233

پاکپتن: نیا پاکستان بنانے کے لیے 70 سالہ بوسیدہ نظام تعلیم کو دفن کر کے نیا نظام تعلیم لانا ہوگا۔ حکیم لطف اللہ

نیا پاکستان (خرم شہزاد سے) نیا پاکستان بنانے کے لیے 70 سالہ بوسیدہ نظام تعلیم کو دفن کر کے نیا نظام تعلیم لانا ہوگا۔ جس سے ہم ترقی یافتہ قوموں کی صف میں کھڑے ہو سکیں گےاوراپنی نئی نسل کوانکی۔امنگوں کے مطابق آگےبڑھنےکاموقع دیں ان خیالات کا اظہار حکیم لُطف اُللّٰہ سیکرٹری جنرل پاکستان سوشل ایسوسی ایشن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوۓ کیا انہوں نے کہا کہ اس وقت درجن بھر کے قریب ہمارے ملک میں نظام تعلیم موجود ہیں جن سے طبقاتی تقسیم اور فرقہ واریت پروان چڑھ رہی ہے عالمی طاقتیں اور دشمن قوتیں حکومت گرانے اور قرضہ دینے اور اتارنے سے ہی باہر نہیں آنے دے رہی اور وہ ہمیں اس میں الجھائے رکھنا چاہتی ہیں۔ دنیا میں کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کے لیے سائنس اور ٹیکنالوجی کو اپنانا ہوگااس کے لئے اکثر تعلیمی اداروں میں لیب کی سہولتیں موجود نہیں اگر ہے تو کیمیکل موجود نہیں۔طالب علم پریکٹیکل خوابوں اورخیالوں میں کرتےہیں اورنمبروں کےلئے سفارش کام آتی ہے۔ہمارے تعلیمی اداروں سے فارغ ہونے والےطلباءڈگریوں کےباوجود بےروزگار ہیں۔جدیدنظام تعلیم سےآراستہ نوجوانوں کو متحدہ عرب امارات اور یورپ میں بھاری تنخواہ میسر ہیں اوراسطرح ٹیلنٹ اوربرین سے ہماراملک خالی ہوتاجارہاہے۔ہم اب بھی قیامِ پاکستان والی حالت میں کھڑے ہیں اورہمیں دنیا کا مقابلہ کرنے کے لیے جدید نظام تعلیم کی ضرورت ہے پرانے ٹیکسٹ بورڈ کو تبدیل کرکے نیا نظام تعلیم لانا ہوگا۔ موجودہ بوسیدہ نظام تعلیم سے ہمارا طالبعلم دنیا کا مقابلہ نہیں کرسکتا نئے اور جدید نظام تعلیم سے ہی ہم نیا پاکستان بنا سکتے ہیں۔ ہمارے ساتھ آزاد ہونے والے ملک مشرقی پنجاب انڈیا میں پرائمری سے PHD تک مفت تعلیم میسر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں