192

سوئس بینکوں میں پاکستانیوں کی جمع رقوم 34 فیصد کمی کے بعد 73 کروڑ 80 لاکھ ڈالر رہ گئیں۔

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) سوئس بینکوں میں رکھی پاکستانیوں کے 200 ارب ڈالر کی رقم واپس لانے کیلیے دعوے کیے گئے مگر یہ اب ایک فرضی رقم ہی رہے گی کیوں کہ سوئٹزز لینڈ سینٹرل بینک اور سوئس نیشنل بینک کی گزشتہ روز جاری ہونے والی سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستانیوں کی یہ رقم 34 فیصد کمی کے ساتھ 73 کروڑ 80لاکھ ڈالر رہ گئی ہے۔

سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مذکورہ کمی 2008 میں پاکستانیوں کے اپنے براہ راست کھاتوں میں پڑی رقم کی مناسبت ہے جبکہ کسی امین کے ذریعے بالواسطہ کھاتوں میں 26 فیصد اضافہ ہوا۔سالانہ رپورٹ میں سوئس بینکوں میں پاکستانی رقوم میں کمی کی وجہ 2015 میں پاکستان اور سوئٹرزلینڈ کے درمیان ہونے والے ٹیکس معاہدے کو بتایا گیا ہے جس کے بعد پاکستانیوں کے سوئس کھاتوں میں 49 فیصد کمی ہو گئی۔ 2014ء میں اس وقت کے وزیر خزانہ اسحق ڈار نے قومی اسمبلی کو بتایا تھا کہ سوئس بینکوں میں پاکستانیوں کے 200 ارب ڈالر پڑے ہوئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

سوئس بینکوں میں پاکستانیوں کی جمع رقوم 34 فیصد کمی کے بعد 73 کروڑ 80 لاکھ ڈالر رہ گئیں۔” ایک تبصرہ

  1. اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ وہ رقم 200 ارب ڈالر نہیں بلکہ 200 ارب روپے تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں