242

قوم کے مجرم ….. (راؤ کامران علی، ایم ڈی)

تحریر: راؤ کامران علی، ایم ڈی.

یہ گزشتہ سال رمضان المبارک کی بات ہے، روزہ کھول کر مسجد میں دوستوں کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھا کہ سیل فون پر دھیان ہی نہیں گیا اور کچھ دیر بعد چیک کیا تو ابوظہبی سے پندرہ بیس مس کالز تھیں۔ سوچا الّلہ خیر کرے، پتا نہیں کس کی اتنی زیادہ کالز ہیں اس لئے کال ریٹرن کی۔ یہ ابوظہبی ائرپورٹ پر امریکہ امیگریشن ڈیسک تھا۔ میری کال انچارج کو ٹرانسفر کی گئی۔ اس نے چھوٹتے ہی پوچھا کہ کیا آپ کی طرف کوئی نوجوان ڈاکٹر آرہا ہے پاکستان سے؟ یہاں یہ وضاحت کردوں کہ ہر سال نوجوان پاکستانی ڈاکٹرز، میرے پاس کلینک اور سرجری سنٹر میں آبزرورشپ یا ایکسٹرن شپ کے لئے آتے ہیں اور وہ چند ایک ہوتے ہیں تو مکمل جانکاری ہوتی ہے لیکن گزشتہ سال ”اپنا“ کے ایڈووکیسی کمیٹی کے چئیرمین کے طور پر ہر پاکستانی ڈاکٹر جو میچ ہوا تھا اس کے ویزے کی ذمہ داری ہماری کمیٹی پر تھی۔ ان کی تعداد ڈیڑھ سو سے زائد تھی اور اکثر کو پتا تھا کہ کوئی مسئلہ ہو ویزے میں تو میرا نمبر متعلقہ اتھارٹی کو دے دیں۔ اب امیگریشن انچارج کو میں نے کہا کہ میں تو ڈیڑھ سو طلبا کی توقع کررہا ہوں۔ اس نے کہا نہیں ابھی ایک کو روکا ہوا ہے ہم نے جو تمھارے پاس آرہا ہے تو اس کا بتاؤ۔ اور انچارج نے کوئی اشارہ یا معلومات دینے سے بھی انکار کردیا۔ بس یہ بتایا کہ وہ ڈاکٹر نہیں میڈیکل اسٹوڈنٹ ہے۔ میرے ذہن میں خیال آیا کہ ناروے سے ایک نشتیرین ڈاکٹر نے کسی اسٹوڈنٹ کی آبزروشپ کا کہا تھا، تو میں نے بتا دیا۔ ویزہ انچارج نے بتایا کہ اس اسٹوڈنٹ کی فیملی کا نام واچ لسٹ پر ہے۔ میں نے اپنی گارنٹی پر اسٹوڈنٹ کا ویزہ کلیر کروایا اور بعد میں پتا چلا کہ اسکے والد ایک سینئر فوجی افسر تھے اور ملک سے بھاگ کر باہر سیاسی پناہ لے رکھی تھی۔ اسٹوڈنٹ نے ہمارے گھر فیملی کے ساتھ تین ہفتے قیام کیا اور کبھی اس ٹاپک پر بات نہیں ہوئی کہ اسٹوڈنٹ شرمندہ نہ ہو۔ میرے ذہن میں کئی اندیشے آئے کہ ایک فوجی افسر کیوں ملک سے بھاگے گا؟ شاید کوئی کرپشن کی ہوگی، ڈیوٹی صحیح انجام نہیں دی ہوگی لیکن پاک فوج سے امیدیں اور انسیت ایسی ہے کہ یہ بھی نہیں سوچا کہ ہوسکتا ہے غداری کی ہو لیکن لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال اور بریگیڈئیر راجہ رضوان کی غداری کا سن کر انتہائی دکھ اور مایوسی ہوئی!

مزید آگے جانے سے پہلے چند باتوں کا جاننا بہت ضروری ہے:

۱- دنیا کی ہر فوج میں انسان ہوتے ہیں اور انسانوں کو خریدا جاسکتا ہے۔ پاک فوج اس معاملے میں کم ترین شرح رکھتی ہے۔
۳- پاک فوج میں خودکشی کا تناسب زیرو ہے۔
۲- ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری اور حفاظت الگ شعبے ہیں۔ تیاری آجکل گوگل پر بھی مل جاتی ہے اور حفاظت ایسے کی جاتی ہے کہ ڈاکٹر عبد القدیر کو بھی نہیں پتا! باغ جناح میں آپکو کتنے جرنیل واک کرتے مل جائیں گے جو کبھی کہوٹہ کے انچارج تھے۔ اگر یہ حفاظتی نظام کا نالج اتنا عام ہوتا تو کسی کو بھی اغوا کرکے تشدد سے اگلوا لیتے۔ اس لئے ہر معاملے میں ”نیوکلئیر ویپن” کا ذکر بے مقصد ہے۔

بریگیڈئیر راجہ رضوان حیدر کے بارے میں تشویش دفاعی اتاشی کے طور پر اس کی آسٹریا میں تعیناتی کے دوران ہوئی! اس کا نام اگلے رینک کے لئے روک لیا گیا تھا۔ اس دوران اس کی مشکوک غیر ملکیوں سے ملاقاتیں مانیٹر کی گئیں۔ ایجنسیوں کی تاڑ میں سب سے زیادہ آفیسر وہ ہوتے ہیں جو برانڈڈ سوٹ، قیمتی سگار، مہنگی کار یا جوا خانے میں نظر آتے ہیں کیونکہ انکی ضروریات آمدنی سے زیادہ ہوتی ہے اور جلد یا بدیر، انھیں اضافی آمدنی کی ضرورت پڑتی ہے۔ یہاں بریگیڈیئر رضوان کی ملاقات، مائیکل سے ہوتی ہے جو کہ ایک مڈل ایجنسی کا بندہ ہوتا ہے آپ اس ایجنسی کا نام ”نائٹ ہاک“ فرض کرلیں! پوری دنیا میں ریٹائرڈ فوجی آفیسر اسلحہ ڈیل میں کنٹریکٹر کے طور پر کام کرتے ہیں اور فوج بھی کنٹریکٹر سے خریدتی ہے جس کا کمیشن ریٹائرڈ فوجی آفیسر کی فرم کو ملتا ہے! ایڈمرل منصور الحق کو فرانس سے آبدوز خریدنے پر ”کِک بیک“ ایسے ہی دی گئی تھی کہ ”ایڈمرل صاحب، ایک دو سو ملین ڈالرہم نے کنٹریکٹر یا مڈل مین کو بھی دینے ہیں، آپ لے لیں“ اور پھر ایڈمرل صاحب دس ملین نیب کو واپس کرکے ٹیکساس میں ہمارے ہمسائے شہر آسٹن میں موجیں مارتے رہے ہیں۔ پاکستان آرمی واحد فوج ہے جو تھرڈ پارٹی کے ذریعے ڈیل نہیں کرتی ورنہ رافیل جہاز خریدنے کے لئے بھارت، مکیش امبانی کو ساٹھ ہزار کروڑ روپے ”مڈل مین“ کے طور پر دیتا ہے اور اس کا نتیجہ بھی آپ دیکھ چکے ہیں، جی ہاں ”ٹی از فینٹاسٹک“!!!

بریگیڈیئر رضوان کو خواب دکھائے گئے کہ اسے اسلحہ ڈیلر کے کنٹریکٹ ملیں گے بالخصوص، جنوبی ایشیا اور افریقہ کے! لیکن اسے وفاداری کے طور پر کچھ راز شئیر کرنے ہوں گے۔ اب یہاں دو رائے ہیں، ایک یہ کہ بریگیڈیئر رضوان نے کچھ راز دے دئیے اور انکا پتا 2018 میں ہائی پرفائل را ایجنٹ کی گرفتاری سے چلا، دوسرا یہ کہ وہ بلف کرتا رہا اور کوئی خاطر خواہ راز فراہم نہ کرسکا، اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ اس کا ضمیر نہیں مانا یا اس کے پاس تھے نہیں۔ یہ پہلو بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا. کہ اس سب کے بعد وہ 2014 سے اسلام آباد میں تھا ورنہ باہر بھاگ سکتا تھا۔

لیفٹینٹ جنرل جاوید اقبال کا کیس عقل سے عاری ہے، انتہائی شاندار کیرئیر، ڈی جی ایم او، ایڈجوٹنٹ جنرل، کور کمانڈر، چیف آف آرمی اسٹاف کا مضبوط امیدوار، فوج سے لے کر سول انتظامیہ اس انسان کی بے پناہ معترف ہے، کور کمانڈر بہاولپور کے طور پر قبضہ مافیا سے زمین خالی کروانے سے لیکر چکوال میں سول سوسائٹی کے لئے اقدامات، سوات آپریشن کی نگرانی اور چھ لاکھ لوگوں کی موومنٹ اور واپسی کا خیال رکھنا۔ اس کی غداری نے لوگوں کا سچائی پر سے ایمان متزلزل کردیا ہے۔ لیکن شواہد اتنے مضبوط ہیں کہ جنرل صاحب انکار نہیں کرسکے، بمشکل سزائے موت سے بچے ہیں۔

جہاں عوام اس وردی پر جان نچھاور کرتی ہے وہیں، غداری دل چیر کر رکھ دیتی ہے۔ یہ افسران فوج کے ہی نہیں، عوام کے مجرم ہیں۔ یہ بڑے افسران تو نمونے کے طور پر پیش کئے گئے ہیں، ان کے ننھے منے گماشتوں کا بھی حساب اندرون خانہ چل رہا ہے، کچھ سڑی ہوئی فصلوں کو کاٹنے کا وقت ہوا چاہتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں