184

لاہور: ہوائی اڈوں پر سامان کی پلاسٹک ’ریپنگ‘ کا حکم منسوخ

لاہور: پاکستان میں ہوابازی کے نگران ادارے پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے مسافروں کے سامان کو پلاسٹک میں لازمی لپیٹنے کا فیصلہ واپس لے لیا گیا ہے۔ سول ایویشن کی جانب سے جاری کردہ مراسلے میں کہا گیا ہے کہ ملک کے تمام ہوائی اڈوں پر مسافروں کے سامان کو پلاسٹک میں لازمی طور پر لپیٹنے کے پہلے نوٹیفکیشن کو فوری طور پر منسوخ کیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ گذشتہ روز سول ایویشن کی جانب سے 17 جولائی کو جاری کیے گیے نوٹیفکیشن کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بڑی تعداد میں صارفین نے اس فیصلے پر تنقید کی تھی۔

سامان کی پلاسٹک ریپنگ یا اسے پلاسٹک میں لپیٹنے کے حوالے سے پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی نے 17 جولائی 2019 کو ایک مراسلہ جاری کیا جس میں لکھا تھا کہ ‘مسافروں کے سامان میں قیمتی اشیا کے تحفظ کے لیے سامان کو پلاسٹک میں لپیٹنے کو لازمی قرار دیا جا رہا ہے۔’ اس سلسلے میں پاکستان تحریک انصاف کے اہم رہنما جہانگیر ترین نے بھی اپنی ٹویٹ میں اس حکومتی فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے غیر منطقی قرار دیا اور اس فیصلے کو واپس لینے کا کہا تھا۔

دوسری طرف انسانی حقوق کی وفاقی وزیر اور پی ٹی آئی کی سنیئر رہنما شریں مزاری نے بھی ٹویٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہوائی سفر کرنے والے مسافروں کے سامان کو پلاسٹک میں لپیٹنے سے متعلق نوٹیفکیشن غلط ہے جو کہ وفاقی حکومت سے منسوب کیا گیا ہے۔ کیونکہ وفاقی حکومت کا مطلب وفاقی کابینہ ہے اور یہ معاملہ کبھی کابینہ میں زیر بحث نہیں آیا۔

جب کہ ماحولیات کی وزیر مملکت زرتاج گل نے اس فیصلے سے متعلق ٹوئٹر پر وضاحت دی تھی کہ انھوں نے اس نوٹیفکیشن سے متعلق سیکرٹری ہوابازی سے تفضیلات لی ہیں جس کے مطابق مسافروں کے سامان کو پلاسٹک شیٹ میں لپیٹنا ‘روڈ ٹو مکہ پروجیکٹ’ کے تحت سعودی حکومت نے لازمی قرار دیا تھا جب کہ دیگر اداروں ایف آئی اے، اے این ایف، اے ایس ایف اور کسٹمز کی جانب سے بھی سامان کی حفاظت کے پیش نظر اس کی سفارش کی تھی۔

سول ایویشن کی جانب سے پہلے نوٹیفکیشن کو منسوخ کیے جانے پر وزیر مملکت ماحولیات زرتاج گل نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ‘میں سیکرٹری ایوی ایشن کا شکریہ ادا کرتی ہوں کہ انھوں نے میرے کہنے پر ہوائی سفر کے لیے دیے گیے لوڈنگ کے سامان پر پلاسٹک چڑھانے کے معاملے پر فوری ایکشن لے لیا ہے۔ صرف حج کی فلائٹس پر یہ ضروری ہے کیونکہ سعودی حکومت کو یہ درکار تھا۔’

یاد رہے کہ مسافروں کے سامان کو پلاسٹک شیٹ میں لپیٹنے کا ٹھیکہ فضائیہ کے سابق سینیئر اہلکار ایئر وائس مارشل شاہد لطیف کی کمپنی کو دیا گیا تھا۔ تاہم شاہد لطیف نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ کمپنی ان کے چھوٹے بھائی نے بنائی تھی اور دستاویزات میں انھیں نگران ظاہر کیا تھا اور بھائی کے انتقال کے بعد اب یہ کمپنی وہ ہی چلا رہے ہیں۔ شاہد لطیف نے موقف اپنایا کہ ان کی کمپنی کو سول ایویشن نے پانچ سال کے لیے منتـخب کیا ہوا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں