246

ایران امریکہ ممکنہ تصادم اور دورہ ایران…..(صابر بخاری)

تحریر: صابر بخاری

ہماری گاڑیاں تقریب کے مقام سے کئی کلو میٹر دور تھیں مگر سڑک اور قرب وجوار میں عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھا جو اس مقام کی طرف محو سفر تھا جہاں انقلاب ایران کی سالگرہ کی مرکزی تقریب منعقد ہونا تھی ۔ہماری گاڑیاں جوں جوں آگے بڑھ رہی تھیں لوگوں کی تعدادبھی بڑھتی جا رہی تھی ۔کئی کلو میٹر دور سے ہماری گاڑیاں رینگ رینگ کر چل رہی تھیں ۔دور دور تک پھیلے پارکنگ سٹینڈ زمیں گاڑیاں پارک کرنے کے بعد شہری تقریب کی طرف پیدل رواں دواں تھے ۔سب سے حیران کن بات یہ تھی کہ لاکھوں کا مجمع اور انتہائی ڈسپلن کا مظاہرہ ۔سب کچھ طے شدہ اصولوں کے تحت ہو رہا تھا ۔کوئی ہلڑ بازی ،شور شرابہ ،دوسرے سے آگے بڑھنے کی جلدی ،رانگ پارکنگ ،اوور ٹیکنگ ،کچھ بھی ایسا نہیں تھا جس سے معلوم ہوتا کہ یہاں لاکھوں کا مجمع اور ہزاروں گاڑیاں رواں دواں ہیں ۔ان قافلوں میں دنیا بھر سے آئی اہم شخصیات اور ایرانی صدر ،آرمی چیف سمیت موجودہ اور سابقہ عہدیداران کی بھی بڑی تعداد شامل تھی ۔مگر کہیں پر بھی نہ ٹریفک رکی اور نہ کوئی تفریق نظر آئی ۔ہماری گاڑیوں کو مرکزی تقریب کے مقام سے نزدیک پارکنگ سٹینڈ میں جگہ ملی ۔لاکھوں لوگ تقریب میں موجود تھے مگر نظم و نسق کی اعلیٰ مثال میں نے اس سے پہلے نہیں دیکھی تھی ۔ دل ہی دل میں سوچنے لگا کہ لاکھوں کا مجمع اور اس قدر نظم و نسق، ایسی قوم کو کون شکست دے سکتا ہے ۔

جب ایران کی طرف سے امریکی ڈرون گرائے جانے کی خبر سنی مجھے وہ تقریب اور اس وقت جو میں نے سوچاتھا حقیقت کا روپ دھارنے لگے ہیں۔ایران عوام بے حد قوم پرست اور اپنے وطن سے والہانہ محبت کرتے ہیں ۔شاعر مشرق علامہ اقبال کاایران میں اس لیے احترام کیا جاتا ہے کہ وہ خودی کا درس دیتے ہیں جوایرانیوں کے دل کی آواز ہے ۔ایرانی اپنی جان دے سکتے ہیں مگر اپنی غیرت ،حمیت پر آنچ نہیں آنے دیتے۔علامہ اقبال نے تو ایران کے دارالحکومت تہران کے بارے میں یہاں تک کہا ہے کہ’’ طہران ہوگر عالم مشرق کا جنیوا ،شاید کرہ ارض کی تقدیر بدل جائے‘‘ ۔2016 ء میں جب ہم نے ایرانی حکومت کی دعوت پر ایران کا دورہ کیا تو اس وقت ایران پر پابندیاں عائد تھیں مگر ایران نے اپنی خودداری سے دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ۔اس کی ترقی دیکھ کر ہم دنگ رہ گئے۔ایران کی میٹرو ٹرین سروس دنیا کی بہترین سروسز میں شمار ہوتی ہے ۔پورے تہران کا سفر میٹرو ٹرین کے ذریعے کیا جا سکتا ہے ۔اور اس میٹرو ٹرین سسٹم کو ایسے لنک کر دیا گیا ہے کہ ایک سٹیشن پر اترتے ہی دوسرے سٹیشن کی میٹرو ٹرین چند ہی سیکنڈز میں پہنچ جاتی ہے ۔ایرانی قوم صفائی پسند اورملکی قوانین پر عمل پیرا نظر آئی ۔دنیا میں ایرانیوں کا امیج انتہا پسند ،دقیانوسی اور قدامت پسند کا ہے مگر وہاں جا کر دیکھا تو تمام تھیوریز اور خدشے الٹ ثابت ہوئے ۔ایرانی وسیع القلب اور مثبت سوچ کے مالک اور روشن خیال ہیں،مگر عریانی والی روشن خیالی کا عنصر کم ہے جو ہمارے پایا جاتا ہے۔کچھ مقامات پر کچھ بولڈ مناظر دیکھے مگر اکثریت اسلامی اقدار پر کاربند رہنے والوں کی ہے اور وہ اس پر فخر کرتے ہیں۔

سب سے زیادہ حیرت ہمیں ایران کی ترقی کو دیکھ کر ہوئی۔ معاشی پابندیوں اور دنیا بھر میں ایران کیخلاف کیے جانے والے پراپیگنڈے کے باوجود ایران ترقی کے منازل طے کرتا جا رہا ہے ۔بعض ذرائع سے اس بات کی تصدیق ہوئی کہ ایران تقریباً ایٹم بم بنا چکا ہے مگر سرکاری طور پر اس کا اعلان نہیں کیا گیا ۔اس کے علاوہ بھی ایران کے پاس جدید ہتھیار موجود ہیں ۔ایران کے انجینئرز محنتی اور جانفشانی سے دن رات جدید سے جدید ہتھیار بنانے میں مگن ہیں ۔ان کو معلوم ہے کہ ان کا مقابلہ کن طاقتوں سے ہے اور خطے کی صورتحال پر بھی پوری طرح نظر رکھے ہوئے ہیں ۔تمام کوششوں کے باوجود امریکہ اور دوسری طاقتوں کو ایران میں وہ مطلوبہ تعداد نہیں مل سکی جن کو حکومت کیخلاف استعمال کیا جا سکے ۔ایران اپنی معیشت کو کئی طریقوں سے استحکام دے رہا ہے ۔مذہبی سیاحت بھی ایرانی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہی ہے ۔ایرانی معیشت کی مضبوطی میں اہم کردار کچھ دوست ممالک کا بھی ہے ۔ذرائع کے مطابق ایرانی تیل خفیہ ذرائع سے کچھ دوست ممالک کے ہاں پہنچتا ہے اور پھر وہاں سے دنیا بھر کو در آمد کیا جا تا ہے ۔یہ وہ خفیہ طریقہ ہے جس کا تذکرہ ایرانی حکام نے کچھ عرصہ قبل کیاتھا ۔اور اس طریقہ کی بدولت ہی ایران نے اب تک اپنی معیشت کا پہیہ رواں دواں رکھا ہوا ہے۔
ایران نے مشرق وسطیٰ کے کچھ قریبی ممالک کیساتھ تعلقات بہتر نہ سہی مگر ایک خاص طبقہ فکر کی کئی ممالک میں بھرپور سپورٹ جاری رکھی ہوئی ہے جس کا فائدہ اسے کسی بھی مشکل کی صورت میں رائے عامہ کی ہمواری کی صورت میں ملتا ہے ۔اب بھی اگر امریکہ ایران پر حملہ کرتا ہے تو صرف ایران سے نہیں بلکہ دنیا کے کئی ممالک میں اسے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا ۔خود امریکہ کے اندر بھی ایران کیلئے نرم گوشہ رکھنے والوں کی بڑی تعداد موجود ہے ۔اس کے علاوہ چین اور روس کا اہم کردار بھی امریکہ کیلئے بھیانک روپ اختیار کر سکتا ہے۔طالبان کیساتھ جاری مذاکرات بھی تعطل کا شکار ہو سکتے ہیں چونکہ ایران طالبان کی سپورٹ کرنے والے ممالک میں سے ایک بڑا ملک ہے۔حماس اور کچھ دوسری وجوہات کی بدولت اسرائیل ایران سے شدید خطرہ محسوس کرتاہے ۔یہی وجہ ہے کہ امریکہ جیسا بدمست ہاتھی اپنا قیمتی ڈرون تباہ کرانے کے باوجود بھی ابھی تک گومگو کی صورتحال کا شکار ہے ۔

ایران میں جو میں نے دیکھاوہ مختصر الفاظ میں یہ ہے کہ ایرانی لوگ خوددار ی کیساتھ ساتھ مضبوط ومصمم ارادوں اور پختہ عزائم کے مالک ہیں اور سب سے بڑی بات ایرانی قوم کا اتحاد ہے ،جدید ٹیکنالوجی پر بھی انکی دسترس ہے جس کا ثبوت ایران پہلے بھی دیتا رہا ہے اور اب بھی امریکی جدیدجاسوس ڈرون گرا کر ایران نے ثابت کردیا ہے کہ اسکے پاس سب کچھ موجود ہے یہ اور بات ہے کہ کچھ اسلحہ کا سرکاری سطح پراعلان کیا گیا اور کچھ ابھی خفیہ رکھا گیا ہے،اس لیے ایران امریکہ کا آسان ہدف ہرگزنہیں۔اس کے علاوہ دنیا کے کئی ممالک میں ایران کے ہمنوا موجود ہیں ،چین روس اور کسی حد تک انڈیا کی سپورٹ بھی ایران کو حاصل ہے ،اس لیے امریکہ کی کسی بھی جارحیت سے نہ صرف خطہ بلکہ پوری دنیا جنگ کی لپیٹ میں آسکتی ہے ۔جہاں تک پاکستان کا سوال ہے تو پاکستان سعودی عرب کی وجہ سے ساری صورتحال میں صرف مصالحانہ کردار ہی ادا کر سکتا ہے البتہ خفیہ طور پر پاکستان ایران اور اسکے ساتھ کھڑے دوسرے ممالک کی بھرپور سپورٹ کرے گا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں