214

پاکپتن: دوران حراست پولیس تشدد سے نوجوان ہلاک، اہلکاروں نے نعش نہر میں بہادی.

پاکپتن (بیورورپورٹ) دوران حراست مبینہ پولیس تشدد سے نوجوان کی ہلاکت کا واقعہ ڈی پی او عبادت نثار نے ایس ایچ او سمیت چھ اہلکاروں کو معطل کر دیاپولیس نے چھ اہلکاروں کو عارضی حراست میں لے لیاتفصیلات کے مطابق پاکپتن کے تھانہ صدر عارفوالا پولیس نے ڈکیتی کے الزام میں گرفتار نوجوان عباس کو حراست میں لے رکھا تھا دوران حراست پولیس کے مبینہ تشدد سے نوجوان جاں بحق ہوگیااہلکاروں نے کاروائی سے بچنے کے لئے نعش کو قریبی نہر میں پھینک کر ریسکیو کو اطلاع دی کہ ایک نعش گاؤں 65 ای بی کے قریب نہر سے ملی ہے جس پر ریسکیو نعش کو نہر سے نکال کر پولیس کے حوالے کردیامتوفی عباس کوگاؤں ہوتہ سے گزشتہ روز گرفتار کیا تھاعباس کا آبائی شہر حافظ آباد ہے مختلف وارداتوں میں مطلوب تھا نوجوان کی ہلاکت کیسے ہوئی وجہ پوسٹمارٹم کے بعد ہی معلوم ہوسکے گی نعش کو پوسٹ مارٹم کیلئے ہسپتال منتقل کر دیا گیامتوفی عباس تھانہ صدر عارفوالا پولیس حراست میں تھااس واقعہ پر ڈی پی او عبادت نثار نے نوٹس لیتے ہوئے ایس ایچ او محمد منشا سمیت چھ اہلکاروں کو معطل کر دیاترجمان پولیس کے مطابق اہلکاروں کو عارضی حراست میں لے لیا گیاورثاء سے رابطہ کیا گیا ہے ان سے درخواست ملتے ہیں مقدمہ درج کر لیا جائے گامقدمہ میں نامزد پولیس اہلکاروں کو فوری گرفتار کر لیا جائیگا جبکہ باقی اہلکاروں کو عارضی حراست سے ریلیز کر دیا جائیگا ڈی پی او عبادت نثار کا کہنا ہے کہ واقعہ میں ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت کاروائی کی جائیگی.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں