219

پاکپتن: ایڈز کی بیماری کے پھیلاؤ کی وجہ غیر فطری غیر اسلامی جنسی عمل اور دیگر بہت سی وجوہات ہیں. ڈاکٹر رانا امتیاز احمد CEO ہیلتھ

پاکپتن(ولی محمد سے) ایڈز کی بیماری کے پھیلاؤ کی وجہ غیر فطری غیر اسلامی جنسی عمل اور دیگر بہت سی وجوہات ہیں جن میں حجام کے استعمال شدہ اوزاروں کا استعمال، عورتوں کا کان ناک چھدوانا، بلدیہ سینٹری ورکرز، نشہ کرنیوالے عطائی ڈاکٹرز،عطائی ڈینٹسٹ، احتیاط نہ کرنے والے پرائیویٹ ہسپتال، پیشہ ور بھکاری عورتیں جو گناہ کی دعوت بھی دیتی ہیں، جسم فروش خواجہ سرااور عورتیں، ہم جنس پرستی میں مبتلا مرد اور عورتیں اس بیماری کے پھیلاو کی بڑی بنیادی وجوہات ہیں ان خیالات کااظہار ڈاکٹر رانا امتیاز احمد CEO ہیلتھ نے DHDC ہال میں پاکپتن ہومیوپیتھک میڈیکل ایسوسی ایشن، پاکستان سوشل ایسوسی ایشن، ڈسٹرکٹ انٹی ٹی بی ایسوسی ایشن، سوسائٹی فار ہیلتھ ایجوکیشن اینڈ انوائرمنٹل پروٹیکشن، انجمن فلاح مریضان، پاکستان طبّی کانفرنس، محکمہ سوشل ویلفیئر و بیت المال پاکپتن کے زیر اہتمام منعقدہ ایڈز آگاہی سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا. سیمینار میں سٹیج سیکرٹری کے فرائض ڈاکٹر شاہد مرتضی چشتی نے ادا کئے. اس موقع پراڈاکٹر ریاض احمد DHO پاکپتن نے کہا کہ ہمیں ایڈز کی روک تھام کیلئے موثر اقدامات کی ضرورت ہے اس کے لئے قوانین میں ترمیم بھی کرنا ہو گی اور ایڈز سے متعلق تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ سیمینار کر کے انکو آگاہی دی جائے گی. افضل بشیر مرزا ڈپٹی ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر نے کہا کہ اس ایڈز کی روک تھام اور خاتمہ کے مشن کی کامیابی میں سوسائٹی کے تمام سٹیک ہولڈرز، سماجی تنظیموں، ڈاکٹرز اور نرسز کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا. جن کی مدد سے ہم بروقت اس موزی مرض کی تشخص کر کے دکھی انسانیت کی خدمت کر سکیں گے. یہ لوگ مریض ہیں انکی عزت نفس کا خاص خیال رکھا جائے یہ لوگ قابل نفرت نہیں بلکہ قابل رحم ہیں. حکیم لطف اللہ سیکرٹری جنرل پاکستان سوشل ایسوسی ایشن نے کہا کہ اس مرض کی روک تھام کیلئے ضروری ہے کہ جگہ جگہ بلڈ اسکریننگ کیمپ لگائے جائیں اور سکریننگ کے بعد HIV پازیٹو کو ایڈز کنٹرول سنٹر منتقل کیا جائے گا جہاں ان کو علاج معالجہ اور احتیاطی تدابیر کی سہولیات مفت میسر ہوں. آگاہی واکس اور سیمینار کا اہتمام کیا جائے ایمرجنسی لگا کر تمام اضلاع کی سطح پر پولیو مہم کی طرز پر اس کی بھی سکریننگ کی جائے اس مہم میں میڈیا بھی ہمارا بھرپور ساتھ دے. اس کے لئے ایسا قانون ہونا چاہئے کہ جو لوگ ان نیچرل سیکس میں ملوث ہیں ان کو ہر 3ماہ بعد ٹیسٹ کر کے کارڈ جاری کئے جائیں وقار فرید جگنو صدر پریس کلب پاکپتن نے کہا کہ میں اور میری تمام ٹیم آپ لوگوں کے ساتھ بھرپور تعاون کرے گی شناختی کارڈ بنواتے وقت نویں کلاس سکول داخلے یعنی بورڈ میں رجسٹریشن کے وقت، ڈرائیونگ لائسنس اور ملازمت کے حصول میں HIV کے ٹیسٹ کو لازمی قرار دیا جائے. ڈاکٹر شاہد مرتضیٰ چشتی صدر انجمن فلاح مریضان نے کہا اسلامی طرز زندگی کو اپنا کر اپنے حقیقی جیون ساتھی تک محدود رہ کر، بچوں کی شادیاں بروقت کریں بلڈ دینے اور لینے والے دونوں کی سکریننگ کی جائے اور لسٹیں مرتب کی جائیں اس کام میں ہیلتھ ورکرز بھی اپنا بھرپور کردار ادا کر سکتی ہیں سیمینار میں ڈاکٹر خالد ظفر پبلک انفارمیشن آفیسر، میاں عمران وٹو DO سپورٹس پاکپتن ڈاکٹر زاہد حیدرDDHOحکیم ماجد رضا،ڈاکٹر محمود ریاض جوئیہ پرنسپل پاکپتن پیرا میڈیکل کالج، ہومیو ڈاکٹر احمد شیر کانجو، حکیم ناصر مقبول حکیم فخرالحق سمیت ڈاکٹرز،شہر کے تمام سٹیک ہولڈرز،حکما، ہومیو ڈاکٹرز اور سماجی تنظیموں کے ممبران نے کثیر تعداد میں شرکت کی سیمینار کے اختتام پر دعائے خیر کی گئی اور واک کا اہتمام بھی کیا گیا.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں