194

سمبڑیال: رمضان المبارک، لوڈ شیڈنگ، درجہ حرارت میں اضافہ سرکاری ونجی سکولوں میں ننھے پھول مرجھانے لگے. متعدد بچے بے ہوش.

سمبڑیال (خصوصی رپورٹ) رمضان المبارک کے آغاز کے ساتھ ہی لوڈشیڈنگ اور درجہ حرارت میں اضافے سے سرکاری و نجی سکولوں میں ننھے پھول مرجھانے لگے، متعدد سرکاری و نجی سکولوں میں گرمی و حبس سے بچوں کے بے ہوش ہونے کی اطلاعات ضلعی افسران کا ائیر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر اعلی افسران کو سب اچھا کی رپورٹ والدین کی اعلی حکام سے رحم کی اپیل۔ تفصیلات کے مطابق رمضان المبارک کے شروع ہوتے ہی ایک طرف بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے جہاں سکولوں میں تعلیمی و تدریسی سرگرمیاں متاثر کی ہیں وہاں سورج کے آگ برسانے سے اساتذہ اورطلبا وطالبات کی روزہ کی حالت میں شدید گرمی برداشت کرنا مشکل ہو گیا. جب کہ دوسری طرف موسمیاتی وتغیراتی تبدیلیوں سے مختلف اقسام کی بیماریاں پھیلنے کا خدشہ بڑھ گیا جس کی وجہ سے والدین نے موسم گرما کی قبل ازوقت چھٹیوں کا مطالبہ کردیاہے۔ بجلی کی غیر اعلانیہ بندش اورسرکاری سکولوں میں یوپی ایس اور جنریٹر کی عدم دستیابی کے باعث ننھے طالب علم شدید گرمی اور حبس میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ بد قسمتی سے سمبڑیال کے بیشتر سرکاری ونجی سکولوں میں چھوٹے بچوں کے لئے رمضان المبارک کی وجہ سے ٹھنڈے پانی کے کولرزکی عدم دستیابی کی وجہ سے طلبہ پانی گھروں سے لانے پر مجبور ہیں جب کہ لوڈشیدنگ کی وجہ سے شدید گرمی اورحبس کے باعث بچوں میں نکسیرپھوٹنے اور بے ہوش ہونے کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے، نیز ان حالات سے بچوں کے والدین شدید پریشانی کے عالم میں اپنے بچوں کو سکولوں میں بھیجنے سے ہچکچارہے ہیں۔ ادھرسمبڑیال کے سرکاری ونجی سکولوں میں اساتذہ و ننھے طلبہ کی حاضری میں شدید کمی آ رہی ہے۔ علاوہ ازیں بجلی کی بدترین لوڈشیدنگ سے حالات اس نہج پرپہنچ چکے ہیں کہ طلبا وطالبات متعدد سکولوں کے کلاس رومز میں جگہ کم اور طلبہ زیادہ ہونے کے باعث شدید گرمی اور حبس میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ گلی محلوں میں قائم پرائیویٹ سکولوں میں بھی ننھے طالب علموں کوایسی ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے لیکن نجی سکولوں کی انتظامیہ بہترین سہولتیں دینے کی بجائے بچوں کے والدین سے گرمیوں کی چھٹیوں کی فیسیں جمع کروانے کے نوٹس بھی جاری کردیے گئے ہیں۔ والدین نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب حالات کودیکھتے ہوئے مئی کے آغازمیں ہی چھٹیوں کا اعلان کردیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ موسم کی شدت کے پیش نظرحکومت کو چاہیے کہ وہ سرکاری سکولوں میں لوڈشیڈنگ کی صورت میں چھوٹے بچوں کے لئے ٹھنڈے پانی کے کولرزسمیت متبادل انتظامات کو یقینی بنائے۔ ادھر گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی سرکاری سکولوں میں طلباوطالبات کی غیر حاضری بھی بڑھنے لگی۔ والدین نے اعلی حکام سے 10 مئی سے سکولوں میں موسم گرما کی تعطیلات کا اعلان کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں