267

غزل ۔۔۔۔ (شگفتہ یاسمین، چیچہ وطنی)

غزل

(شاعرہ: شگفتہ یاسمین، چیچہ وطنی)

دیارِ غیر میں تھی چاہت , بھلا کیسے امرہوتی
جتن لاکھ سے شبِ غم کی ,بھلا کیسے سحر ہوتی

سینچا لاکھ چاہے جتنا , ناکارہ تھی آوارہ تھی
وہ تھی کانٹوں بھری جھاڑی , بھلا کیسے ثمر ہوتی

سفید پوش چاہت اُس کی کئی لبادوں میں تھی لپٹی
داغ دار تھی, دغا باز تھی, بھلا کیسے گوہر ہوتی

سیاروں کی تھی مانند بے روشن, محتاج سی
میری سورج جیسی چاہت سے, بھلا کیسے قمرہوتی.

گھاس پُھوس سی تیری چاہت جو تھی اُڑتی ہرسو
کھادِ وفاجو نہ تو نے ڈالی , بھلا کیسے شجر ہوتی

شبِ غم ہوئی لمبی تیری ,بے درد بے وفائی سے
وفا کا دیپ نہ جلا تھا , بھلا کیسے فجر ہوتی

مٹ گئی ذات , ہوا برباد خوشیوں کا جہاں سارا
چھاجائے اگر غم آساں , بھلا کیسے عمر ہوتی

دیارِ غیر میں تھی چاہت, بھلا کیسے امر ہوتی
جتن لاکھ سے شبِ غم کی, بھلا کیسے سحر ہوتی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں