257

پولیس مال خانہ سکینڈل کی حقیقت ……. (صابر بخاری)

تحریر: صابر بخاری

You can only have direct referrals after 15 days of being a user and having at least 100 clicks credited

میری ان سے پہلی ملاقات روزنامہ پاکستان کے دفتر میں ہوئی۔ وہ اپنے گاؤں کے ایک دوست کو ملنے کے لئے آئے تھے۔ وہ دوسرے پولیس افسران سے بالکل مختلف نظر آئے۔ میں نے پھر نوائے وقت جوائن کر لیا اور وہاں انچارج کرائم ایڈیشن کی ذمہ داری ملی تو پھر پہلی بار ان کے دفتر جانا ہوا۔ عاجزی، انکساری، ایمانداری اور فرض شناسی کی بنا پر میں ان کی بہت توقیر کرتا (ایماندار اور خوش اخلاق افسر چاہے کسی بھی محکمہ کا ہو میں اسکا اسیر ہوجاتاہوں)۔ ایک اور بات بھی میری پسندیدگی میں شامل تھی کہ ان کا تعلق سرگودھا سے تھا اور اس سر زمین سے مجھے خصوصی انس اور دلی لگاؤ ہے۔ یہاں کے باسی سچے، کھرے، خالص اور کسی بھی ملاوٹ اور بناوٹ سے پاک روایتی لوگ ہیں۔ مجھے اپنے آباؤ اجداد کے رکھ رکھاؤ اور تعلق داری کی ایک جھلک اس خطہ ارضی میں ملتی ہے اور اس بنا پر میں اس علاقہ کو اپنے آبائی علاقہ سے بھی زیادہ اہمیت دیتا ہوں۔ اس وقت وہ بطور ڈی ایس پی لیگل ڈی آئی جی انویسٹی گیشن لاہور کے دفتر میں خدمات سر انجام دے رہے تھے۔ اکثر ان کو ملنے جاتا تو رسمی سلام دعا کے بعد وہ اپنے کام میں مگن ہو جاتے۔ یہ چیز تھوڑی سی ناگوار بھی گزرتی مگر دل کو شادمانی بھی ہوتی کہ چلو کوئی تو ہے جو اپنا کام فرض شناسی سے سر انجام دے رہا ہے۔ اس طرح کا رویہ وہ صرف دوستوں کیساتھ ہی نہیں بلکہ اکثر گھر سے بھی ایمرجنسی کال آجاتی تو کہتے بچے کو ہسپتال لے جاؤ میں دفتر سے کام نمٹاکر آتا ہوں۔ کانسٹیبل تک ان کے سامنے کرسی پربیٹھ کر اپنا مدعا بیان کرتا۔

ایک چیز جس سے مجھے دھڑکا لگا رہتا تھا وہ ان کی حد درجہ ایمانداری (محکمہ پولیس میں زیادہ ایمانداری بھی نقصان دہ ثابت ہوتی ہے اور جو بھی اس راہ پر چلا اس کو مافیا نے خوب ذلیل و رسوا کیا) اور دوسراکھلم کھلا اپنے خیالات کا اظہار تھا۔ ایک مافیا ان کیخلاف تھا۔ اس نے عدالتوں میں ڈیوٹی دینے والے پولیس ملازمین کی کرپشن کا خاتمہ کردیاتھا۔ اس کے علاوہ بھی کئی معاملات تھے جس سے مافیا ان سے ناخوش تھا۔

کہانی یہاں سے شروع ہوتی ہے کہ ڈی ایس پی لیگل ناصر پنجوتھہ نے ایکس پاکستان لیو کیلئے 6 ماہ کی چھٹی کے لئے درخواست دی۔ ان کی درخواست منظور ہوگئی۔ مگر آگے ایک اور مشکل سر اٹھائے کھڑی تھی۔ بقول منیر نیازی:

اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

مبینہ طور پرڈی آئی جی انویسٹی گیشن انعام وحید اس کو انا کا مسئلہ بنا کر بیٹھ گئے جواکثر پی ایس پی افسران کا خاصا ہوتا ہے۔ فرمانے لگے کہ کوئی چھٹی کی ضرورت نہیں کام کرو۔ یہاں سے ماحول گرم ہوا اور بات ڈی آئی جی انویسٹی گیشن انعام وحید کی اس دھمکی پر منتج ہوئی کہ تم اپنی تباہی کے خود ذمہ دار ہوگے۔ ڈی ایس پی لیگل چھٹیوں پر چلے جاتے ہیں اور پیچھے ان کو جال میں پھنسانے کی تیاریاں شروع ہوجاتی ہیں۔ مبینہ طور پرلاہور پولیس کی ایک اہم شخصیت اور ڈی آئی جی انویسٹی گیشن انعام وحیداس کھیل کے سرخیل تھے۔ ابتدائی طور پر ایک ڈبہ ٹائپ ویب سائٹ کے ذریعے خبرچلائی جاتی ہے کہ مال خانہ لاہور میں بڑے پیمانے پر کرپشن پکڑی گئی ہے۔ اس کارروائی کیلئے ایک نامعلوم خط کو جواز بنایا گیا تھا، یہ وہ خط تھا جس کا مجھے اکثر ان ڈی ایس پی کے حوالے سے خدشہ رہتا تھا۔ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن نے مال خانے کے انچارج کی ملی بھگت سے مال خانہ سے اسلحہ اور منشیات چوری کا الزام مذکورہ ڈی ایس پی پر دھر دیا۔ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن نے آئی جی کو شکایت کی جنہوں نے ڈی ایس پی کو معطل کر دیا اورایس ایس پی ایڈمن لاہور اطہر وحید کو انکوائری سونپ دی۔ ڈی ایس پی چونکہ سب پلاننگ سے آگاہ ہو چکے تھے اور ان کو امید نہیں تھی کہ لاہور پولیس کی ایک اہم شخصیت اور ڈی آئی جی جو اس سارے کھیل کے اصل کردار تھے، ایک جونیئر افسر کس طرح غیر جانبدارانہ انکوائری کر سکتا ہے۔ اس لیے اس نے انکوائری کی تبدیلی کی درخواست دیدی۔ بس پھر کیا تھا، ڈی ایس پی (رینکر) کو اوقات میں رکھنے کیلئے کرائم رپورٹرز کی مدد مانگ لی گئی تاکہ اس ایشوکو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جائے جیسے کوئی بہت بڑا سکینڈل سامنے آگیا ہے۔ بنے بنائے ٹکرز کرائم رپورٹرز کو بھیجے گئے جنہوں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ وہ خبر سکرینوں پر چلا دی۔ میڈیا کے دوستوں نے یہ بھی نہیں دیکھا کہ بغیر تحقیق کسی کیخلاف خبر دینے سے اس خاندان پر کیا بیت سکتی ہے جو زندگی بھر عزت اور رکھ رکھاؤ کا متلاشی رہتا ہے۔ ہمارے کرائم رپورٹرز کی بھی الگ کتھا ہے۔ ایک دو کے علاوہ کوئی بھی کرائم رپورٹر اس معیار پر پورانہیں اترتا۔ کرائم رپورٹرز میڈیا کے ’’پی ایس پی‘‘ ہیں۔ کرائم رپورٹرز کے بھی اثاثہ جات چیک کیے جائیں تو بڑے بڑے انکشافات سامنے آئیں۔ جیسے بھی حالات ہوں ان کے وارے نیارے رہتے ہیں۔ تحقیق کا تو پورے میڈیا میں فقدان ہے مگر کرائم رپورٹرزکی اکثریت اس سے بالکل ہی نابلد ہے۔ محکموں کی طرف سے بھیجی جانے والی بنی بنائی خبریں شائع یا نشر کی جاتی ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ پی آر ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے اگر کوئی غلطی رہ جائے تو وہ جوں کی توں نشر یا شائع کر دی جاتی ہے۔

اس خبر سے مذکورہ ڈی ایس پی کے خاندان پر جو بیت رہی کاش ہمارے میڈیا کے دوست یہ جان پاتے۔ اگر خبر سے پہلے جس پر الزام لگایا جا رہا ہے، اس کا موقف بھی لیا جائے تو بہترہے کیونکہ یہ ہماری پروفیشنل صحافتی ذمہ داریوں کا حصہ اور اس شعبہ کی بقا کے لئے نہایت ضروری ہے۔ مجھے انڈین فلم یا دآگئی کہ جس میں ایک ایماندار پولیس افسر کو مافیا ذلیل و رسوا کرتا ہے، اس خاندان پر کیا کچھ نہیں بیتتی، مگر جب حقائق سامنے آتے ہیں تو وہ پولیس افسر بیگناہ ثابت ہوتے ہیں مگر اس دوران انہوں نے جو کھویا ہوتا ہے وہ ایک المناک داستان بن چکی ہوتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ ڈی ایس پی اگر مال خانہ میں کافی عرصہ سے مال چوری کرا رہا تھا تو اس وقت محکمہ کیوں نہ جاگا؟ جب وہ چھٹیوں پر گئے تو پیچھے ہی یہ سب کارروائی کیوں کی گئی؟ ڈی ایس پی کو معطل کردیا گیا مگرانچارج مال خانہ کو عہدے سے کیوں نہ ہٹایا گیا؟ ابھی مکمل تحقیقات نہیں ہوئی تھیں، میڈیا میں خبر کیوں بریک کی گئی؟ کیا اتنی بڑی واردات ایک ڈی ایس پی لیول کے افسر کے بس کی بات ہے؟ صرف ایک ڈی ایس پی کو ہی کیوں ٹارگٹ کیا جا رہا ہے؟ متعلقہ افسران لاہور پولیس کے ہی کسی افسر سے انکوائری کروانے پر کیوں بضد ہیں؟ اس طرح کے کئی سوالات اس سب کارروائی کو مشکوک بنا دیتے ہیں۔

اس کہانی کا جوبھی موڑ آئے ایک بات تو عیاں ہوگئی ہے کہ پی ایس پی افسران نے اس ملک میں بادشاہت قائم کی ہوئی ہے۔ یہ حکومتوں سے بھی زیادہ طاقتور ہیں (بزدار حکومت کو تو یہ کسی کھاتے میں بھی نہیں گنتے) ۔بزدار حکومت نے وزیر اعظم پورٹل پر غلط معلومات دینے کی پاداش میں ڈی آئی جی انویسٹی گیشن انعام وحید کو ہٹادیا تھا مگر موصوف اپنی طاقت کی بنا پر آج بھی اپنی سیٹ پر براجمان ہیں اور بزدار حکومت ان کا بال بھی بیکا نہیں کر سکی۔ پی ایس پی افسران کا گٹھ جوڑ بہت مضبوط اور ایک دوسرے کو ڈٹ کر سپورٹ کرتے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ پی ایس پی صاحبان نے محکمہ پولیس کا بیڑہ غرق کر دیا ہے۔ یہ کیسے ذہین فطین سی ایس ایس پاس ہیں جو اپنا محکمہ تک ٹھیک نہیں کر سکے؟ ان کی ذہانت کہاں گئی کہ اربوں کا بجٹ کھانے اور تمام تر اقدامات کے باوجود محکمہ پولیس کی حالت روز بروز دگرگوں ہے؟۔ پی ایس پی صاحبان کے اثاثہ جات کیلئے الگ کمیشن بنایا جائے تو میاں نواز شریف سے زیادہ اثاثہ جات ان کے ہاں ملیں گے۔
آ
آئی جی پنجاب عارف نواز کو چاہیے کہ وہ کسی اعلیٰ ایماندار افسرکو مال خانہ سکینڈل کی انکوائری سونپیں تاکہ سب دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں