406

کاش کہ ایک ہی عید ہوپاتی ……. (اداریہ)

تحریر: شاہد چشتی

آج رمضان المبارک کاتیسرا اور آخری عشرہ اور امید واثق ہے کہ روزہ بھی آخری ہی ہوگا. محترم برادرم پروفیسر ماجد غفور صاحب کی تحریر “عید واقعی 5 جون کوہوگی؟” نیا زاویہ نامی ویب سائٹ پر پڑھنے کا اتفاق ہوا. راقم بھی اس موضوع پر کچھ لکھنے کی جسارت میں مصروف تھا لیکن کچھ بن نہیں پارہا تھا. ایسے میں یہ تحریر گویا ایک نالائق طالب علم کے لیے کمرہ امتحان میں ایک بوٹی کی شکل میں میسر آگئی تو کام قدرے آسان ہوگیا.

وہ لکھتے ہیں کہ “خوشی کا ایک اور لمحہ چاند رات بھی ہے۔ عید کا چاند دیکھنے کیلئے انتیسویں روزہ کی افطاری کرتے ہی چھت پہ چڑھ جانا اور اپنی نظروں کو آسمان پہ جمائے رکھنا،بہت ہی خوبصورت لمحا ت ہوتے ہیں۔ اس سارے تسلسل میں بچوں کا جوش و خروش تو اپنی مثال آپ ہے۔ لیکن ساتھ میں بڑے بھی شانہ بشانہ چاند کے نکلنے یا نہ نکلنے کی خبر سننے کو بے تاب رہتے ہیں۔ خوشیوں کا ایساسماں شاید ہی کسی موقع پہ دکھائی دیتا ہو گا۔ ہر طبقہ کے چھوٹے بڑے ان لمحات کا حصہ ہوتے ہیں۔ مگر اب کے چاند دیکھنے کیلئے کسی چھت یا دوربین کا استعمال شاید نہ ہوسکے۔ عید انتسیویں شب کے بعد ہو گی یا تیس روزے مکمل ہونے کے بعد آئے گی۔ اب کی بار اس کشمکش سے بھی ساری قوم باہر نکل آئے گی۔ عیدکس دن ہوگی پہلے سے ہی پتا ہوا کرے گا۔ کیونکہ اب کے سننے میں آ رہاہے۔ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی وزارت نے سائنسی بنیادوں پہ بتا دیا ہے۔ کہ عید سعید پانچ جون بروز بدھ ہوگی۔ وہ اس لئے کہ چاند زمین کے گرد اپنا ایک چکر جو کہ 28.5 دن پہ مشتمل ہوتا ہے۔ مکمل ہو جائے گا۔ پھر اگلے چکر کیلئے نمودار ہونے کا وقت منگل کی شپ چار جون ہو گا۔ کچھ وقت کیلئے چاند واضح طور پہ دکھائی دے گا۔ لہٰذا ایک بڑی سے دوربین لے کے اونچی بلڈنگ پہ جانے کاوقت اب نہیں رہے گا۔”

انہوں نے مذید لکھا کہ “عید کیلئے پہلے سے بتا دی گئی تاریخ اور دن کی وجہ سے مندرجہ بالا تمام کشش ختم ہو جائے گی۔جو بچپن، لڑکپن اور جوانی میں چاند دیکھنے پہ نظر آتی ہے۔ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے وزیر فواد چودھری نے قمری کیلینڈر جاری کرتے ہوئے نہ صرف اس عید کا بلکہ اگلے پانچ سالوں کیلئے عیدالفطر کا باقاعدہ اعلان بھی کر دیا ہے۔ دیر آید درست آید۔ ہم اس بات پہ راضی تو ہوئے کہ قمری کیلینڈر بھی کئی سالوں کا بنایا جا سکتاہے۔ نہ صرف اسے بنایا جائے گابلکہ عمل درآمد کے امکان بھی پیدا ہو گئے ہیں.”

وہ آگے چل کر مذید لکھتے ہیں کہ “سائنس کی اہمیت سے انکار اب ناممکن ہوتا جائے گا۔مذہب اور عقائد کی بنیا د پہ کئی سائنسی تحقیق اور ایجاد پہ اعتراض تو رہے گا۔ مگر اس کی حقیقت ایک دن سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔ جیسا کہ آج اس نتیجہ پہ نہ صرف پہنچ گے ہیں بلکہ اگلے پانچ سال کا قمری کیلنڈربھی جاری کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ پاکستان میں سائنس کی عملی اہمیت کی جانب یہ پہلا قدم ثابت ہوگا۔ جو قدامت پسند ان ذہنوں کو بھی ماننے پر مجبور کر دے گا۔ جو ذاتی زندگی میں صبح سے لے کے شام تک سائنسی ایجادات سے مستفید ہورہے ہوتے ہیں، مگر کئی طرح کے منجمد خیالات کو سائنسی بنیادوں پہ پرکھنے کی بجائے بند آنکھوں اوربند ذہن پہ ہی اکتفا کئے ہوتے ہیں۔”

قارئین! محترم ماجد غفور کی یہ نگارشات پڑھ کر اور وزارت سائنس وٹیکنالوجی کے وزیر فواد چوہدری کی جانب سے سائنسی بنیادوں پر جاری کردہ قمری کیلنڈر سے اس بات کی امید پیدا ہوچلی تھی کہ پاکستان میں اب کئی یا پھر دو کی بجائے صرف ایک عید منانا ممکن ہوپائے گا. لیکن افسوس کہ اس سال بھی پاکستان اور پاکستانیوں کے نصیب میں ایک عید منانا ممکن نا ہوسکا. پاکستانیوں کی اس امید کو توڑا بھی تو دو نہیں ایک پاکستان کا نعرہ دینے والی جماعت پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی گورنمنٹ نے ہی دو عیدوں کے جن کو بوتل میں بند ہونے سے پہلے ہی نکال کے رکھا دیا ہے. یہ مقام حیرت ہے کہ سائنسی بنیادوں پر جب چاند کو دیکھنا ممکن ہی نہیں اس وقت پشاور میں چاند دیکھ لیا جاتا ہے. اب تحقیق کرنے کی بات ہے کہ مفتی پوپلزئی چاند دیکھ کر رویت کا اعلان کرتے ہیں یا صرف سعودی عرب کا اعلان سن کر ہی اعلان کردیتے ہیں. سائنسی طور پر چاند کا ظہور آج شام کو ہونا ہے اور وہ بھی صرف ساحلی پٹی پر دیکھا جانا ممکن ہوگا. تو کے پی کے کہیں ساحلی پٹی سے بھی کہیں زیادہ اندر بیچ سمندر تو واقع نہیں ہے. ہمیں ہرسال حیرت ہوتی ہے کہ بلند ترین عمارات پر طاقت ور دوبینوں سے تو چاند نظر نہیں آتا اور گہری وادیوں میں بیٹھے مفتی پوپلزئی اور ان کے حواریوں کو خالی آنکھ سے چاند نظر آجاتا ہے اور وہ بھی کسی ایک آدھ کو نہیں سینکڑوں کو. ہمیں ایک چاند کے امکان کی ضمانت کے لیے بقول وزیر اطلاعات کے پی کے مفتی پوپلزئی کو مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا چیئر مین بنانا ہوگا.

نوٹ: پروفیسر ماجد غفور کی مذکورہ تحریر نیا زاویہ پر پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں