257

قاسم علی شاہ کی کامیابیوں کا سفر …. (صابر بخاری)

تحریر: صابر بخاری

گزشتہ دنوں بیچ چوراہے قاسم علی شاہ بھائی نے مجھے دیکھ کر گاڑی ایک طرف پارک کی اور میرے پاس آکر ہیلو کہا تو جہاں میری حیرت اور مسرت کے تمام در کھل گئے وہیں ہم دونوں کے چہرے بھی خوشی سے کھلکھلا اٹھے۔ فرط جذبات سے ”جپھی “ڈالی تو وہ لمحات فلم کی طرح ذہن میں رواں دواں ہوگئے جب ہم دونوں بھائی پل پل ساتھ رہتے مگر اب ایک طویل جدائی کے بعد یوں اچانک آمنے سامنے تھے۔

صاحب مضمون صابر بخاری اور قاسم علی شاہ

قاسم علی شاہ سے پہلی ملاقات میرے پنجاب یونیورسٹی میں کلاس فیلو، آئی ٹی کے کم عمر مگر کامیاب ترین انسان عابد کی بدولت ہوئی ۔شاہ صاحب اس وقت لاہور چیمبر آف کامرس کے ایف ایم ریڈیو پر پروگرام کرتے تھے ،مجھے انہوں نے خصوصی انٹرویو کیلئے بلایا ۔انٹرویو کے ایک گھنٹے میں ہم جان چکے تھے کہ ہم دو جسم ضرور ہیں مگر ہماری روح ایک ہے ۔وہ وقت اور آج کا دن ہم ایک پل بھی دور نہیں ہوئے (ہم دور ضرور ہوتے ہیں مگر ہماری دھڑکنیں ایک ساتھ دھڑکتی ہیں)۔ پہلے ہر ہفتہ ہماری ملاقات سمن آباد میں شاہ صاحب کے سکول میں ہوتی،ملک و قوم کی خدمت کے نت نئے منصوبے زیر غور آتے،میری ذاتی زندگی میں بھی شاہ صاحب کی بدولت کئی مثبت تبدیلیاں آئیں ۔شاہ صاحب کے سکول میں اس قدر کڑک کافی ملتی کہ ہم اکثر دو دو کپ کے باوجود بھی مزید کافی کے بھی طلبگار رہتے،یاد آیایہاں کے کیک رس جیسا سواد بھی پھر کہیں نہیں ملا۔پھر ہمارا ڈیرہ شاہ صاحب کے گھر کا ڈرائنگ روم بن گیا جہاں شاہ صاحب کیساتھ بھتیجا صاحب سے بھی خوب باتیں ہوتیں ۔پر مغز، مقصدیت اور اصلاح سے بھرپور گفتگوکیساتھ ساتھ جتنالذیذ فاسٹ فوڈشاہ صاحب کے اس ڈرائنگ روم میں نوش کیا وہ لذت اور سواد اور کہیں دیکھنے کو نہیں ملا ،شاید اس میں شاہ صاحب کا اخلاص اور مٹھاس شامل تھی ۔وقت بھی اپنا رنگ دکھاتا ہے اور ہم دو بھائی پھر مہینوں بعد ملنے لگے مگرہم سوشل میڈیا پررابطے میں رہتے اور ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کرتے رہتے۔زندگی میں ہزاروں لوگوں سے شناسائی ہوئی (یہ اور بات ہے دوست ابھی بھی دو چار ہی ہیں )مگرشاہ صاحب سے زیادہ خوش اخلاق ،مہمان نواز ،مخلص ،وژنری انسان میں نے آج تک نہیں دیکھا ۔
شاہ صاحب کی زندگی اہل پاکستان خاص طور پر نوجوانوں کیلئے مشعل راہ ہے ۔گجرات کا وہ قصبہ جہاں قتل و غارتگری نے پنجے گاڑ رکھے تھے ۔دن دیہاڑے انسان کو گاجر مولی کی طرح کاٹ دیا جاتا تھا ۔وہاں سے ایک نوجوان آگے بڑھا اور محبت ،امن اور امید کی شمع روشن کرنے کا تہیہ کیا ۔ابتدا میں بے پناہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑے ،قاسم علی شاہ بننے تک کیا کچھ پاپڑنہ بیلنے پڑے ،حصول مقصد اور منزل کیلئے دن رات ایک کردیا ۔دن کو پڑھاتے اوررات کونیند اور سکون کی قربانی دیتے ہوئے شب کے کئی پہر اپنے ادارے کی تشہیر کیلئے پمفلٹ تقسیم کرتے ۔کئی لوگوں کی جھڑکیں ،باتیں اور طعنے برادشت کیے ۔ایک گھر

گھر میں پمفلٹ پھینکا تو ایک نوجوان غصے سے لال پیلا ہوتا باہر نکلا اور کیا کچھ نہ سنایا مگر شاہ صاحب نے سب کچھ خندہ پیشانی سے برداشت کیا ۔آنکھوں میں کچھ کرنے کا عزم اور ارادے پختہ تھے ،جانتے تھے منزل بہت دور ہے اس شخص کو جواب دینا شایان شان نہیں ،پھر وہ شخص کس طرح شاہ صاحب کا گرویدہ ہوا اور اس سے کیا رشتہ بنا یہ دلچسپ کہانی پھر کبھی ۔مقصد بتانے کا یہ ہے کہ وہ قاسم علی شاہ جو ہزاروں لاکھوں دلوں پر راج کرتا ہے اس سٹیج تک پہنچنے میں کتنی محنت، ریاضت اور مشکلات کا سا منا کیا۔ان کا یقین کامل تھاکہ

تندی بادمخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کیلئے

قاسم علی شاہ نے اس شعر کو نسخہ کیمیا سمجھا، ڈٹے رہے اور بالا ٓخر خدا کی مدد اورنصرت بھی انکے ہمرکاب ہوگئی اور کامیابیوں کے در کھل گئے۔اپنی کامیابی کا راز بتانے نکلے اور کئی اعلیٰ افسران اور نوجوانوں کو زندگی بدل کر رکھ دی۔وہ اکیلے ہزاروں اساتذہ ،مولویوں اور علماءکرام کے برابر کام رہے ہیں ،انہوں نے ایک نسل سنوارنے کا جو بیڑہ اٹھایا تھا (جس کی ہم اکثر پلاننگ کرتے رہتے تھے)کامیابی سے اس پر کاربند اور محو سفر ہیں۔ہزاروں، لاکھوں لوگ انکی بدولت زندگی میں کامیابیوں کے زینے طے کر چکے ہیں اور لاکھوں کامیابی کے سفر پر گامزن ہیں۔شاہ صاحب صرف دنیا وی زندگی ہی نہیں بلکہ اخروی زندگی میں بھی کامیابی کا جو نسخہ کیمیا بتاتے ہیں وہ کسی عالم یا مولوی کے پاس بھی بمشکل ملتا ہے۔انکی باتوں میں وژن جذبہ سوچ لگن امید خودی اور سب سے بڑھ کر ایک سحر ،ایک لطف سا ہے ،جو بھی انکو ملتا یا انٹرنیٹ پر انکی ویڈیو یا پوسٹس دیکھتا ہے تو اس میں کھو سا جاتا ہے اور اپنے آپکو بدلنے اور کامیابی وکامرانی کے پیغام کو خود پر لاگو کرنے کی پوری سعی کرتا ہے ۔قاسم علی شاہ جس منزل کا مسافر ہے ،وہ منزل اس دنیا میں بھی کامیابی کی ضمانت ہے اور آخرت کو بھی سنوارنے کا درس دیتی ہے ۔اللہ شاہ صاحب کو اپنے مقصد حیات میں کامیابی عطا فرمائے ،آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں