213

ساہیوال: ڈی ایچ کیو ہسپتال ساہیوال انتظامیہ کی بے حسی، لاپرواہی وغفلت نے 16 بچوں کوموت کی نیند سلادیا.

ساہیوال(خصوصی رپورٹ) ڈی ایچ کیو ہسپتال ساہیوال انتظامیہ کی بے حسی، لاپرواہی وغفلت نے بچوں کوموت کی نیند سلادیا، چلڈرن وارڈ کی نرسری کا اے سی خراب ہو نے سے8بچے دم توڑ گئے، واقعہ کی اطلاع پر ڈی سی محمدزمان وٹو فوری ہسپتال پہنچے، ڈی سی نے ایم ایس آفس کا اے سی چلڈرن وارڈ میں لگوادیا، وزیراعلیٰ پنجاب نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے فوری رپورٹ طلب کرلی۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ٹیچنگ ہسپتال میں بچگانہ وارڈ کے اے سی کی خرابی پر انتظامیہ کی مبینہ غفلت اور گرمی بڑھ جانے کی وجہ سے 8 نو مولود بچے زندگی کی بازی ہار گئے جس پر لواحقین نے شدید احتجاج کرتے ہوئے فیصل آباد روڈ کو ہرقسم کی ٹریفک کے لیے بند کردیا، ہسپتال انتظامیہ نے پہلے پہل تو لواحقین پر دباؤ ڈال کر واقعہ کو دبانے کی روائتی کوششیں کی لیکن جیسے ہی خبریں میڈیا پر آئیں توانتظامیہ حرکت میں آگئی۔ ڈپٹی کمشنر محمدزمان وٹوفوری طور پر ہسپتال پہنچے اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے دفتر کا اے سی ہنگامی طور پر چلڈرن وارڈ میں لگا دیا گیا۔ دوسری طرف وزیراعلیٰ پنجاب اور صوبائی وزیر صحت نے واقعہ کا فوری نوٹس لیتے ہوئے انکوائری رپورٹ طلب کرلی۔ ڈپٹی کمشنر محمدزمان وٹو کی طرف سے حکام بالا کو بھجوائی جانے والی رپورٹ میں بائیو میڈیکل انجینئر لقمان تابش کو اے سی کی خرابی کا ذمہ دار قرار دیکر معطل کرنے کی سفارش کی گئی ہے اور غفلت کے مرتکب دیگر عملہ کے خلاف کارروائی کرنے کا کہا گیاہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب سردارعثمان بزدارکی ہدایت پرایڈیشنل سیکریٹری صحت رفاقت علی ہسپتال پہنچ گئے اور ان کی زیرنگرانی تحقیقاتی کمیٹی کا اجلاس ایم ایس آفس میں ہوا ایڈیشنل سیکریٹری صحت کا کہنا تھا کہ شام تک تحقیقاتی رپورٹ سامنے آ جائے گی اور ذمہ داران کو سخت سزا دی جائے گی۔ واضح رہے کہ سول ہسپتال ڈویژن بھر میں اپنی نوعیت کا واحد ہسپتال ہے جہاں ڈویژن کے تینوں اضلاع کے علاوہ دیگر شہروں سے بھی ہزاروں مریض روزانہ کی بنیاد پر علاج ومعالجہ کے لیے آتے ہیں۔ ہسپتال کی بچہ وارڈ میں صرف 18 بیڈز ہیں جہاں اس وقت 44 کے لگ بھگ بچے زیر علاج ہیں۔ یاد رہے کہ اس ہسپتال میں بدانتظامی اور ڈاکٹرز کی طرف سے ڈیوٹی میں عدم دلچسپی کی بازگشت اکثر اوقات سنائی دی جاتی رہی ہے۔ قبل ازیں ایم ایس ڈاکٹرشاہد نذیر کوکشتی جھولاحادثہ کے زخمیوں کو علاج ومعالجہ کی سہولیات کی فراہمی میں کوتاہی پر وزیراعلیٰ پنجاب نے عہدے سے فارغ کردیاتھا۔ شہریوں و بچوں کے لواحقین کا کہنا ہے کہ تین روز میں 16کے قریب بچے گرمی کی وجہ سے فوت ہو چکے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں