291

تذکرہ: حضرت سلطان علی شاہ بخاری جلالی مرد قلندر والی بسند تناول۔

تحریر: چوہدری محمد طارق شاد

حضرت سخی سلطان علی شاہ بخاری رحمتہ اللہ کا شمار خیبر پختون خواہ، ہزارہ کے مشہور اولیاء اللہ میں ہوتا ہے، آپ کی ولادت 13 رجب 1271 ہجری بمطابق یکم اپریل 1855 میں بروز اتوار گاوں پیراں آباد مانسہرہ میں سعادات بخاری کے مشہور خاندان کے روحانی بزرگ حضرت سید گل بادشاہ بخاری کے ہاں ہوئی۔ آپ کا سلسلہ نسب 37 پشتوں سے حضرت علی کرم وجہہ سے جا ملتا ہے۔

اپ نے ابتدای تعلیم اپنے والد محترم سے حاصل کی اور یہ بات عین حقیت ہے کہ اللہ تعالی جب کسی بندہ کو چن لیتا ہے تو اس کی تربیت کا سارا بندوبست بھی خود کر دیتا ہے۔ آپ بچپن سے ہی نرم گفتار، سادہ مزاج، بہادر، نڈر، سخاوت کے میدان میں تو آپکا کوئی ثانی نہ تھا۔

حضرت سید دیوان علی شاہ بخاری

آپ کو قران و حدیث، علم حرف و نحو، علم الفلکیات، علم لدنی، علم غیب، بشمول 160 علوم پر عبور حاصل تھا۔ آپ جانوروں کی بولیاں بھی سمجھتے تھے۔ جیسا کہ آپ فرماتے ہیں مرغ جب بولتا ہے تو کہتا ہے “اکو اللہ توں” یعنی وہ اللہ کی توحید بیان کرتا ہے۔ آپ کی زندگی کا ابتدائ دور بظاہر ٹھاٹھ باٹھ سے گزرا اور ملامتی رنگ ہی آپ نے اپنائے رکھا۔ تاکہ کسی کو شک و شبہ نہ ہواور ولایت کا قیمتی راز افشاں نہ ہو۔ حالانکہ آپ کے والد محترم اپنے علاقے کے جاگیر اور عالم، فاضل ولی اللہ تھے۔

وہ سعادت بخاری کے پہلے شخص تھے جو محکمہ پولیس میں اعلی درجہ پر پنشر ہوئے، آپ اپنی کبھی تنخواہ گھر نیں لائے بلکہ غریبوں میں بانٹ دیتے تھے۔ آپ کے صرف دو بیٹے تھے، حضرت سید سلطان علی شاہ اور حضرت سید قربان علی شاہ۔
1947ء میں آپ ہجرت کر کے بسند شریف(مانسہرہ) میں منتقل ہوئے اور گوشہ نشینی اختیار کر لی آپ نے خانقاہی نظام کی بنیاد رکھی، آپ نے تمام تر زندگی اسلام کی سر بلندی کے لئے صرف کر دی۔ آپ نے باقاعدہ روحانی سیروسلوک کی منزلیں حضرت ذولفقار علی شاہ المروف سائیں سہیلی سرکار مظفر آباد کشمیر کی زیر ترتیب طے کیں۔

حضرت سلطان علی شاہ بخاری صدر ایوب کے ہمراہ

آپ کو یہ بہت بڑا اعزاز حاصل ہے کہ آپ کی والدہ ایک ولی اللہ خاتون تھیں، ان کی سینکڑوں کرامات علاقہ بھر میں مشہور ہیں۔ والد کے علاوہ آپ کے سسر حضرت بابا مراد علی شاہ بخاری بھی ولایت کے اعلی درجہ پر فائز تھے آپ کی زوجہ محترمہ کامل ولی اللہ تھیں جن کی کرامات آج بھی علاقہ بھر میں مشہور ہیں اور لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ آپ کے سات بیٹے تھے جن کے مزارات اور کرامات زمانے بھر میں مشہور ہیں، آپ کی بہوئیں بھی اکمل اولیاء خواتین گزری ہیں۔
تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو آپ کے مریدین کی تعداد لاکھوں میں ہے، آپ کے دست مبارک پر ہزاروں غیر مسلموں نے اسلام قبول کیا اور آپ کے مرید پاکستان کے علاوہ دنیا کے ہر ملک میں ہیں۔

آپ کے عقیدت مندوں میں سے حضرت علامہ اقبال، قائد اعظم محمد علی جناح، صدر ایوب، فاطمہ جناح، ذولفقار علی بھٹو آپ سے غیر معمولی عقیدت رکھتے تھےاور آپ نے تاریخ پاکستان میں بھی بنیادی کردار ادا کیا۔ آپ نے 1965 کی جنگ میں حصہ لیا اور غازی کا مرتبہ پایا۔

آپ نے بہت سی کتابیں بھی لکھی ہیں: بحر طب، وظائف سلطانی، تاریخ سعادات بخاری، وظائف سعادات بخاری، اقوال سعادات بخاری، مجموعہ وظائف کے علاوہ عارفانہ اقوال کی مشہور کتاب “جام الست” شامل ہے۔

آپ کا بہت عالیشان مزار شریف بسند میں ہے، آپ کا عرس مبارک ہر سال ماہ جولائی میں انتہائی عقیدت و احترام سے منایا جاتا ہے، ملک بھر سے مریدین شرکت کرتے ہیں اور لنگر کا وسیع انتظام ہوتا ہے۔ آپ کی وفات گاوں قتیلیاں والا تحصیل دیپالپور ضلع اوکاڑہ 24 اگست 1965ء بروز جمعرات رات 2 بجے نماز تہجد کے بعد ہوئی۔

سید جان علی شاہ بخاری سجادہ نشین

وہاں بھی آپ کے مریدین عرس مناتے ہیں 27 اگست کو آپ کو بسند میں دفن کیا گیا۔ آپ کے سات بیٹے ایک بیٹی تھی۔
آپ کے پہلے گدی نشین حضرت سید دیوان علی شاہ بخاری تھے۔ جو 2017ء میں رحلت فرما گئے تو بعد ازان کے بڑے بیٹے سید جان علی شاہ بخاری کو سجادہ نشین کی مسند پر بٹھایا گیا، سید جان علی شاہ بخاری ہی موجودہ سجادہ نشین ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں