیخلاف پراپیگنڈہ بھی تواتر سے جاری رہا۔ ایف اے ٹی ایف جیسے ادارے بھی پاکستان کے پیچھے پڑ گئے۔ سی پیک کی کھل کر مخالفت کی گئی۔ پاکستان کے اندرونی حالات خراب کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی، کلعدم تنظیموں کو بھرپور سپورٹ فراہم کی گئی، ایٹمی ہتھیاروں کے حوالے سے بھرپور پروپیگنڈا کیاگیا اور بھی اس طرح کے کئی اقدامات کیے گئے جن کا مقصد پاکستان کو ناکام ریاست ثابت کرنا تھا۔

پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے سابقہ غلطیوں اور ملک کو پہنچنے والے ناقابل تلافی نقصان کی تلافی کا فیصلہ کیا اور ایک پروپیپلز حکومتی سیٹ اپ کے لئے تگ ودو شروع کر دی۔ اب ضرورت اس امر کی تھی کہ مشکل فیصلے کیے کیسے جائیں؟یہاں ٹرمپ، مودی کا فارمولا آزمایا گیا۔ عمران خان اس کردار کو ادا کرنے کیلئے بہترین آپشن تھے۔ پرو پیپلز ہونے کے ساتھ ساتھ وہ مشکل فیصلے کرنے کیلئے بھی نہایت موزوں تھے۔ عوام میں بھی وہ اچھی خاصی ساکھ بنا چکے تھے، خاص طور پر نوجوانوں کی بڑی تعداد عمران خان کی حامی تھی۔

اسٹیبلشمنٹ نے تحریک انصاف پر ہاتھ رکھا اور اپنی تجربہ کاری بھی شیئر کی جس سے تحریک انصاف کی حکومت اقتدار میں آگئی۔ بھٹو کے بعد پہلی پرو پیپلز حکومت معرض وجود میں آئی جس میں امریکہ یاکسی اور ملک کا کوئی کردار نہیں تھا۔ اس دوران پاکستان کو تو مشکلات کا جو سامنا کرنا پڑا مگر امریکہ کوبھی کوئی اچھی خبر نہ ملی۔ افغانستان میں امن کیلئے بھارت سمیت کوئی بھی ملک امریکہ کی مدد نہ کرسکا۔ گیند ایک بار پھر پاکستان کے کورٹ میں ڈال دی گئی۔ افغان امن عمل اور چین اور روس سے پاکستان کی بڑھتی قربت نے امریکی اسٹیبلشمنٹ کو اپنی پالیسی کو ریوائز کرنے پر مجبور کردیا۔ دونوں طرف سے برف پگھلنا شروع ہوئی اور بات عمران ٹرمپ ملاقات تک پہنچ چکی ہے۔ اس ملاقات کے بعد پاکستان کو معاشی مشکلات سے نکلنے میں مدد ملے گی اور امریکہ کو افغانستان سے نکلنے میں، جس کے بعد افغانستان میں اصل کردار پاکستان کے ہاتھ میں آجائے گا۔

بات کریں وزیر اعظم کے دورہ پر آرمی چیف کی ہمراہی کی تو یہ انتہائی مثبت اقدام ہے۔ جس طرح سے پاک فوج باریک بینی سے معاملات کو سمجھتی اور پیپر ورک رکھتی ہے بد قسمتی سے کوئی اور ادارہ اس طرح ملک میں فعال نہیں۔ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں مگر لانگ ٹرم پالیسی اور مواد اسٹیبلشمنٹ کے پاس ہوتا ہے۔ آرمی چیف کے وزیر اعظم کیساتھ جانے سے جہاں امریکہ کو یہ پیغام دیا جائے گا کہ پاکستان میں حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر ہیں وہاں نوخیز عمران خان کو بھی آرمی چیف کی موجودگی سے بھرپور حوصلہ ملے گا۔ کچھ جماعتیں آرمی چیف کی وزیر اعظم کی ہمراہی کو نشانہ اس طرح بنا رہی ہیں جیسے وہ کوئی بھارت کے آرمی چیف ہوں۔ حالانکہ سابقہ وزراء اعظم بھی آرمی چیف کو اہم مواقع پر ساتھ لے جاتے رہے ہیں اور یہ سلسلہ تب تک جاری رہے گا جب تک سیاسی جماعتیں اپنے آپ کو اس قابل نہیں بنا لیتیں کہ وہ پوری طرح ملک کی باگ ڈور سنبھال سکیں۔

دوسری بات یہ کہ وزیر اعظم کے دورہ کے دوران اس قدرسادگی کیوں اختیار کی گئی؟ اور امریکی اعلیٰ قیادت نے عمران خان کو رسیو کیوں نہیں کیا؟ پرائیویٹ کمرشل طیارے سے جانے کا فیصلہ اس لیے کیا گیا تاکہ امریکہ کو یہ باور کرایا جا سکے کہ موجودہ پاکستانی حکومت پروپیپلز اور ملک کی خیر خواہ ہے۔ ملک اور عوام کا درد رکھتی ہے۔ اب جو بھی فیصلے کیے جائیں گے ملکی مفاد میں کیے جائیں گے۔ ملکی وسائل کو بے دردی سے لوٹا نہیں جائے گا۔ اس سادگی کا امریکی انتظامیہ پر اچھا اثر پڑے گا اوراس سے یہ بھی باور کرایا جائے گا کہ پرو پیپلز حکومت سے من پسند فیصلے نہیں لیے جا سکتے جو امریکہ سابق حکمرانوں سے لیتا رہا۔ اعلیٰ امریکی حکام کی طرف سے ریسیو نہ کرنے کی جہاں تک بات ہے تو اس کے لئے پاکستانی انتظامیہ نے امریکہ کو یہ موقع فراہم ہی نہیں کیا، ایک پرائیویٹ کمرشل طیارے پر جانے والے وزیر اعظم کو امریکہ کیوں پروٹوکول دیتا جب کہ وہ خود ہی پرائیویٹ طیارے سے سفر کرکے جس کی نفی کر رہا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں