196

پاکپتن: تھیلیسیمیا کے متاثرہ بچوں کو جہاد فارزیرو تھیلیسیمیا اور انجمن فلاح مریضاں عید سے قبل گفٹ تقسیم کرے گی. ناظم حسین تابلو.

پاکپتن (خرم شہزاد سے) تھیلسیمیا لاعلاج مرض ہے اس سے جنگ نا ممکن نہیں مگردفاع ہو سکتا ہے. ملک میں پانچ لاکھ سے زائد بچے تھلسیمیاں کا شکار ہیں خاتمہ کیلئے حکومتی اقدامات کے باوجود نچلی سطح پہ کچھ نہیں ہوسکا اور نتیجہ میں ہم علاج کرنے کی بجائے قابو پانے میں بھی ناکام ہوتے چلے جارہے ہیں حکومت پاکستان نے تھلسیمیاں کی روک تھام اور علاج معالجہ کیلئے صرف وفاقی یا صوبائی سطح پر ہی نہیں ضلعی سطح تک نمٹنے کا فیصلہ کیا مگر افسوس کہ عمل درآمد کاغذی کاروائیاں اور فوٹو سیشن تک ہی رہا، ان خیالات کا اظہارجہاد فار زیرو تھیلسیماکے چیپٹر کوارڈنیٹرناظم حسین تابلو نے تھیلسیما کے عالمی دن کے موقع پرصحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیاانہوں کہا کہ پاکستان کے مختلف کالجز اور یونیورسٹیوں میں جہاد فارزیرو تھیلسمیا کے چیپٹرز کام کر رہے ہیں. تھیلسمیا کے مریض بچوں کوخون کا عطیہ دینے کے ساتھ اگاہی مہم اور وژن20/20جس میں تھیلسیما کے مریض بچوں کی فیملی کی سکرینگ پر کام کر رہے ہیں. پاکپتن چیپٹر میں انجمن فلا ح مریضاں اور جہا د فار زیرو تھیلسیما اس عید سے پہلے مریض بچوں کیلئے نئے کپڑے اور انکی فیملی کو راشن کا اہتمام کیا جارہا ہے. اس موقع پر انجمن فلاح مریضاں کے صدر ڈاکٹر شاہد مرتضی چشتی جنرل سیکرٹری وقار فرید جگنو نے کہا کہ تھیلسیماکے مریض بچوں کی فیملی سکرینگ اور اگاہی مہم کے پروگرام کو ترتیب دیا جا رہا ہے.

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں