379

ایک کہانی قرضوں کی — (منتخب تحریر)

ترتیب و انتخاب ۔۔ زاہد آرائیں

ہم میں سے کچھ لوگوں کو انیس سو ستر کی دہائی کے دن یاد ہوں گے جب تیل کا بھاؤ بہت اونچا چلاگیا تھا اور تیل پیدا کرنے والے ملکوں کے پاس بے اندازہ دولت آ گئی تھی۔ اس دولت کو جہاں جانا تھا وہیں گئی یعنی یورپی بینکوں میں۔ پیسہ پیسے کو کھینچتا ہے۔ بینکوں نے اسے آگے سود پہ دینا چاہا۔ امیر ملک اس زمانے میں کساد بازاری کا شکار تھے۔ وہاں مشکل ہی سے کوئی تھا جو سرمایہ کاری پر تیار ہوتا۔

اگرچہ پروپیگینڈا یہی کیا گیا تھا کہ یہ تیل کی دولت ہے مگر درحقیقت یہ 1971 میں بریٹن ووڈز کا معاہدہ ٹوٹنے کے بعد مغربی ممالک کی بے تحاشہ کاغذی کرنسی کی چھپائی سے حاصل ہونے والی دولت تھی جسے مستقل دولت کی شکل دینے کے لیئے کسی احمق کو قرض دینا ضروری تھا۔

بینکوں نے غریب ملکوں کی طرف دیکھاجن کو عالمی بینک کی طرح کے بڑے بڑے دانشمند مغربی مشیر سمجھانے میں لگے تھے کہ اپنی معیشت کو کیسے سنواریں۔ مشیروں نے ناداروں کو مشورہ دیا کہ قرض لینے کا یہ موقع ہاتھ سے نہ جانے دیں، وافر رقم بھی ہے، سود کی شرح بھی کم ہے۔ دیکھتے دیکھتے قرض ایسے بڑھنے لگا جیسے آ کاس بیل پھیلتی ہے کہ قابو میں نہیں آتی۔

غریب ملکوں کے سیاست دانوں کو کھل کر کھیلنے کا موقع ملا۔ اسٹاک ہوم کے پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا اندازہ ہے کہ قرض کا پچیس سے تیس فیصد ان ملکوں نے ہتھیار اور اسلحہ خریدنے پر خرچ کر دیا۔ڈکٹیٹروں نے اپنے ہی لوگوں کا خون بہانے اور انہیں دہشت زدہ کرنے کے لیے یہ ہتھیار استعمال کیے اور امریکا، برطانیہ، سوویت یونین، فرانس، مشرقی جرمنی اور چیکوسلاواکیہ جیسے بہت سے ملکوں میں اسلحہ سازوں کی چاندی ہو گئی۔

قرض کا بہت سا پیسہ فضول کے منصوبوں پر نمود نمائش کے لیے لٹایا گیا۔ مثلاً فلپائن کی حکومت نے دو اعشاریہ دو بلین ڈالر باٹان کے جوہری بجلی گھرپر خرچ کرڈالے۔ اس سفید ہاتھی نے کبھی بجلی پیدا نہیں کی لیکن فلپائن کی حکومت دو لاکھ ڈالر یومیہ قرض قسطوں میں ادا کرتی رہی۔

بہت سی رقومات خرد برد بھی ہوئیں۔ فلپائن کے صدر مارکوس اور ان کی اہلیہ، میکسیکو کے لوپیز پورٹیلو، نکارا گوا کے انستازیئو سموزا، نائجیریا کے فوجی جرنیل، زائیر کے صدر موبوتو یہ سب امیر کبیر لوگوں میں شمار ہونے لگے۔

ان بڑے بڑے لوگوں نے جو کچھ کیا اسے بینکوں اورمالیاتی قانون کی زبان میں سرقہ کہتے ہیں۔ مغرب میں بینکاری کے ضابطوں کے مطابق بینک قرض دینے سے پہلے پورا اطمینان کرلیتے ہیں کہ مانگنے والا قابل اعتبار ہے یا نہیں۔ لیکن تیسری دنیا کو بینکوں نے آنکھ بند کرکے قرض دیے۔ صرف اپنے بچاؤ کے لیے بڑے بینکوں کے ذریعہ قرض دیے گئے تاکہ عدم ادائیگی کی صورت میں نقصان کو آپس میں تقسیم کیا جاسکے۔

بینکوں اور مغربی حکومتوں کو فلپائن کے صدر مارکوس کی طرح کے لوگوں کے بارے میں بخوبی معلوم تھا کہ ظالم اور جابر بھی ہیں اور بد عنوان بھی لیکن سرد جنگ نے اخلاق کے جو پیمانے ڈھال دیے تھے ان میں مارکوس اور پینوشے کی طرح کے ظالموں اور جابروں سے تعلقات قائم رکھنے میں مغربی طاقتوں کو کوئی عار نہیں تھا۔

کہانی یہیں ختم نہیں ہو جاتی۔ اس کا ایک اور رخ بھی ہے۔ جب قرض شروع ہوئے تھے تو بہت معمولی سا شرح سود طے ہوا تھا۔ لیکن معاہدوں میں یہ شق بھی تھی کہ سود کی شرح امریکی شرح سود سے ایک فیصد زیادہ رہے گی۔ انیس سو اسی کے آتے آتے مغربی دنیا میں عمومی طور پر اور امریکا میں خاص طور سے شرح سود اس حد تک بڑھنا شروع ہوئی کہ ایک وقت میں ساڑھے اکیس فیصد تک پہنچ گئی۔ اب تیسری دنیا پر قرض کا بوجھ ناقابل بیان حد تک بھاری ہو گیا ۔

ایک جانب شرح سود بڑھ رہی تھی تو دوسری طرف تیسری دنیا کی پیداوار جسے خام اشیا کہا جاتا ہے اس کی قیمتیں گر رہی تھیں کیونکہ یورپ اورامریکا میں کساد بازاری تھی۔ اس کی ایک مثال یہ دی جاسکتی ہے کہ سیسہ، زنک، ٹین، چینی، کافی اور چائے ان سب کے مجموعی بھاؤ انیس سو چوہتر کے مقابلے میں انیس سو اٹھاسی میں اڑتالیس فی صد کم ہو گئے تھے۔ یعنی مقروض ملک اتنا زرِمبادلہ نہیں کما پا رہے تھے کہ قرض کی قسطیں ادا کرسکیں۔
اگست انیس سو بیاسی میں مکسیکو نے دھمکی دی کہ وہ قرض کی ادائیگی نہیں کر سکتا اس لیے اسے نادہندہ قرار دے دیا جائے۔ میکسکو اگر نادہندہ ہو جاتا تو وال اسٹریٹ کے کئی بینکوں کا دیوالیہ نکل جاتا۔ عالمی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ فوراً حرکت میں آ گئے اور تیسری دنیا کے لیے ایک پروگرام طے کیا گیا، ’اقتصادی استحکام اور انتظامات میں رد وبدل کاپروگرام‘۔

سیپس نامی یہ پروگرام بظاہر سادہ اور سمجھ میں آنے والے اصول کو مد نظر رکھ کر بنایا گیا تھا یعنی زیادہ کماؤ، کم خرچ کرو مگر جب تفصیلات طے کی جاتیں تو تصویر تھوڑی سی بدل جاتی۔ اقتصادی استحکام کے لیے عام طور سے حکم دیا جاتا کہ اپنی کرنسی کی قیمت کم کرو، سرکاری اخراجات کم کرو، ملک میں قیمتوں پر کنٹرول ختم کرو، تنخواہوں میں تخفیف کرو، باہر کی سرمایہ کاری اور درآمدات کے لیے دروازے کھولو، کارخانوں اور کھیتوں میں وہ چیزیں پیدا کرو جو برآمد کرسکتے ہو، سرکاری صنعتوں اور کارخانوں کی نج کاری کرو اور اگر بڑے پیمانے پر بے روزگاری پھیلے تو پروا نہ کرو، تعلیم، صحت اور سماجی بہبود کا بجٹ کم کرو۔

اس طرح کے جو پیکج ترقی پزیر ملکوں میں رائج کیے گئے انہوں نے تباہی پھیر دی۔ اس پروگرام کا اثر یہ ہواکہ ملک جو کچھ کما رہا ہے وہ سب زرِمبادلہ میں بدل دیا جائے اور یہ زرِمبادلہ قرض کی قسط کے طور پر ادا کر دیا جائے۔

ان پابندیوں نے غریب ملکوں میں عوام کی کمر توڑ کے رکھ دی۔ خاص طور عورتوں اور بچوں کی بہبود اور تعلیم کی ساری تدبیریں الٹ پلٹ ہو گئیں۔ بہت شور مچا تو حال میں قرض خواہوں نے سیپس میں ایک اور پروگرام کا اضافہ کرکے اس کے اثرات کو محدود کرنے کی کوشش کی۔ نئے پروگرام کو’ غربت میں کمی کی تدابیر‘ کا نام دیا گیا۔
مطالبہ اب یہ کیا جا رہا تھا کہ یہ تمام قرض ختم کردیے جائیں کیونکہ ایک تو غریب ملک کبھی بھی انہیں ادا نہیں کر سکیں گے۔ دوسرے سود کی شکل میں مقروض ملک اصل سے کہیں زیادہ ادا کرچکے ہیں۔ جبکہ پینتالیس ہزار بلین ڈالر امیر ملکوں کے پورٹ فولیو کا صرف پانچ فیصد حصہ ہے اس لیے ان کی صحت پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا۔

امیر ملکوں میں اس بات پر کئی سال سے سوچ بچار ہو رہا ہے لیکن دوسری جانب کچھ مقروض ملک ایسے بھی ہیں جو یہ نہیں چاہتے کہ ان کا قرض معاف کر دیا جائے۔ مثال کے طور پر تھائی لینڈ نے جی سیون سے کہا کہ وہ اپنی قسطیں منجمد نہیں کرانا چاہتا۔ کیوں؟؟؟ بات یہ ہے کہ بینکاری کے ضوابط کے مطابق معاف شدہ رقم غیر ادا شدہ رقم ہو جاتی ہے اور ایسے شخص، ادارے یا ملک کا شمار نادہندوں میں ہونے لگتا ہے اور اس کے آئندہ قرض لینے میں دشواری ہوتی ہے۔

آخری بات۔۔
قرض وہ دلدل کہ جس میں
دھنسنا آسان اور نکلنا بہت ہی مشکل۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں