474

کیا نواز شریف نے قرض لے کر ملک کا کباڑا کردیا؟؟؟؟…(اداریہ)

تحریر: شاہد چشتی

کیا نواز شریف نے قرض لے کر ملک کا کباڑا کردیا؟؟؟؟
اس سوال کے دو قسم کے جواب سننے کو ملتے ہیں، نواز شریف کے مخالفین کہتے ہیں کہ جی ہاں نواز شریف نے قرض لے کر ملک کا کباڑا کردیا، جبکہ حامیوں کا جواب اس کے الٹ ہوتا ہے. لیکن اس سوال کے جواب کو جاننے کے لیے حکومتی اعدادو شمار کا جائزہ لیتے ہیں اور دیکھتے ہیں نواز شریف کو جب اقتدار ملا اس وقت اور جب ن لیگ نے اقتدار چھوڑا اس وقت ملک کی معاشی صورت حال کیا تھی.

5 جون 2013 کو جب نواز شریف نے وزیر اعظم کا حلف اٹھایا، تب:
جی ڈی پی: 3.7 تھی۔
زرمبادلہ کے ذخائر: 6 ارب ڈالر تھے۔
بیرونی قرض: 60 ارب ڈالر تھا۔
اسٹاک ایکسچینج: 21823 پوائنٹس پہ تھی۔
ڈالر: 99.89 روپے کا تھا۔

اور جب 31 مئی 2018 کو اقتدار چھوڑا، تب:
جی ڈی پی: 5.8 تھی۔
زرمبادلہ کے ذخائر: 16 ارب 40 کروڑ تھے۔ جبکہ یہ سامنے کی بات ہے کہ نواز شریف کو جب نا اہل کیا گیا اور اسحاق ڈار کیسز کی وجہ سے ڈسٹرب ہوا اور وزیر خزانہ کی تبدیلی عمل میں آئی تو اس وقت تک یہ زخائر 24 ارب ڈالر سے بھی زائد تھے.
بیرونی قرض: 91 ارب ڈالر سے متجاوز تھا۔
اسٹاک ایکسچینج: 41 ہزار سے متجاوز پوائنٹس پر تھی۔
ڈالر: 118.55 روپے کا تھا۔

سوال یہ ہے کہ بڑھا کیا صرف ڈالر اور قرض؟؟ GDP میں کوئی اضافہ نہیں ہوا؟؟ زرمبادلہ کے ذخائر 10 ارب نہیں بڑھے؟؟ اسٹاک ایکسچینج نے بلندیوں کے ریکارڈ نہیں توڑے؟؟ اور قرض بڑھا بھی تو کتنا؟؟ 31 ارب ڈالر؟؟

آئیے سب سے پہلے 2013 سے 2018 تک لیے گئے ان 31 ارب ڈالر میں سے وہ 10 ارب ڈالر تو نکال دیتے ہیں جو زرمبادلہ کے ذخائر میں موجود ہیں یعنی جو پانچ سالوں میں بڑھے۔ باقی رہ گئے 21 ارب ڈالر؟؟ یہ تھا وہ قرض جو گزشتہ پانچ سالوں میں لیا گیا۔ اور یہ 21 ارب ڈالر لیا کیوں گیا؟ اب اس کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں. کہ یہ کہاں کہاں استعمال ہوئے.

توانائی منصوبے:

نندی پور، قائد اعظم سولر پارک، کاسا، بلوکی گیس پاور پلانٹ، کچھی کینال، نیلم جہلم ہائیڈرو پراجیکٹ، گولن گول ہائیڈرو پراجیکٹ، داسو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ، ساہیوال کول پاور پلانٹ، تھر کول پاور پلانٹ، گلپور پن بجلی منصوبہ، حویلی بہادر شاہ بجلی منصوبہ، بھکی پاور پلانٹ، اپالو سولر، بیسٹ گرین سولر پاور پراجیکٹ، کریسٹ انرجی سولر پاور پراجیکٹ، میٹرو ونڈ پاور پراجیکٹ، یونس ونڈ پاور پراجیکٹ، ٹپال ونڈ پاور پراجیکٹ، ماسٹر ونڈ پاور پراجیکٹ، گل احمد ونڈ پاور پراجیکٹ، تنیگا ونڈ پاور پراجیکٹ، فاطمہ انرجی بیگاس پاور پراجیکٹ، حمزہ شوگر پاور پراجیکٹ، سچل پاور پراجیکٹ، دائود ہائیڈرو پاور پراجیکٹ، گلف پاور پراجیکٹ، ریشماں پاور پراجیکٹ، پتران ہائیڈل پاور پراجیکٹ، یونائیٹڈ انرجی پاور پراجیکٹ، پورٹ قاسم پاور پلانٹ، تربیلا IV توسیعی منصوبہ، چشمہ نیوکلیئر پاور پلانٹ ٹو، تھری اور فور، نیوکلیئر پاور پلانٹ کے ٹو اور کے تھری۔

ہسپتال (تعمیر/توسیع)

نواز شریف کڈنی اسپتال سوات، بہاولپور وکٹوریا ہسپتال، طیب اردگان ہسپتال مظفر گڑھ، چلڈرن ہسپتال فیصل آباد، ملتان کڈنی سینٹر، راولپنڈی انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی، شاہدرہ ٹیچنگ ہسپتال، برن سینٹر ملتان، پنجاب کے نئےٹیچنگ ہسپتال، کاہنہ ہسپتال لاہور، لیہ ڈی ایچ کیو ہسپتال میں لیب کا اضافہ، گورنمنٹ تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال سبزہ زار، مناواں ہسپتال لاہور، شہباز پی اے ایف بیس ہسپتال۔

ایئر پورٹ (تعمیر/توسیع)

نیو اسلام آباد ایئر پورٹ، رینوویشن ملتان ایئر پورٹ، رینوویشن فیصل آباد ایئر پورت، لاھور ایئر پورٹ ایکسٹینشن، تنصیب فوگ لائٹس لاھور/کراچی/اسلام آبادایئر پورٹس، نیوبرج انسٹالیشن لاھور/کراچی نیواسلام آبادایئرپورٹس۔

انفراسٹرکچر: (تعمیر/زیر تعمیر)

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ سڑکیں بنانے سے قومیں نہیں بنتیں، لیکن اسکول دور سے اب تک ہم پڑھتے آئے ہیں کہ سڑک تجارت کا سب سے سستا ذریعہ ہے۔ اور یہ معاشیات کی کتابوں میں لکھا ہوا ہے۔ دنیا بھر میں سربراہ مملکت سطح کی کانفرنسیں ہوتی ہیں “ترقی بذریعہ سڑک” کے عنوان سے.

ڈی آئی خان ژوب ھائی وے N-50، لاھور-عبدالحکیم موٹروے M-3، فیصل آباد- موٹروے M-4، ملتان-سکھرموٹروے M-5، سکھر-حیدرآبادموٹروے M-6، کراچی-حیدرآبادموٹروے M-9، لاھور-سیالکوٹ موٹروے، ھکلہ-ڈیرہ اسماعیل خان موٹروے، لیاری ایکسپریس وے(تیس فیصد)، گوادرپورٹ ایکسپریس وے، ‏گوادرپورٹ ایکسپریس وے ٹو، شاھدرہ-رچناٹاؤن ایکسپریس وے، حسن ابدال-مانسہرہ ھزارہ ایکسپریس وے، قراقرم ھائی وے(بحالی منصوبہ)، لوارئ ٹنل، لاھورایسٹرن بائی پاس، خادم اعلی رورل روڈ منصوبہ۔

ماس ٹرانزٹ/ٹرانسپورٹ: (تعمیر/زیر تعمیر)

لاھور میٹرو بس سسٹم، راولپنڈی/اسلام آباد میٹرو بس سسٹم، ملتان میٹرو بس سسٹم، ‏اسپیڈو بس سروس ملتان/بہاولپور/لودھراں/لاھور، اورنج لائن میٹرو ٹرین، کراچی گرین لائن ٹرانزٹ، اربن ٹرانسپورٹ سسٹم لاھور، 12 ریلوےاسٹیشنز کی تعمیرنو۔

تعلیم:

10 ہزار سولر سسٹمز کی اسکولوں میں تنصیب، دانش اسکولوں کا قیام، بارہویں جماعت تک مفت کتابیں اور تعلیم، نمایاں نمبرز حاصل کرنے والے طلباء کو ترکی اور یورپ میں اعلی تعلیم کے لیے وظائف، ہونہار طلبہ میں لیپ ٹاپ تقسیم، 50 نئے کالجز کا اضافہ، یونیورسٹیوں کا قیام۔

صنعت و زراعت:

4600 روپے میں فروخت ہونے والی کھاد کی بوری کی 1800 روپے میں فراہمی، کسانوں کو کھاد اور بیج کی خریداری کے لیے بلا سود قرضے، ٹیوب ویل کے لیے پچاس فیصد سستی بجلی، گرین ٹریکٹر اسکیم کے تحت کسانوں کو بلا سود آسان اقساط قرضے۔ صنعتوں کو بلاتعطل بجلی کی فراہمی۔ اور سی پیک صنعتوں کی ماں جیسے منصوبے کا آغاز۔

دفاع:

ضرب عضب، کراچی و بلوچستان آپریشن، سیکنڈ اسٹرائیک کا تجربہ، بین البراعظمی میزائل شاہین تھری کا تجربہ، پاکستان کے پہلے سیٹلائٹ PRSS-1 کی تیاری و تکمیل، نصر، ابابیل، براق، غوری تھری، وغیرہ کے تجربات۔ روس سے 30 جنگی ہیلی کاپٹروں کی خرید۔ اس کے علاوہ الخالد-2 ٹینک کی شروعات سمیت کئی دیگر آلات حربی جو اس وقت زیر تکمیل ہیں، سب کا خرچ حکومت پاکستان نے خود اٹھایا۔

متفرق:

بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لیے 100 ارب روپے سے زمین کی خرید، 200 نئی ایمبولینسز کا 1122 میں اضافہ، اس کے علاوہ ہیلی کاپٹر اور موٹر بائیک ایمبولینسز کی سہولت کا اجزاء، صحت کارڈ کا اجراء، 10 کروڑ پودے لگانے کی مہم کا آغاز اور چند ماہ میں 22 لاکھ پودے لگانے کا ریکارڈ، پنجاب فوڈ اتھارٹی کا قیام، پینے کے صاف پانی کے لیے جا بجا واٹر فلٹر پلانٹس کی تنصیب، 60 سال سے زائد عمر افراد کو ریلوے کرایوں میں 50 فیصد رعایت، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں 84 ارب روپے کا اضافہ، 31 ارب روپے کے “اپنا روزگار اسکیم” میں 50 ہزار گاڑیوں کی فراہمی جبکہ مزید ایک لاکھ گاڑیاں امسال فراہم کی جانی تھیں، “بلا سود قرضہ اسکیم” کے تحت ہنرمند افراد میں 10 ارب روپے کی تقسیم، ایل این جی درآمد کے لیے پورٹ قاسم پہ سسٹم کی تنصیب۔

اور ان سب کے ساتھ پچھلے 60 ارب ڈالر بیرونی قرض کی اربوں ڈالرز کی اقساط اور سود۔ جو پچھلے پانچ سالوں میں ادا کیا گیا۔ کیا اتنا سب کچھ اُن 6 ارب ڈالرز میں ہو پانا ممکن تھا جو 2013 میں پچھلی حکومت چھوڑ کر گئی؟؟؟ اور کیا صرف 21 ارب ڈالر میں یہ سب کر دکھانا بچوں کا کھیل لگتا ہے جو میاں محمد نواز شریف نے کر دکھایا؟؟؟

بے شک ڈالر کی قیمت 99 سے 118 ہوئی۔ مگر آخر کے چند ماہ میں اور اس کی وجہ شاید نواز شریف کی نا اہلی اسحاق ڈار اور فنانس ٹیم کی ڈسٹربنس جبکہ اس سے پہلے دو سے ڈھائی سال اسی مسلم لیگ نے ڈالر 98 سے اوپر بھی نہیں جانے دیا۔

یہ بات بھی سراسر جھوٹ کا پلندہ ہے کہ ملکی برآمدات میں کوئی کمی ہوئی ہے۔ درج بالا پروجیکٹس کی مشنری کی خریداری کی وجہ سے ہماری درآمدات البتہ ضرور بڑھی تھیں۔ سعودیہ میں پاکستانیوں کو دھڑا دھڑ نوکریوں سے نکالنے اور امریکی امداد بند ہو جانے سے ترسیلات زر مبادلہ میں نمایاں کمی ضرور آئی تھی۔ حالیہ بجٹ خسارہ انہی تمام اسباب کا ثمر تھا۔

مگر اب روٹی پک چکی ہے۔ ایئرپورٹس، بجلی گھروں اور موٹرویز نے اب کچھ لگوانا نہیں، بلکہ کما کے دینا ہے۔ ان کے لیے مشنری و آلات اب امپورٹ نہیں کرنے، بلکہ ان کے ذریعے ایکسپورٹس کو بڑھانا ہے۔ وہی پرانی درآمدات ہو جائیں گی تو بجٹ خسارہ بھی خود بخود کم ہو جائے گا۔ 21 ارب ڈالر لے کر نواز شریف نے اس ملک کو بگاڑا ہے یا سنوارا ہے اس کا فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں