275

جسٹس قیوم سے ارشد ملک تک ۔۔۔۔ (صابر بخاری)

تحریر: صابر بخاری

”جب تک عدالتی نظام ٹھیک نہیں ہوگا تب تک اس ملک میں جتنی بھی ریفارمز کر لیں کچھ نہیں بدلنے والا“ جب میں یہ الفاظ دہراتا تو کچھ دوست مختلف تاویلیں پیش کرتے۔ مگر اب دبے دبے الفاظ میں وہ میرے ہمنوا بنتے جا رہے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ اسلامی مملکت پاکستان میں انصاف کا نظام انتہائی پست اور بوسیدہ رہا حالانکہ اسلامی تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو سب سے زیادہ فوکس عدالتی نظام پر کیا گیا جہاں خلیفہ وقت کو بھی کوئی استثنیٰ حاصل نہیں تھا اور قاضی صاحب صرف اور صرف سچ اور حقیقت پر مبنی فیصلے کرتے۔ شومئی قسمت سے وطن عزیز میں جسٹس سجاد علی شاہ، جسٹس قیوم اور جسٹس ارشد ملک جیسے منصف ہمارے انصاف اور عدالتی نظام کا منہ چڑاتے رہے۔ جسٹس قیوم انتہائی ڈھٹائی سے فون پر حکم کی بجا آوری کرتے رہے جبکہ جسٹس ارشد ملک ملزم کے گھر جا کر ملتے رہے اور لین دین کے طویل مذاکرات ہوتے رہے۔ جرائم پیشہ عناصر سے دوستیاں یاریاں، موج مستیاں کسی منصف کو زیب دیتا ہے؟ مگر ان سے پوچھنے والا کوئی نہ تھا۔ یہ سب گورکھ دھندے دیکھ کر اور سن کر ہم صرف افسوس صد افسوس ہی کر سکتے ہیں۔ اقبال کے الفاظ میں:

وائے ناکامی متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

یہ بھی حقیقت ہے کہ جسٹس قیوم اور جسٹس ارشد ملک کی قسمت خراب تھی کہ وہ پکڑے گئے حالانکہ یہاں اکثر جج صاحبان جسٹس قیوم اور ارشد ملک سے بڑھ کر دھندوں میں مصروف ہیں۔ وکیل کی بجائے جج کر لیں، یہ کوئی جملہ نہیں بلکہ ہمارے معاشرے میں حقیقت کا روپ دھار چکا ہے۔ جب سفارشی اور سیاسی بنیادوں پرجج تعینات ہونگے تو ان سے انصاف کی توقع رکھنا عبث ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ عدالتی نظام میں اصلاحات لائی جائیں، میرٹ پر جج تعینات کیے جائیں، جو جج اس منصف کے متقاضی نہیں انہیں احتساب کے شکنجے میں لایا جائے۔ جب ملک کے وزیر اعظم، فوج کے ایک جرنل کو کوئی رعایت نہیں تو اپنے منصب کا خون کرنے والا جج احتساب کے شکنجے میں کیوں نہیں آسکتا ؟ مقدس گائے کے تصور نے بھی اس ادارے کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ،ذرا سی تنقید پر سزا کے حکم کی بدولت اس ادارے میں خود احتسابی کا عنصر نہ پنپ سکا اور جج صاحبان کی من مانیاں عروج پر رہیں۔ آج ویڈیو سکینڈل کے تمام کرداروں کے گرد گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے، کچھ گرفتار ہو چکے، کچھ کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جا رہے ہیں، مگر کیا میں یہ کہنے کی جسارت کر سکتا ہوں کہ تمام کرداروں کی طرح جسٹس ارشد ملک کا کیا کم قصور ہے؟ کیا وہ اس گورکھ دھندے میں برابر کے شریک نہیں؟ انہیں اب تک کیوں گرفتار نہیں کیا گیا؟ حقیقت میں وہ دوسرے ملزمان سے زیادہ قصوروار ہیں اور انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ سب سے پہلے انہیں گرفتار کیا جاتا، مگر افسوس نجانے یہ مقدس گائے کا تصور کب تک اس ادارے کو گھن کی طرح چاٹتا رہے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں