256

پاکپتن: سینئر صحافی اینکر پرسن سمیع ابراہیم پر حملہ، وفاقی وزیر کی اس حرکت کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، شاہد چشتی

پاکپتن (وقار فرید جگنو سے) جیسے صحافت کو ملک کا اہم ستون تصور کیا جاتا ہے ویسے ہی دنیا بھر کو اپنے ملک کے حالات سے باخبر رکھنے والے صحافی کی اہمیت بھی کسی سے کم نہیں ہوتی اور اگر ہم ترقی یافتہ ممالک کی بات کریں تو وہ ان ممالک کو غیر محفوظ تصور کرتے ہیں جہاں صحافیوں پر مظالم ڈھائے جاتے ہیں۔

میری یہ بات سعودی عرب کے صحافی جمال خاشقجی قتل کیس سے ثابت ہوتی ہے۔ ترکی میں سعودی سفارت خانے میں قتل ہونے والے سعودی عرب کے صحافی جمال خاشقجی کے قتل کی کڑیاں سعودی حکومت سے ملنے لگیں تو امریکا سمیت یورپی ممالک نے سعودی عرب میں ہونے والی سرمایہ کاری کے حوالے سے اتنہائی اہم کانفرنس کا بائیکاٹ کرکے صحافت اور صحافیوں کی اہمیت کو اجاگر کرنے کا پیغام دیا۔ اگر دیکھا جائے تو پاکستان کے اندر بھی صحافی کچھ زیادہ محفوظ نہیں ہیں اعلیٰ حکومتی وزیر فواد چوہدری کے ہاتھوں سینئر اینکر سمیع ابراہیم پر حملہ قابل مذمت ہے اور وہ بھی ایک ایسی پارٹی کی طرف سے جو کہ صحافیوں کی آزادی کی علمبردار ہونے کا دعویٰ کرتی ہے. وفاقی وزیر کی اس حرکت کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں