236

لاہور: دھرنوں اور قانونی جنگ کے باوجود سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ورثا 5 سال سے انصاف کے منتظر

لاہور (اسد الیاس) ملک بھرمیں احتجاج، دھرنوں اورقانونی جنگ کے باوجود سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ورثا 5 سال سے انصاف کے منتظر ہیں۔ 17 جون 2014 کوماڈل ٹاؤن لاہورمیں تحریک منہاج القرآن کے مرکزی سیکرٹریٹ اور ڈاکٹرطاہرالقادری کی رہائش گاہ کے سامنے سے سیکیورٹی بیئررزہٹائے جانے کے لئے آپریشن کے دوران پولیس کی فائرنگ سے 2 خواتین سمیت 14 افراد جاں بحق جبکہ درجنوں زخمی ہوئے تھے۔ اس واقعے کے چند روز بعد مقامی پولیس کی مدعیت میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ایف آئی آردرج ہوئی جس کا نمبر 510 تھا۔ 14 افراد کی ہلاکت اور زخمیوں کو انصاف کے حصول کے لئے عوامی تحریک نے لاہور سے اسلام آباد تک مارچ کیا ، اسلام آبادمیں طویل دھرنا دیا گیا جس کے نتیجے میں سپریم کورٹ کی ہدایت پر سانحہ ماڈل ٹاؤن کی ایک اورایف آئی آر نمبر696 درج کی گئی جس میں اس وقت کے وزیراعظم نوازشریف، شہبازشریف، خواجہ سعدرفیق، اس وقت کے آئی جی پنجاب مشتاق سکھیرا، اس وقت کے ڈی سی او لاہورکیپٹن(ر) محمدعثمان سمیت کئی حکومتی شخصیات اورافسران کو نامزدکیاگیا مگرکسی بھی نامزدملزم کی گرفتاری عمل میں نہ آسکی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں