189

محراب پور: محکمہ پبلک ہیلتھ کے ماتحت ڈسپوزل ملازمین کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر کام چھوڑ ہڑتال، شہر کی اکثر سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں ، تاجر برادری کا احتجاج

محراب پور(ملک مشتاق احمد سے) محکمہ پبلک ہیلتھ کے ملازمین نے تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر کام چھوڑ ہڑتال کردی احتجاجاً ڈسپوزل کی موٹریں بند کرنے پر ہالانی روڈ، سیال آباد روڈ، کوٹری کبیر روڈ، نوناری محلہ، ملاح محلہ سمیت اکثر علاقے گندے پانی کی لپیٹ میں آگئے سڑکوں پر پانی کھڑے ہونے اور دکانوں میں داخل ہونے پر تاجر برادری نے اعظم جٹ، مٹھا خان کمبوہ، ہاشم کمبوہ کی قیادت میں سٹی گیٹوں پرروڈ بلاک کرکے احتجاج کیا احتجاج کے باعث کئی گھنٹے ٹریفک جام رہا مظاہرین نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کروڑوں روپے ٹاوَن کا بجٹ ہونے کے باوجودنکاسی آب کا مسئلہ ہمیشہ کی طرح برقرار ہے اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر ملازمین کے احتجاج کے باعث تاجر برادری شدید متاثر ہورہی ہے پی پی رہنما مٹھا خان کمبوہ کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کو بدنام کر نے کیلئے کرپٹ ٹاوَن چیئرمین اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آیا ہے دیگر شہروں میں ٹاوَن چیئرمین کی جانب سے ڈسپوزل ملازمین کو تنخواہ جاری کی جارہی ہے مگرمحراب پور میں جی ڈی اے کا چیئرمین فاروق خان لودھی اپنی ہٹ دھرمی برقرار رکھتے ہوئے ہرماہ جان بوجھ کر ملازمین کیلئے سیلری کا ایشو پیداکرتا ہے اگر انہیں کسی نے تنخواہ دینے سے منع کیا ہے تو اسکا لیٹر دیکھائیں مگر غریب ملازمین کیساتھ یوں ظلم کرنا بند کریں انکا کہنا تھا کہ ٹاوَن چیئرمین کے کرپشن کی انتہا کردی ہے ٹاوَن میں بوگس بھرتیاں کی جارہی ہیں محکمہ پبلک ہیلتھ کے سپرد کئے گئے ملازمین میں بھی چیئرمین اور وائس چیئرمین کے کئی چہیتے افراد شامل ہیں دوسری جانب سے چیئرمین ٹاوَن کمیٹی محراب پورفاروق احمد خان لودھی نے لودھی ہاوَس پر ہنگامی پریس کانفرنس کی اس موقع پر وائس چیئرمین حاجی جاویداحمد میمن اور کونسلر محمد ریاض غوری بھی ہمراہ تھے چیئرمین فاروق خان لودھی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ڈسپوز ل ملازمین محکمہ پبلک ہیلتھ کے ماتحت ہیں انہیں تنخواہ دینا ہماری ذمہ داری نہیں تحریری طور پر کچھ ماہ قبل 124 ملازمین کو پبلک ہیلتھ کے حوالے کیا جاچکا ہے اب وہ ملازمین غیر قانونی طور پر ڈسپوزل کی موٹریں بند کرکے شہر میں گندہ پانی کھڑا کرکے مجھے بلیک میل کرناچاہتے ہیں مگر میں کسی بھی آرڈر کے بغیر انہیں تنخواہ دینے کا مجاز نہیں ہوں ان ملازمین کے خیرخواہ تنخواہ جاری کرنے کا آفیشل آرڈر لاکرمیرے ہاتھ میں تھما دیں تو میں تنخواہ جاری کردونگا بصورت دیگر انہیں تنخواہ دینا میرے بس کی بات نہیں انکا کہنا تھا کہ ملازمین غیرقانونی عمل کررہے ہیں انہیں کوئی اختیار نہیں کہ وہ ڈسپوزل کی موٹریں بند کرکے ہمارے شہریوں کو تکلیف پہنچائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں