280

رمضان المبارک اور انسانی صحت…..(محمد شہزاد منظور.نیوٹریشنسٹ)

تحریر: محمد شہزاد منظور(نیوٹریشنسٹ )

اللہ تعالیٰ کا جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے کہ اس غفورالرحیم ذات نے زندگی میں ایک بار پھر رمضان المبارک کی نعمتِ عظمیٰ سے نوازا ہے۔ یہ رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ اپنے روحانی فیوض و برکات کے ساتھ ساتھ انسانی صحت کے لیے بھی شفا کا خوش کن پیغام لے کر آتا ہے۔

یہ مبارک مہینہ انسانی صحت کے لیے نعمتِ خداوندی ہے۔ سال بھر غذائی بے اعتدالی سے جو امراض جنم لیتے ہیں، اگر ایک مہینہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کھانے پینے کا جو ’’خدائی شیڈول‘‘ طے ہوتا ہے، اگر اعتدال کے ساتھ اختیار کرلیا جائے تو ایسے امراض جو علاج اور دواؤں سے ٹھیک نہیں ہوتے، وہ اللہ کے فضل اورروزوں کی برکت سے بغیر دوائی کے جان چھوڑ جاتے ہیں۔

چند اہم امراض جو روزوں کی برکت سے ختم ہوجاتے ہیں:

1- موٹاپا

ہمارے ہاں کھانے کا یہ اصول کہ خوردن برائے زیستن (اتنا کھائو جس سے زندہ رہ سکو) کے بجائے زیستن برائے خوردن (زندگی کھانے پینے کے لیے ہے) مقصدِ حیات بن چکا ہے۔

خوش خوراکی ایک اچھی عادت ہے لیکن اس سے مراد ہرگز بسیار خوری نہیں، بلا ضرورت کھانا، بے وقت کھانا، خصوصاً شادی اور تقاریب کے موقع پر اس طرح کھانا کہ شاید زندگی میں پہلی دفعہ کھانا ملا ہے، دوبارہ نہ ملے۔ کھانے میں مرغن اور مسالہ دار غذاؤں کا کثرت سے استعمال۔ فاسٹ فوڈ کے نام پر برگر، پیزا (Pizza)، ڈبل روٹی، نان، اور بریانی کا کثرت سے استعمال۔ کھانے کے بعد کسی قسم کی ورزش نہ کرنا، پیدل چلنے سے گریز، رات دیر سے کھانا کھا کر سوجانا۔ خصوصاً عورتوں میں مرغن کھانوں کے استعمال کے بعد کسی بھی قسم کی ورزش کے مواقع کا میسر نہ ہونا۔ جسم میں چربیلی اجزا کے جنم لینے سے موٹاپا جیسے خطرناک مرض میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔

موٹاپے کی وجہ سے کئی دیگر امراض بلڈ پریشر، شوگر، بانجھ پن، اختلاخِ قلب جنم لیتے ہیں۔ روزے کی برکت سے موٹاپے کا فطری علاج اور وزن میں واضح کمی بغیر کسی دوا کے فطری طور پر ہوتی ہے۔ جب انسان کے معدہ کو خوراک نہ ملے، بھوک اور پیاس تنگ کریں تو طبی تحقیق کے مطابق غیر طبعی شحمی اجزا ازخود تحلیل ہوکر خوراک کا کام دیتے ہیں۔ اگر انسان خشک اور سادہ روٹی پر اکتفا کرے تو موٹاپے کا علاج رمضان المبارک میں بڑی آسانی سے ممکن ہے۔

2۔ کولیسٹرول کا خاتمہ

آج کے ترقی یافتہ دور میں خون کے اندر شحمی اجزا جو خون کی گردش کو رواں رکھنے میں معاون اور ضروری ہیں اُن کی مقدار توازن سے بڑھ جاتی ہے۔ جدید طبی اصول کے مطابق ایک صحت مند آدمی میں کولیسٹرول کی مقدار کم سے کم 150 اور زیادہ سے زیادہ 200 کے درمیان ہونی چاہیے، مگر دیکھا گیا ہے کہ کولیسٹرول کی مقدار بعض لوگوں میں 250 سے بھی زیادہ ہوتی ہے اور انہیں علم نہیں ہوتا کہ کتنے خطرناک مرض میں مبتلا ہیں۔ کولیسٹرول بڑھنے کی عام علامت یہ ہے کہ انسان جب پیدل چلتا ہے، خصوصاً جب سیڑھیاں چڑھتا ہے تو اُس کا سانس پھول جاتا ہے، گردن کے قرب و جوار میں کندھوں پر بوجھ محسوس ہوتا ہے، دل کے مقام پر بوجھ اور درد کا احساس ہوتا ہے۔ اگر انسان چلتے میں یہ کیفیت محسوس کرے اور رک جائے، سیڑھیوں پر ٹھہر جائے تو یہ کیفیت ختم ہوجاتی ہے۔ جب بھی ایسے مریض کا خون چیک کرایا جاتا ہے تو تصدیق ہوجاتی ہے کہ اس کا کولیسٹرول بڑھ چکا ہے۔ امراضِ قلب کے ماہرین کولیسٹرول کے بڑھنے کو ہارٹ اٹیک کا پیش خیمہ قرار دیتے ہیں۔

ایسے مریض جو مسلسل کولیسٹرول کو کم کرنے یا کنٹرول کرنے کے لیے ادویہ کا استعمال کرتے ہیں، رمضان المبارک کی برکت سے تھوڑی سی محنت کرکے اس مرض سے مکمل نجات پا سکتے ہیں۔ بھوک اور پیاس کی وجہ سے زائد از ضرورت کولیسٹرول (شحمی اجزا) جو مرض کا باعث بنتے ہیں، تحلیل ہوتے ہیں، بدن میں حرارت اور قوت کو برقرار رکھنے کا ذریعہ ثابت ہوتے ہیں، اور یہ خطرناک مرض اللہ کی رحمت سے ختم ہوجاتا ہے۔ ان ایام میں اگر یہ چٹنی بطور دوا استعمال کی جائے تو زیادہ جلد نتیجہ سامنے آتا ہے۔

ہوالشافی:

تازہ ادرک 15گرام، تھوم تازہ دس بارہ تُریاں، زرشک شیریں ایک چھٹانک، تازہ پودینہ 30گرام, تازہ دھنیا20 گرام، اناردانہ 20 گرام… سب کو رگڑ کر چٹنی تیار کرلیں۔ خوش ذائقہ غذا اور کولیسٹرول کے خاتمے کی مؤثر دوا ہے۔

3۔ معدہ کی تیزابیت اور جلن:

اکثر مریض ہسپتال آکر شکایت کرتے ہیں کہ کھانے کے بعد ان کے معدہ میں گرانی ہوجاتی ہے۔ بعدازاں غذا کی نالی میں حلق تک جلن، کھٹی اور جلن پیدا کرنے والی ڈکاریں تنگ کرتی ہیں۔ اگر اس مرض پر توجہ نہ دی جائے تو معدہ کا السر ہوسکتا ہے۔ معدہ کی جلن اور تیزابیت درحقیقت موجودہ دور کی غذائی بے اعتدالی، نئی نسل میں سہل انگاری، آرام طلبی، جسمانی مشقت کی کمی، اور غذائوں میں ثقیل، مرغن، دیر ہضم غذائوں کا کثرت سے استعمال اس کا بنیادی سبب بنتے ہیں۔ رمضان المبارک کی برکت سے کھانے پینے کے اوقات اور خور و نوش میں اعتدال پیدا ہوتا ہے، معدہ کی غیر طبعی رطوبات میں کمی اور اعتدال پیدا ہوتا ہے، جس کی وجہ سے معدہ کی جلن اور تیزابیت کا بغیر علاج اور دوا کے استعمال کے، فطری علاج ہوتا ہے۔ برسوں کا علاج اور ادویہ کا استعمال ایک طرف، روزے کی برکت سے نجات دوسری طرف! روزہ علاج پر بھاری قرار دیا جا سکتا ہے۔

تیزابیت کی یہی کیفیت تبخیر معدہ کی صورت اختیار کرتی ہے۔ مریض شکایت کرتا ہے کہ کھانے کے بعد اس کے پیٹ میں ہوا بھر جاتی ہے۔ انتہائی صورت میں بے جا ڈکار، اپھارہ اور اکثر اوقات اختلاجِ قلب، سرکا بھاری ہونا، بعض اوقات بلڈ پریشر کے بڑھنے کا خدشہ ہوتا ہے۔ جوں ہی کسی دوا یا قہوہ کا استعمال کیا جاتا ہے یہ کیفیت ختم ہوجاتی ہے۔ روزہ ایسے امراض کا فطری علاج ثابت ہوتا ہے۔

4- بلڈ پریشر کا خاتمہ:

ہمارے ہاں اکثر بلڈ پریشر کے مریض حقیقت میں بلڈ پریشر کے مریض نہیں ہوتے، بلکہ اکثر اوقات مرغن اور مسالہ دار غذائوں، پیٹ میں ریاح پیدا کرنے والی غذائوں، پائے، بھنڈی، توری، گوبھی، ماش کی دال، انڈوں، مچھلی کا بے جا استعمال، تیز کافی، چائے یا قہوہ کا استعمال وقتی طور پر خون کی گردش کو تیز کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ معدہ کا اپھارہ یا تبخیر بھی سر کی گرانی اور بلڈ پریشر کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔ معالج کا یہ کام ہے کہ مستقل فشارالدم (بلڈ پریشر) اور اس عارضی کیفیت میں فرق کرے۔ جب ایک مرتبہ بے احتیاطی سے بلڈ پریشر کی دوا شروع کردی جاتی ہے تو لوگ عادتاً بغیر ضرورت کے بھی دوا استعمال کرتے ہیں جو دوسرے کئی امراض کو جنم دیتی ہے۔ جب روزے کی برکت سے کھانے پینے میں اعتدال، مناسب وقفہ اور بے جا غذائی بار معدہ پر کم ہوتا ہے تو بلڈ پریشر کی یہ کیفیت ختم ہوجاتی ہے اور روزہ بلڈپریشر کو اعتدال پر لانے اور ختم کرنے کا ذریعہ ثابت ہوتا ہے۔

یورپ میں آج کل ایسے امراض جن کا کسی دوا سے علاج ممکن نہیں، کے علاج کے Fasting Home بنائے گئے ہیں، جہاں ایسے مریضوں کو جنہیں لا علاج قرار دیا جاتا ہے، داخل کیا جاتا ہے۔ ان کے کھانے پینے پر طبی پابندی لگا دی جاتی ہے، مریضوں کو طے شدہ اوقات میں ٹھوس غذا کے بجائے پھلوں کے جوس، دودھ اور کبھی کبھار دلیہ دیا جاتا ہے۔ کچھ ہی دنوں کے بعد بھوک اور پیاس کا یہ ’’علاج‘‘ ان کی ردی رطوبات تحلیل کردیتا ہے اور مریض صحت کی طرف لوٹ جاتا ہے۔

امتِ مسلمہ کو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے سال میں ایک ماہ کی یہ ٹریننگ ان کے روحانی اور جسمانی علاج کے لیے عطا کردی ہے۔ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے ہاں روزہ شروع ہوتے ہی روزہ خور حضرات ’’موسمی امراض‘‘ کا شکار ہوتے ہیں اور جوں ہی رمضان ختم ہوتا ہے یہ امراض بھی ختم ہوجاتے ہیں۔ وہ بدنصیب یہ بھول جاتے ہیں کہ روزہ نماز کی طرح فرض ہے، بیماری کی حالت میں اگر کوئی روزہ چھوٹ جائے تو بعد میں پورا کرنے کا حکم ہے۔

شوگر اور دردِ گردہ کے مریض پانی کی کمی یا خوراک کی کمی سے بعض اوقات روزہ ترک کردیتے ہیں۔ درحقیقت روزے کا تعلق سحری و افطار کے علاوہ انسان کی قوتِ ارادی (Will Power) سے بھی ہے۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے حکم سے روزے کو ترک یا مؤخر نہ کرنے کا ارادہ کرلیتے ہیں وہ شوگر اور گردہ کے امراض کے ساتھ روزے کے سمندر میں چھلانگ لگاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی مدد سے ساحلِِ مراد تک پہنچ جاتے ہیں، بلکہ روزے کی برکت سے وہ صحت کا انمول تحفہ اللہ کے احسان کے طور پر وصول کرتے ہیں۔ اللہ کا وعدہ روزہ دار کے لیے برحق ہے۔ کاش ہم انسان صحت کے لیے روزہ کی افادیت کو کیش کرا سکیں۔

رمضان کے لئے ایک اچھا اور صحت مند غذائی پلان

اکثر دیکھا گیا ہے کہ روزہ کھانے کے اوقات میں تبدیلی کا سبب بنتا ہے. خوراک ، صبح اور شام کے اوقات میں بٹ جاتی ہےاور اس وجہ سے جسم کے میٹابولزم میں حیرت انگیز تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں.رمضان میں کچھ لوگوں کو دن کے وقت تکلیف کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے. تاہم، کھانے کے دوران مناسب غذائیت کا استعمال کرتے ہوئے اچھی صحت برقرار رکھی جا سکتی ہے۔

رمضان کے دوران ایک صحت مند اور محفوظ روزہ رکھنے کےلیے کچھ مندرجہ ذیل تجاویز قابلِ غور ہیں:

اپنے کھانے کو تین اوقات میں تقسیم کریں۔
روزہ شروع ہونے سے پہلے مطلب “سحر”۔یہ صبح کے ناشتے کی اہمیت رکھتا ہے
روزہ ختم ہونے کے بعد،مطلب “افظار”۔یہ درمیان میں کھانے کی اہمیت رکھتا ہے
رات کے وقت کا کھانا
رمضان میں سحری کے دوران ریشہ دار غذاوں کا استعمال زیادہ کر دینا چاہئے ۔اپنی خوراک میں کاربوہائیڈریٹ سے بھر پور اشیا ء شامل کریں جیسےکہ اناج اور بیجوں کا استعمال بڑھا دیں. مثال کے طور پر، پوری گندم روٹی، بھوری چاول، دال، پھلیاں، پھل اور سبزیوں کو کھانے میں ترجیح دیں ۔

یہ رحجان زیادہ مفید ہے کہ فائبر سے بھر پور اشیاء پیٹ کے بھرے ہونے کا احساس دلاتی ہیں اور جسم میں گلوکوز کی سطح کو برقرار رکھتی ہیں. اس کے علاوہ سستی کو دور کرتی ہیں اور جسم کی فعال نقل و حرکت کی ضامن ہیں .

روزے کی دوران ہمارے معدے میں سے ایک ایسڈ خارج ہوتا ہے، جو تیزابیت کا سبب بنتا ہے۔ اس سے جسم میں بے چینی کا احساس بھی پیدا ہوتا ہے۔ فائبر سے بھری غزائیں اس تیزابیت کو زائل کرتی ہیں اور درد کو ختم کرتی ہیں (یاد رکھیے کہ فائبر کے ساتھ ساتھ پانی اور مائع چیزوں کا استعمال بڑھا دیں تاکہ آپ کوپیٹ میں گیس کا مسئلہ نہ ہو)

افطار کے دوران عمومی طور پر کھجوریں اور مشروبات کا استعمال کیا جاتا ہے۔ روزہ کھولتے وقت تین کھجوریں اور 4 اونس (تقریباَ 2 گلاس) مشروب، گلوکوز کی کمی کو پورا کرنے کے لیے کافی ہے۔ یہ جسم کو گلوکوز کی کمی (جسے سائنسی زبان میں ہائپو گلایسیمیا کہتے ہیں ) سے بچاتا ہے اور فوری انرجی کا زریعہ ہے، مزید یہ کہ انسان میں پانی کی کمی بھی وقوع پزیر نہی ہوتی ہے۔ رمضان میں ڈیپ فرائی اور تلی ہوئی اشیاء کی جگہ بیک اور گرل کی ہوئی خوراک کا استعمال کریں اور جتنا ممکن ہو سکے گھی اور تیل سے پرہیز کریں۔

گوشت کے استعمال میں بھی سمجھداری کا مظاہرہ کریں۔ گوشت کا وہ حصہ استعمال کریں جس میں چربی کی مقدار کم سے کم ہو۔ مرغی کو اچھی طرح صاف کریں اور پکانے سے پہلے تمام دکھائی دینے والی چربی اتار لیں۔ سحر اور افطار میں ملنے والے کھانے کو آہستہ آہستہ اور چبا چبا کر کھائیں کیونکہ پھر آپ کو پورا دن کچھ بھی نہیں کھانا ہوتا اور ہمارے جسم کا یہ نظام ہے کہ آہستہ کھانے سے وہ اس خوراک کو کافی وقت کے لیےاستعمال کرتا ہے اور خوراک چربی بنانے کی بجائے خون میں شامل ہوتی ہے۔ یاد رکھئیے کہ دماغ کو یہ باور کروانے میں کہ اب معدہ مکمل کھانے سے بھر چکا ہے، 20 منٹ لگتے ہیں، اس لیے مناسب قدم یہ ہے کہ کھانے کو آہستگی سے بیس منٹ کے دورانیئے میں کھایا جائے اور پلیٹ میں پہلے تھوڑا کھانا ڈالا جائے، مزید گنجائش ہو تو اور بھی ڈال لیا جائے۔

تاہم اگر آپ نے کھانا زیادہ کھا لیا ہے تو خون کی گردش زیادہ تر آپ کے معدے کی طرف ہو گی نہ کہ آپ کے پٹھوں کی طرف اس لیے کھانے کے فوراَ بعد تیز رفتاری سے چلنا آپ کے لیے بلکل مفید نہی ہے۔ کسی بھی جسمانی مشقت سے بھرپور ورزش کے لیے ایک سے دو گھنٹے اجتناب کریں۔ اس کا بہتریں حل یہ بھی ہے کہ آپ اپنی خوراک کا خیال رکھیں اور ہلکا پھلکا کھانا کھائیں۔ جتنا ہو سکے اتنا پانی پیئیں۔ آپ کی صحت کے لیے یہ بہت ہی بہتر.

“سحری میں دہی اور خشک روٹی کا استعمال دن بھر پیاس سے دور”

دنیا بھر کے مسلمان اس خاص مہینے کے لیے اہتمام کرتے ہیں سحری اور افطاری کے لیے خصوصی تیاریاں کی جاتی ہیں جبکہ گرم موسم کی وجہ سے پاکستان اور ایشیا کے دیگر ممالک میں روزہ رکھنا صرف اللہ کی دی ہوئی ہمت کی وجہ سے ہوتا ہے۔ 40 ڈگری سے اوپر کے درجہ حرارت میں دن بھر بھوک اور پیاس سے بچنے کا واحد حل یہی ہے کہ سحری میں ایسی غذائیں استعمال کی جائیں جو آپ کو دن بھر پیاس نہ لگنے دیں۔ یہاں ہم ذکر کریں گے ایسی ہی چند خوراکوں کا جو پیاس کے خلاف لڑنے میں آپ کی مددگار ہوں گی.

دہی

دہی کا استعمال دن بھر پیاس نہیں لگنے دیتا اس میں موجود پروٹین، وٹامن بی 12اور زنک دن بھر آپ کو توانائی پہنچاتے ہیں اور ڈی ہائیڈریشن سے بچاتے ہیں۔

خشک روٹی

سحری میں بجائے پراٹھے کے خشک روٹی کا استعمال کیا جائے تا کہ معدہ ہلکا رہے اور میٹا بولزم نارمل رہے۔ پراٹھا کھانے سے آپ دن بھر پیاس سے نڈھال رہیں گے۔

الائچی کا قہوہ

اگر اآپ چائے کے شوقین ہیں اور دن بھر روزے کے باعث چائے استعمال نہیں کر سکیں گے تو سحری میں چھوٹی سبز الائچی کا قہوہ ضرور پئیں یا کم از کم چائے میں الائچی ضرور شامل کر لیں۔

میٹھے کا کم استعمال

چائے، دہی اور دیگر اشیا میں میٹھا یا تو استعمال نہ کریں یا اس کی مقدار بہت کم کردیں۔ زیادہ میٹھے کا استعمال آپ کو زیادہ پیاس لگنے کا سبب بنے گا۔

املی آلو بخارے کا شربت

خشک آلو بخارا اپنی ٹھنڈی تاثیر کے باعث بہت مشہور ہے اور اگر اس ک ساتھ املی ملا کر اسے رات بھر بھگو کر رکھا جائے اور اس کے بعد سحری میں اس کوگرائنڈ کرنے کے بعد چھان کر اس کا جوس (نمک اور چینی حسب ذائقہ استعمال کر کے) پینے سے نہ صرف آپ کا معدہ بہت اچھا ہو گا بلکہ یہ گرمی مارنے کا باعث بھی بنے گا۔

تلی چیزوِں سے پرہیز

رمضان المبارک میں سحری کے اوقات میں تلی ہوئی چیزیں اور آملیٹ، پراٹھے استعمال کرنے سے گریز کریں تا کہ صحت کے ساتھ ساتھ آپ کی غزائیت بھی پوری ہوتی رہے۔ اس کے ساتھ ہی کسی نہ کسی پھل کو ضرور سحری میں کھائیں.

کھجور میرے حضور!!

کھجوروں میں میری سب سے پسندیدہ ایران کی مضافاتی کھجور ہے۔ اس کا چکنا بے شکن چھلکا اور انتہائ میٹھا ذائقہ اسے دوسری کھجوروں سے ممتاز کرتا ہے۔ یہ کھجور انتہائی نرم اور صاف ستھری نظر آتی ہے۔ نیم گرم دودھ کے ساتھ یہ ایک مکمل اور متوازن غذا بن جاتی ے۔ پانچ عدد مضافاتی کھجوریں اور ایک گلاس دودھ بہترین ناشتہ ہے۔

پاکستان میں, ماہ رمضان میں مضافتی کھجور بہت زیادہ فروخت ہوتی ہے. اس کھجور کی تیاری میں ایران کا نسخہ استعمال ہوتا ہے. اس طریقے میں کھجور بھی شیرے میں ﮈال کر نرم کردی جاتی ہے. عموما یہ کھجور صبح ناشتے میں نان کے ساتھ کھائی جاتی تھی اور اس کے بعد قہوہ ہوتا تھا. کچھ علاقوں میں آب علی کا بھی رواج تھا. آب علی لسی کی ایک قسم ہے جو انتہائی کھٹی ہوتی ہے. ترش لسی اور میٹھی کھجور کے کمبینیشن کی نسبت ایرانی ہی بتاسکتے ہیں.

پاکستان میں اصیل اور بیگم جنگی اپنی غزائیت کے اعتبار سے اعلی تصور ہوتی ہیں جبکہ ﮈیرہ اسماعیل خان کی ﮈھکی کی کھجور کا متبادل دنیا بھر میں نہیں دکھا.

یہ کھجور انگلی سے لمبی, انگوٹھے سے موٹی اور قدرتی طور پر اس قدر شیرے دار ہوتی ہے کہ چند کھجوروں کا شیرہ ایک کپ بھر دیتا ہے. اس میں فائبر بہت زیادہ ہوتا ہے. ہم چار/ چھ کھجوریں اور ایک تندوری نان سے ناشتہ کرتے تھے. پھرسارا دن کھانے کی حاجت نہیں ہوتی تھی. یہ کھجور بازار میں فروخت ہوتے نہیں دیکھی ۔ شاید اس کے شیرے کی زیادتی کی وجہ سے۔ نہ ہی اس کھجور کو ملک کے کسی اور حصے میں اگانے کی کوشش کی گئ۔

اہم بات یہ ہے کہ کھجور کو چباکر کھاجائیں تو تقریبا دو سو کلوریز ملتی ہیں جبکہ کھجور یا چھوارے کو منہ میں چوستے رہیں تو ایک چھوارہ تین ہزار کلوریز دیتا ہے. آغاز اسلام کے غزوات میں یہی طریقہ سارے دن کی توانائی کے لیے مستعمل تھا. یعنی نینو پارٹیکلز میں کھجور کی توانائی بہت زیادہ ملتی ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں