206

اسلام آباد: لالچ، رشوت اور دھمکیوں کی داستان…منی ٹریل کے بغیر بخشش نہیں، شہزاد اکبر

اسلام آباد (نیوز رپورٹ) وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہا ہے کہ یہ پوری داستان لالچ، رشوت اور دھمکیوں کی ہے۔ وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران شہزاد اکبر نے کہا کہ جج کہہ رہے ہیں کہ انہیں بتایا گیا کہ ان کی تقرری کروائی گئی، دیکھنا یہ ہے کہ اس تقرری میں کون لوگ ملوث تھے۔ اگر اس کی انکوائری کی جائے تو دیکھنا ہوگا اس اسکیم کے پیچھے کیا تھا۔ نواز شریف کے کیسز پہلے جج بشیر صاحب کی عدالت میں چل رہے تھے، ان پر عدم اعتماد کا اظہار کیا گیا، جس کے بعد کیسز ارشد ملک کی عدالت میں چلائے گئے۔ شہزاد اکبر نے مزید کہا کہ نواز شریف ضمانت پر تھے، 6اپریل 2019ء کو جاتی امرا میں نواز شریف کی ملاقات جج ارشد ملک سے ہوتی ہے، جس نے انہیں سزا دی تھی۔ جج صاحب کے حلف نامے کے مطابق ملاقات میں انہیں 10کروڑ کی پیشکش کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف سے ملاقات میں جج کو ایک اسکرپٹ دیا جاتا ہے کہ پڑھ کر سنائیں ورنہ ملتان کی ویڈیو لیک کرکے بدنام کردیا جائے گا۔ بقول حلف نامے کے، نواز شریف کے بعد ناصر بٹ انہیں دھمکیاں دیتا ہے، اس داستان میں جو رویہ سامنے آرہا ہے وہ کسی فرد کا نہیں بلکہ مافیا کا ہے۔ نواز شریف کو منی ٹریل تو دینی پڑے گی، اس کے بغیر بخشش نہیں ہوسکتی، وہ آج منی ٹریل دے دیں تو آج ہی آزاد ہوجائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں