174

لاہور: غریبوں پر بھاری بھرکم ٹیکس ظالمانہ نظام ہے، علامہ خادم حسین رضوی

لاہور (ڈاکٹر رووف سعیدی سے) امیرتحریک لبیک پاکستان شیخ الحدیث والتفسیر علامہ حافظ خادم حسین رضوی حفظہ اللہ نے کہا ہے کہ غریبوں پر بھاری بھر کم ٹیکس ظالمانہ نظام ہے، جو سرمایہ کار صرف ڈھائی فیصد زکوٰۃ کو بوجھ سمجھتے ہیں، آج وہ بھی ساڑھے سترہ فیصد ٹیکس دینے پر مجبور ہیں یہ بات گذشتہ روز لاہور میں مرکزی میڈیا سیل تحریک لبیک پاکستان لاہور کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں بتائی گئی ہے، پریس ریلیز میں مذید کہا گیا ہے کہ اسلام میں غریب امیر پر بلاتفریق بھاری بھرکم ٹیکس لگانے کا کوئی تصور نہیں، ٹیکس نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے، اسلام تو صرف امیروں کی بچت پر ڈھائی فیصد سالانہ زکوٰۃ عائد کرتا ہے، اسلام امیروں سے زکوٰۃ لے کر غریبوں کی مدد کرتا ہے، لیکن یہاں غریبوں سے لے کر آئی ایم ایف کی تجوریاں بھری جارہی ہیں، حکومت بھاری بھرکم ٹیکس تو لگارہی ہے لیکن بدلے میں عوام کو کوئی سہولت نہیں دے رہی، شیخ الحدیث علامہ حافظ خادم حسین رضوی نے مزید کہا کہ ٹیکس لگا کر ملک نہیں چلائے جاسکتے، ٹیکسوں میں جتنا چاہے اضافہ کرلیا جائے، بجٹ خسارے کا ہی بننا ہے، بجٹ خسارے کی اصل وجہ سودی نظامِ معیشت ہے۔ حکومت ان غریب لوگوں سے بھی ٹیکس وصول کررہی ہے، جن پر زکوٰۃ بھی واجب نہیں، بلکہ بعض تو خود بھی زکوٰۃ کے مستحق ہوتے ہیں لیکن وہ بھی ضروریات زندگی کی اشیاء خریدنے پر ٹیکس دیتے ہیں۔ اسلام کے نظامِ عدل کو نافذ کیے بغیر کسی بھی معیشت کے معاملات کا درست ہونا ممکن نہیں، شیخ الحدیث علامہ حافظ خادم حسین رضوی نے کہا کہ ملک کے ٹوٹل بجٹ کا 41 فیصد حصہ سود کی ادائیگی میں خرچ ہوجاتا ہے، یہ ہی سب سے بڑا مسئلہ ہے، لیکن کوئی سیاست دان اس پر بات نہیں کرتا، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کو سود کی قسطیں دینے کے لیے غریب عوام پر ٹیکس ظلم ہے، چاہتے ہیں کہ عوام میں سودی نظام معیشت سے متعلق شعور بیدار کیا جائے اور سودی نظامِ معیشت کے خلاف رائے عامہ ہموار کی جائے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں